*حضرت آدمؑ کی پیدائش سے پہلے دنیا میں کیا تھا، اس بارے میں اسلامی تعلیمات، قرآنِ مجید اور احادیث کی روشنی میں علماء نے مختلف پہلوؤں سے گفتگو کی ہے۔*
قرآن کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کائنات اور زمین کو حضرت آدمؑ کی تخلیق سے بہت پہلے پیدا فرمایا تھا۔ زمین ابتدا میں ایک خام اور غیر منظم حالت میں تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں پہاڑ، دریا، سمندر اور نباتات پیدا کیے۔ سورۂ بقرہ میں جب اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ وہ زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والے ہیں تو فرشتے عرض کرتے ہیں کہ کیا آپ وہاں ایسی مخلوق پیدا کریں گے جو فساد پھیلائے اور خونریزی کرے؟ مفسرین اس آیت سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ حضرت آدمؑ سے پہلے بھی زمین پر کسی نہ کسی قسم کی مخلوق موجود تھی جس نے فساد کیا تھا، اسی لیے فرشتوں نے ایسا سوال کیا۔
اسلامی روایات میں عام طور پر یہ بیان ملتا ہے کہ حضرت آدمؑ سے پہلے زمین پر جنات آباد تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جنات کو آگ سے پیدا کیا تھا اور انہیں زمین میں رہنے اور زندگی گزارنے کا موقع دیا تھا۔ شروع میں وہ عبادت گزار بھی تھے، مگر وقت کے ساتھ ان میں سرکشی، فساد اور آپس کی جنگیں بڑھ گئیں۔ بعض روایات کے مطابق انہوں نے زمین میں خونریزی اور تباہی پھیلائی، جس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے ان میں سے بہت سے جنات کو ختم کروا دیا یا انہیں زمین کے دور دراز علاقوں اور جزائر میں منتشر کر دیا۔ اسی پس منظر کی وجہ سے فرشتوں نے حضرت آدمؑ کی تخلیق کے اعلان پر فساد اور خونریزی کا ذکر کیا۔ تاہم قرآن میں اس واقعے کی تفصیل بہت مختصر ہے، جبکہ زیادہ تر تفصیلات تفاسیر اور روایات میں ملتی ہیں۔
بعض مفسرین اور علماء یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ حضرت آدمؑ کی تخلیق دراصل زمین پر ایک نئی نوعِ مخلوق یعنی انسان کے آغاز کا مرحلہ تھا، جسے اللہ تعالیٰ نے عقل، ارادہ اور اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ پیدا کیا۔ آدمؑ کو مٹی سے بنایا گیا اور ان میں اللہ نے اپنی روح پھونکی، پھر انہیں علمِ اسماء سکھایا اور فرشتوں کے سامنے ان کی فضیلت ظاہر کی۔ اس طرح حضرت آدمؑ کی تخلیق نہ صرف انسانی تاریخ کی ابتدا ہے بلکہ زمین پر اللہ کی نمائندگی یعنی خلافت کا بھی آغاز ہے۔ اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو حضرت آدمؑ سے پہلے زمین ایک ایسی جگہ تھی جہاں مختلف مخلوقات موجود تھیں، مگر انسان جیسی باشعور اور ذمہ دار مخلوق ابھی پیدا نہیں ہوئی تھی، اور حضرت آدمؑ کی آمد کے ساتھ ہی انسانی تہذیب اور تاریخ کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو شئیر کریں
