ایک دن حضرت موسیٰؑ ایک ویران راستے سے گزر رہے تھے کہ اچانک ایک گڈریے کی آواز ان کے کانوں میں پڑی۔ وہ اپنے رب سے نہایت سادگی، خلوص اور محبت بھرے انداز میں باتیں کر رہا تھا، جیسے کوئی معصوم بچہ اپنی ماں سے دل کی بات کرتا ہے۔
وہ عرض کر رہا تھا:”اے میرے رب! اگر تو مجھے مل جائے تو میں تیری خدمت کروں، تیرے بال سنواروں، تیرے سر میں تیل لگاؤں، تیرے کپڑے دھوؤں، اگر تو بیمار ہو جائے تو ساری رات تیرے پاس جاگتا رہوں، تجھے دودھ پلاؤں اور تیرے قدم دباتا رہوں۔”
وہ علمِ عقیدہ اور فلسفے کی باریکیوں سے واقف نہیں تھا، وہ تو صرف محبت کا انداز جانتا تھا۔
حضرت موسیٰؑ نے جب اس کی باتیں سنیں تو فرمایا:
“اے شخص! تم کیا کہہ رہے ہو؟ اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے پاک ہے۔ نہ اسے جسم ہے، نہ بیماری لاحق ہوتی ہے اور نہ ہی وہ کسی کا محتاج ہے۔”
یہ سنتے ہی گڈریا لرز اٹھا۔ اسے محسوس ہوا کہ شاید اس سے اپنے رب کی شان میں گستاخی ہو گئی ہے۔ وہ دل گرفتہ ہو کر وہاں سے چلا گیا۔ اس کے دل میں صرف ایک ہی درد تھا:
“میں تو اپنے اللہ سے محبت کا اظہار کر رہا تھا…”
پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ پر وحی نازل فرمائی:
“اے موسیٰ! کیا تم میرے بندے کو مجھ سے دور کرنے آئے تھے یا میرے قریب کرنے؟ ہر دل کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے، اور ہمیں الفاظ سے زیادہ دل کی کیفیت عزیز ہے۔”
کہا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ فوراً اس گڈریے کی تلاش میں نکلے۔ جب وہ ملا تو اسے محبت سے گلے لگا کر فرمایا:
“تمہاری سچی محبت اور خلوص نے تمہیں اللہ کے بہت قریب کر دیا ہے۔”
یہ حکایت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ ہر مثال، ہر کمزوری اور ہر نقص سے بلند و بالا ہے، لیکن ایک سچا، عاجز اور محبت سے بھرپور دل اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہوتا ہے۔
اسی لیے کسی کے عمل، انداز یا الفاظ کو فوراً غلط نیت پر محمول نہیں کرنا چاہیے۔ ممکن ہے وہ اپنے رب سے محبت کا اظہار اپنے ہی انداز میں کر رہا ہو۔
لوگو!
چھلنیاں لے کر دوسروں کی نیتیں چھاننے نہ بیٹھ جاؤ، کیونکہ اللہ دلوں کے حال کو ہم سب سے بہتر جانتا ہے۔
