حسد

حسد

جنگل میں ایک نہایت غریب مگر خوددار چوہا رہتا تھا۔ کئی دن سے رزق کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا تھا۔ آخر ایک صبح اس نے فیصلہ کیا کہ قسمت آزمانے کے لیے سیدھا جنگل کے بادشاہ، شیر، کے دربار میں حاضر ہوا جائے۔ وہ کانپتے قدموں سے محل میں داخل ہوا، ادب سے سر جھکایا اور بولا، “بادشاہ سلامت! میں چوری نہیں کرنا چاہتا، محنت کی روٹی کھانا چاہتا ہوں۔ اگر کوئی چھوٹا سا کام مل جائے تو زندگی بھر وفاداری سے انجام دوں گا۔”

شیر نے اس کی بات غور سے سنی۔ چوہے کی آنکھوں میں خودداری تھی، زبان میں عاجزی اور لہجے میں سچائی۔ شیر نے مسکراتے ہوئے کہا، “محل کے شاہی گودام میں روزانہ اناج کی بوریاں، شہد کے مٹکے اور خشک میوہ آتا ہے۔ ہمیں ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو روز ان سب کی گنتی کرے، رجسٹر میں اندراج کرے اور شام کو رپورٹ پیش کرے۔ اگر تم یہ ذمہ داری دیانت داری سے نبھا سکو تو یہ نوکری تمہاری ہے۔”
چوہے کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ اس نے بار بار سر جھکا کر بادشاہ کا شکریہ ادا کیا اور دوڑتا ہوا اپنے محلے پہنچا۔ آج اس کی چال میں عجیب اکڑ تھی، مگر غرور نہیں، خوشی تھی۔ سارے چوہے اس کے گرد جمع ہوگئے۔ کوئی پوچھنے لگا، “کیا ہوا؟” تو کوئی بولا، “کہیں خزانے پر دھاوا تو نہیں بول آئے؟”

چوہا سینہ پھلا کر بولا، “آج سے میں شاہی ملازم ہوں۔”
سب حیران رہ گئے۔
ایک بوڑھے چوہے نے داڑھی سہلاتے ہوئے کہا، “بیٹا! یاد رکھنا، محل کی نوکری میں تنخواہ سے زیادہ حسد ملتا ہے۔”
چوہا ہنس کر بولا، “چاچا! میں تو اپنا کام کروں گا، کسی سے کیا دشمنی!”

ادھر محل میں ایک اور کہانی چل رہی تھی۔
لومڑی مدتوں سے اسی نوکری پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ اس کا ارادہ تھا کہ یہ آرام دہ کرسی اپنے بھانجے گیدڑ گلو کو دلوائے گی۔ نہ دھوپ، نہ بارش، نہ شکار، بس کرسی پر بیٹھو، گنتی کرو اور شام کو گھر جاؤ۔ لیکن قسمت نے وہ کرسی ایک معمولی چوہے کے حصے میں لکھ دی۔
جب بھی لومڑی محل سے گزرتی، چوہے کو کرسی پر بیٹھے رجسٹر لکھتے دیکھتی تو اس کا دل جل اٹھتا اور یہ اسے اپنی ناکامی ہضم ہی نہیں ہوتی تھی۔

ایک دن اس نے بلی کو بلا بھیجا۔
بلی آئی تو لومڑی نے بڑے رازدارانہ انداز میں کہا، “تم سلطنت کی خدمت کرنا چاہتی ہو؟”

بلی نے فوراً سینہ تان لیا۔
“یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟”

لومڑی آہستہ سے بولی، “اصل میں یہ چوہا بہت اچھا ہے، مگر ایک خامی ہے۔ گنتی کرتے کرتے اسے اونگھ آ جاتی ہے۔ اگر یہ ذرا سی بھی غلطی کر بیٹھا تو سلطنت کو بہت بڑا نقصان ہو جائے گا۔”

بلی پریشان ہوگئی۔
“پھر کیا کیا جائے؟”
لومڑی نے مصنوعی فکر مندی سے کہا، “میں نے سوچا ہے تم بھی بادشاہ کی خدمت کرو۔ جب بھی یہ گنتی کر رہا ہو، تم دور سے صرف ایک بار ‘میاؤں’ کر دیا کرنا تاکہ یہ چونک کر جاگ جائے۔”

