حیات کا درخت — ایک سبق آموز حکایت

حیات کا درخت — ایک سبق آموز حکایت



ایک دانا شخص بیان کرتا ہے کہ ہندوستان میں ایک ایسا درخت ہے جس کا پھل کھانے والا نہ کبھی بوڑھا ہوتا ہے اور نہ ہی اسے موت آتی ہے۔

ایک بادشاہ نے یہ روایت سنی تو اسے سچ سمجھ بیٹھا اور اس نایاب درخت کو حاصل کرنے کی خواہش اس کے دل میں جاگ اٹھی۔ اس نے اپنے ایک نہایت عقل مند وزیر کو حکم دیا کہ ہندوستان جا کر اس درخت کو تلاش کرے۔

وزیر نے برسوں تک شہر شہر، جنگل جنگل، پہاڑوں اور جزیروں کی خاک چھانی۔ وہ جس شخص سے اس درخت کا پتا پوچھتا، لوگ مسکرا دیتے یا اسے ناممکن بات قرار دیتے۔ مگر وہ ہمت نہ ہارتا اور اپنی تلاش جاری رکھتا رہا۔ بادشاہ بھی مسلسل اس کے سفر کے اخراجات بھیجتا رہا۔

کئی برس گزر گئے، لیکن نہ درخت ملا اور نہ اس کا کوئی نشان۔ آخرکار مسلسل ناکامی اور مشقت سے تھک ہار کر وہ مایوس دل کے ساتھ واپس روانہ ہوا۔

راستے میں ایک مقام پر ایک بزرگ، عالمِ دین اور صاحبِ معرفت شیخ کا قیام تھا۔ دل شکستہ وزیر ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اس نے عرض کیا:

“حضرت! میں برسوں سے ایک ایسے درخت کی تلاش میں بھٹکتا رہا جس کا پھل آبِ حیات عطا کرتا ہے، مگر مجھے کہیں اس کا سراغ نہ ملا۔”

شیخ مسکرائے اور فرمایا:

“اے بھلے انسان! تم نے اس حکایت کا صرف ظاہری مطلب لیا، اسی لیے حقیقت سے محروم رہے۔ وہ درخت دراصل علم، حکمت اور معرفت کا استعارہ ہے۔ کہیں اسے درخت کہا جاتا ہے، کہیں سورج، کہیں سمندر اور کہیں بادل۔ اس کی بے شمار صفات ہیں، اور انہی میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ انسان کو ایسا علم دیتا ہے جو اسے ہمیشہ زندہ رکھتا ہے، یعنی نیک نامی اور دائمی عزت۔”

پھر شیخ نے فرمایا:

“تم نے صرف شکل تلاش کی، حقیقت نہیں۔ یاد رکھو! ظاہری صورت تو صرف چھلکا ہے، اصل حقیقت اس کے اندر چھپا ہوا گودا ہے۔ ناموں میں نہ الجھو، بلکہ صفات اور معانی کو پہچانو۔ جب انسان حقیقت تک پہنچ جاتا ہے تو پھر اختلافات خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔”

سبق:

ہماری زندگی کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اکثر صرف ظاہری چیزوں کے پیچھے بھاگتے ہیں، جبکہ اصل خزانہ علم، حکمت، کردار اور اللہ تعالیٰ کی معرفت میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ جو شخص حقیقت کو پہچان لیتا ہے، وہی حقیقی کامیابی اور ہمیشہ رہنے والی عزت حاصل کرتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner