تاریخ 😁

تاریخ 😁

پرانے وقتوں کے لوگ انتہائی سادہ ہوا کرتے تھے۔ اتنے سادہ کہ تاریخ معلوم کرنے کے لیے محلے کے میاں جی کے پاس چلے جاتے تھے۔

اب میاں جی کے پاس بھلا کون سا کمپیوٹر تھا! حجرے میں ایک بڑا سا کٹورا رکھا ہوتا تھا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ بکری کی ایک مینگنی اس میں ڈال دیتے۔ جب کوئی تاریخ پوچھنے آتا تو کٹورا الٹ کر مینگنیاں گنتے اور اسی حساب سے تاریخ بتا دیتے۔

کٹورے کے پاس ہی بکری کے لیے چارا رکھا ہوتا تھا۔

ایک دن بکری چارے کی تلاش میں حجرے میں گھس آئی اور اتفاق سے کٹورے میں ہی مینگنیاں کر دیں۔ پھر اگلے دن، اس سے اگلے دن، یونہی چارے کی تلاش میں بکری حجرے میں آتی رہی اور مینگنیاں کرتی رہی۔ یہاں تک کہ اس نے تقریباً پورا کٹورا بھر دیا۔

ایک دن ایک شخص آیا اور پوچھنے لگا:

’’میاں جی! آج تاریخ کیا ہے؟‘‘

میاں جی نے حسبِ معمول کٹورا الٹا اور مینگنیاں گننے لگے۔ اچانک ان کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمودار ہوئے اور وہ بڑبڑانے لگے۔

اس شخص نے تشویش سے پوچھا:

’’میاں جی! خیریت تو ہے؟‘‘

میاں جی فرمانے لگے:

’’جناب! آج پچاس تاریخ ہے!‘‘

یہ سن کر سائل کے تو اوسان ہی خطا ہو گئے۔ کہنے لگا:

’’میاں جی! خدا کا خوف کریں، پچاس تاریخ کیسے ہو سکتی ہے؟‘‘

میاں جی بولے:

’’پتر! خوفِ خدا ہے، اسی لیے پچاس بتائی ہے، ورنہ کٹورے میں تو ایک سو پچاس مینگنیاں پڑی ہیں!‘‘ 😄😂

1 comment

Leave a Reply

NZ's Corner