ایک گاؤں میں ایک کسان اپنے دو بیٹوں، قاسم اور ایان، کے ساتھ رہتا تھا۔
قاسم بہت چالاک تھا، جبکہ ایان سادہ دل اور بھولا بھالا تھا۔ کسان کے پاس ایک گائے، ایک پھل دار درخت اور ایک گرم کمبل تھا۔
کچھ عرصے بعد کسان کا انتقال ہوگیا۔
جائیداد تقسیم کرنے کا وقت آیا تو قاسم نے فوراً اپنی چالاکی دکھائی۔
وہ بولا:
“بھائی! ہم سب کچھ برابر بانٹ لیتے ہیں۔ گائے کا اگلا حصہ تمہارا، پچھلا حصہ میرا۔”
ایان نے سادگی سے کہا:
“ٹھیک ہے بھائی۔”
قاسم نے فوراً دودھ کا فائدہ سوچ لیا تھا۔
پھر درخت کی باری آئی۔
قاسم بولا:
“درخت کا نچلا حصہ تم رکھ لو اور اوپر والا حصہ میرا۔”
ایان نے پھر کوئی اعتراض نہ کیا۔
آخر میں کمبل آیا تو قاسم نے کہا:
“کمبل کو کاٹنا مناسب نہیں، اس لیے دن میں تم استعمال کر لینا اور رات کو میں اوڑھ لیا کروں گا۔”
ایان نے یہ بات بھی مان لی۔
اب قاسم کی عیاشی شروع ہوگئی۔
ایان روز گائے کو چارہ ڈالتا، پانی پلاتا اور خدمت کرتا، مگر قاسم آرام سے اس کا دودھ نکال کر پی جاتا۔
ایان درخت کو پانی دیتا اور اس کی دیکھ بھال کرتا، جبکہ قاسم درخت پر چڑھ کر سارے پھل توڑ لیتا۔
دن میں ایان کمبل استعمال کرتا اور رات کو قاسم اسے لے کر آرام سے سو جاتا۔
ایان خاموش رہا۔
ایک دن اس کا دوست اس سے ملنے آیا۔ ایان کی پریشانی دیکھ کر اس نے پوچھا:
“کیا ہوا؟”
ایان نے ساری بات بتا دی۔
دوست مسکرایا اور بولا:
“تم نے اپنے بھائی کی بات مانی ہے، اب بس اسی تقسیم کو صحیح معنوں میں نافذ کرو۔”
اگلی صبح قاسم گائے کا دودھ نکالنے بیٹھا تو ایان گائے کے اگلے حصے کو زور زور سے ہانکنے لگا۔
گائے بار بار حرکت کرنے لگی اور قاسم دودھ نہ نکال سکا۔
وہ غصے سے بولا:
“یہ کیا کر رہے ہو؟ مجھے دودھ نکالنے دو!”
ایان نے معصومیت سے جواب دیا:
“بھائی! گائے کا اگلا حصہ تو میرا ہے۔ میں اس کے ساتھ جو چاہوں، کروں۔”
قاسم خاموش ہوگیا۔
کچھ دیر بعد قاسم درخت پر چڑھ کر پھل توڑنے لگا۔
اچانک ایان کلہاڑی لے آیا اور درخت کے تنے پر وار کرنے لگا۔
قاسم گھبرا کر فوراً نیچے اترا:
“ارے! یہ کیا کر رہے ہو؟ درخت کاٹ دو گے تو پھل کہاں سے ملیں گے؟”
ایان نے سکون سے کہا:
“بھائی! درخت کا نچلا حصہ میرا ہے، میں اس کے ساتھ جو چاہوں، کروں۔”
قاسم کو اپنی ہی بات یاد آگئی۔
شام کو ایان نے کمبل پانی میں بھگو دیا۔
رات ہوئی تو قاسم نے کمبل اٹھایا تو وہ بالکل گیلا تھا۔
وہ حیران ہو کر بولا:
“یہ کیا کیا تم نے؟ میں اس کمبل میں کیسے سوؤں گا؟”
ایان مسکرایا:
“بھائی! دن کے وقت کمبل میرا ہے، اس لیے میں نے سوچا اسے دھو دوں۔”
قاسم کے پاس اب کوئی جواب نہ تھا۔
اس رات وہ سردی میں ٹھٹھرتا رہا اور پہلی بار اسے احساس ہوا کہ چالاکی سے حاصل کیا گیا فائدہ ہمیشہ فائدہ نہیں رہتا۔
صبح ہوتے ہی قاسم ایان کے پاس آیا۔
اس کی آواز میں شرمندگی تھی:
“بھائی! مجھے معاف کر دو۔ میں نے تمہاری سادگی کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ آج سے ہم ہر چیز انصاف کے ساتھ تقسیم کریں گے۔”
ایان نے اسے معاف کردیا۔
اس دن کے بعد دونوں بھائی محبت اور انصاف کے ساتھ رہنے لگے۔
سبق:
دوسروں کی سادگی کو اپنی چالاکی کا ذریعہ بنانا وقتی فائدہ دے سکتا ہے، مگر آخرکار انسان کو اپنی ہی چال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انصاف، ایمانداری اور بھائی چارہ ہی حقیقی خوشی کا راستہ ہیں۔