بلی کی آنکھیں چمک اٹھیں۔

“واہ! یعنی آج سے میں بھی شاہی خدمت پر مامور ہوں!”
لومڑی نے دل ہی دل میں مسکراتے ہوئے کہا، “بالکل”
اگلے ہی دن سے کھیل شروع ہوگیا۔
چوہا بڑے انہماک سے گنتی کرتا۔
“ایک سو پچانوے، ایک سو چھیانوے، ایک سو ستانوے”

اتنے میں “میاؤں!”
چوہا گھبرا کر اچھل پڑتا۔
ادھر ادھر دیکھتا۔
پھر سوچتا، “میں کہاں تک پہنچا تھا؟”

اور دوبارہ گنتی شروع کر دیتا۔
کبھی پچاس سے، کبھی سو سے، کبھی بیس سے۔
یہ روز کا معمول بن گیا۔
شام کو رجسٹر میں ہمیشہ اصل تعداد سے کہیں کم عدد درج ہوتے۔
چند دن بعد شیر نے گودام دیکھا۔
سامنے اناج کے ڈھیر لگے تھے۔
رجسٹر کھولا تو تعداد حیران کن حد تک کم لکھی ہوئی تھی۔
شیر کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔

“چوہے!”
“جی حضور!”
“یہ حساب کس کا ہے؟”
“میرا، حضور!”
“پھر یہ غلطی کیوں؟”
چوہا گھبرا گیا، مگر اس نے جھوٹ نہ بولا۔
“حضور! اگر اجازت ہو تو ابھی آپ کے سامنے دوبارہ گنتی کر دیتا ہوں۔”

شیر نے حکم دیا۔
گنتی شروع ہوئی۔
“ایک، دو، تین”
پچاس تک پہنچا ہی تھا کہ دروازے کے پیچھے سے آواز آئی۔
“میاؤں!”
چوہا پھر چونک گیا۔
اسی لمحے شیر نے زور سے دھاڑا۔
“جس نے آواز دی ہے، فوراً سامنے آئے!”
بلی کانپتی ہوئی باہر آگئی۔

“میں، میں نے”
“کیوں؟”
بلی معصومیت سے بولی، “حضور! میں تو سلطنت کی خدمت کر رہی تھی۔ لومڑی نے فرمایا تھا کہ چوہے کو اونگھ آتی ہے، اس لیے میں اسے جگایا کرتی ہوں۔”
شیر نے آہستہ سے اپنا سر لومڑی کی طرف گھمایا۔
لومڑی کا رنگ فق ہو چکا تھا۔

“کیا یہ سچ ہے؟”
لومڑی کچھ دیر خاموش رہی، پھر سر جھکا کر بولی، “حضور، میرا ارادہ صرف”
شیر نے بات کاٹ دی۔ “صرف کرسی خالی کرانا تھا۔”
پورا دربار خاموش ہوگیا۔ شیر نے رجسٹر بند کیا اور بولا، “چوہے کی غلطی گنتی میں نہیں تھی، اس کی غلطی یہ تھی کہ اسے معلوم نہ تھا، اس کے آس پاس حسد کی آوازیں بھی گونج رہی ہیں۔”
اس دن بلی کو واپس اس کی پرانی ڈیوٹی پر بھیج دیا گیا، اور لومڑی کو ایک مہینے کے لیے اناج کی بوریاں خود گننے کی سزا ملی۔
چوہا مسکرا کر رجسٹر بند کرتے ہوئے بولا:
“حضور، اب گنتی میں صرف بوریاں ہوں گی، ‘میاؤں’ نہیں!”

اخلاقی سبق

حسد کبھی سامنے سے حملہ نہیں کرتا، وہ اکثر خیرخواہی کا لباس پہن کر آتا ہے۔ بہت سے لوگ دشمنی تلوار سے نہیں کرتے، بلکہ کسی معصوم کو آلہ بنا کر دوسروں کی محنت، عزت یا مقام چھیننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح ہر وہ شخص بھی مجرم نہیں ہوتا جو نقصان پہنچا دے؛ بعض اوقات وہ خود کسی چالاک ذہن کے ہاتھوں استعمال ہو رہا ہوتا ہے۔ عقل مند وہ ہے جو صرف آواز نہیں سنتا، بلکہ آواز کے پیچھے چھپی نیت کو بھی پہچان لیتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner