تحفہ 🎁

تحفہ 🎁

جاپان کے دارالحکومت کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک دانا اور بوڑھا سمورائی رہتا تھا۔ ایک دوپہر، جب وہ اپنے شاگردوں کو پڑھا رہا تھا، تو ایک نوجوان اور بدنام زمانہ مغرور فائٹر وہاں آ گیا۔ وہ شخص انتہائی سنگدل اور ظالم کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اس کا خاص طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنے حریفوں کو ذہنی طور پر بہت زیادہ تنگ کرتا اور برا بھلا کہتا تھا، یہاں تک کہ وہ غصے سے آپے سے باہر ہو جاتے۔ غصے میں اندھے ہو کر وہ اس کا چیلنج قبول کر لیتے، بڑی غلطیاں کرتے اور ناگزیر طور پر لڑائی ہار جاتے۔
وہ نوجوان فائٹر فوراً بوڑھے شخص پر چڑھ دوڑا۔ اس نے اس پر پتھر پھینکے، اس کی سمت تھوکا، اور غصے میں پاگل ہو کر ہر طرح کی گندی گالیاں دینے لگا۔ لیکن بوڑھے سمورائی نے ذرا سا بھی دھیان نہ دیا۔ وہ بالکل پرسکون، بے نیاز رہا اور اپنے شاگردوں کو پڑھاتا رہا۔ آخرکار، دن کے اختتام پر، وہ نوجوان یہ دیکھ کر بالکل تھک گیا اور فرسٹریٹ ہو گیا کہ وہ ماسٹر سے کوئی ردعمل حاصل نہیں کر سکا، تو وہ ہار مان کر غصے میں وہاں سے چلا گیا۔
شاگرد یہ سب دیکھ کر سخت حیران تھے۔ وہ یقین نہیں کر پا رہے تھے کہ ان کے استاد نے اتنی بڑی بے عزتی کو بس چپ چاپ برداشت کر لیا ہے۔
ایک شاگرد نے پوچھا، “آپ نے اسے لڑائی کا چیلنج کیوں نہیں دیا؟ کیا آپ واقعی ڈر گئے تھے کہ وہ آپ کو ہرا دے گا؟”
بوڑھے سمورائی نے صرف مسکرا کر ایک سادہ سا سوال کیا: “اگر کوئی شخص آپ کے پاس آئے اور آپ کو کوئی تحفہ دینے کی کوشش کرے، لیکن آپ اسے قبول کرنے سے انکار کر دیں، تو وہ تحفہ کس کا ہوگا؟”
ایک شاگرد نے جواب دیا، “اُسی شخص کا جس نے اسے دینے کی کوشش کی تھی۔”
سمورائی نے کہا، “بالکل۔ اور بالکل یہی اصول حسد، نفرت اور گالیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جب تک آپ انہیں قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں، وہ مکمل طور پر اسی شخص کے پاس رہتے ہیں جو انہیں لے کر آیا تھا۔

#معاشرےکےمسائل #حوصلہ #سچائی #جذبہ #زندگی #سکون #قدرت #فلسفہ

Leave a Reply

NZ's Corner