بندر کا قاضی

بندر کا قاضی


ایک بادشاہ نے اپنے خاص دوست کی درخواست پر اس کے کم پڑھے لکھے بیٹے کو عدل و انصاف کا وزیر یعنی قاضی بنا دیا۔ وہ نوجوان زیادہ تر فیصلے سِکّہ اُچھال کر یا خوابوں کی تعبیر پر کرتا، جس سے ریاست میں انصاف کا نظام بری طرح متاثر ہو رہا تھا۔
ایک روز پڑوسی سلطنت کے بادشاہ کا بیٹا، ایک اہم معاہدے پر بات چیت کے لیے، اس بادشاہ کی ریاست میں آیا۔ اس شہزادے نے اپنے قیام کے دوران ریاست کے عدالتی نظام کا جائزہ لینا چاہا۔ بادشاہ نے اپنے نئے قاضی کو دربار میں بلایا اور آنے والے مہمان شہزادے کے سامنے اپنے کام کا شاندار مظاہرہ کرنے کا حکم دیا۔
قاضی نے ایک پرانے اور پیچیدہ زمین کے جھگڑے کا معاملہ اپنے سامنے رکھا۔ اس نے سارا حال سنا اور کہا، “میں اس معاملے میں رات کو الہامی خواب دیکھوں گا اور پھر فیصلہ کروں گا۔”
شام کو بادشاہ اور مہمان شہزادہ شہر کی سیر کو نکلے تاکہ ریاست کی خوشحالی کا منظر دکھا سکیں۔ راستے میں انہیں ایک ادھیڑ عمر کا مداری دکھائی دیا جو سڑک کے کنارے اپنا تماشا دکھا رہا تھا۔ اس کے پاس ایک عجیب و غریب بندر تھا جو درخت پر چڑھ کر وہاں سے پتھروں، شاخوں اور مٹی کے ڈھیلوں کو دیکھ کر نہایت غور و فکر کے بعد انہیں نیچے پھینک رہا تھا، اور مداری نیچے کھڑا زور سے آواز لگا رہا تھا: “ہمارا بندر فیصلہ کر رہا ہے! اس کی پیشین گوئی کبھی غلط نہیں ہوتی!”
بادشاہ نے حقارت سے منہ بنایا، “اَوئے مداری! تم اس احمق بندر کو عالم فاضل بنا کر پیش کر رہے ہو؟ ہمارے پاس ملک کا باقاعدہ قاضی ہے جو رات کو خواب میں الٰہی اشارے پا کر فیصلے کرتا ہے!”
مداری نے جھک کر سلام کیا اور احترام سے کہا، “حضور! سلامت رہو! کہاں عالی جاہ کا عقلمند قاضی اور کہاں ہمارا جنگل کا رہنے والا بندر! بس حضور، میرا تو یہ تجربہ ہے کہ اگر میرا یہ بندر کسی بات پر پریشان یا غصے میں ہو تو وہ خاموش ہو کر درخت پر الٹا لٹک جاتا ہے اور اپنے سر کو زور سے جھٹکے دیتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ نیچے زمین پر کوئی بڑی ناانصافی ہونے والی ہے اور معاملہ بہت خراب ہے۔ یہ اس کی بےچین فطرت کی علامت ہے، اور یہ کبھی غلط ثابت نہیں ہوئی۔”
بادشاہ نے اس مداری کو سخت سست کہا اور اسے وہاں سے دفع ہونے کا حکم دے کر آگے بڑھ گیا۔
اگلے روز دربار لگا۔ قاضی نے رات کا خواب سنایا اور اس کی بنیاد پر جھگڑے کا فیصلہ سنا دیا۔ لیکن یہ فیصلہ اتنا غلط اور ناانصافی پر مبنی تھا کہ مظلوم فریق بے اختیار رو پڑا، اور سارا دربار اور یہاں تک کہ مہمان شہزادہ بھی حیران رہ گیا۔ اسی وقت باہر سے مداری کی گدھ گدھ کی آواز آئی۔ اس کے ساتھ ہی ایک مصاحب نے دربار میں اطلاع دی کہ شہر میں لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا ہے کیونکہ مداری کا بندر درخت پر الٹا لٹک کر اپنا سر زور سے جھٹکے دے رہا ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ کوئی بڑی مصیبت آنے والی ہے۔
بادشاہ فوراً سمجھ گیا کہ مداری کے بندر کا اشارہ کس طرف تھا۔
اس نے فوراً اپنے قاضی کو اس کے عہدے سے برطرف کیا اور اسی وقت مداری کو اس کے بندر سمیت دربار میں طلب کیا۔ بادشاہ نے قاضی کی کُرسی خالی کرائی اور اُس بندر کو انصاف کے منصب پر رکھ دیا۔
بادشاہ نے مداری سے کہا، “تم اپنے بندر کو ہماری سلطنت کا چیف جسٹس بنا دو! اب یہی انصاف کرے گا!”
مداری ہاتھ جوڑ کر بولا، “عالی جاہ! میرا بندر تو صرف ایک جنگلی جانور ہے، اسے عدل و انصاف کی گہرائیوں کا کیا پتا؟ یہ کیسے سلطنت کا قاضی بن سکتا ہے؟”
بادشاہ مسکرایا اور بولا، “یہ میرے پرانے قاضی سے تو یقیناً بہتر ہی فیصلہ کرے گا! کم از کم ناانصافی ہونے پر یہ الٹا لٹک کر سر تو جھٹکے گا اور ایک واضح نشانی تو دے گا!”
بادشاہ نے مداری کو انعام دے کر رخصت کیا اور دربار کے مصاحبوں کو حکم دیا کہ وہ بندر کا ایک عالیشان پنجرہ بنائیں اور اس کے سامنے ایک چاندی کی تختی لگا دیں جس پر لکھا ہو: “چیف جسٹس بندر، جس کا انصاف خاموش ہے مگر اس کا سر جھٹکنا ایک واضح فیصلہ ہے!”
نتیجہ: نااہل انسان سے، باصلاحیت حیوان بہتر ہوتا ہے!

منقول

Leave a Reply

NZ's Corner