نعمان تیز رفتاری سے دوڑتا ہوا جا رہا تھا۔اب وہ کیا کرے۔اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔مجرم اس کے تعاقب میں تھے۔وہ ہر صورت میں نعمان سے رقم چھین لینا چاہتے تھے۔اس کی جیب میں موجود رقم اس کی اپنی نہیں تھی۔نعمان کے دفتر کے ساتھی ریاض کی طبیعت خراب تھی۔یہ رقم اسے پہنچانے کو دفتر کے باس امتیاز صاحب نے دی تھی، تاکہ وہ اس رقم سے اپنا علاج کرا لے۔
بس میں اس کی پینٹ کی پھولی جیب دیکھ کر دونوں مجرموں نے بھانپ لیا کہ اس کے پاس خاصی رقم ہے، اس لئے انھوں نے اس سے رقم حاصل کرنے کو بس سے اُتر کر رقم چھین لینے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔نعمان جیسے ہی بس سے اُترا، ڈکیت بھی تیر کی طرح اس کی جانب لپکے۔
نعمان نے ان کی باتوں کا جواب دینے کی بجائے دوڑ لگا دی۔
وہ بھی اس کے تعاقب میں دوڑے۔نعمان کا خیال تھا کہ وہ ان کو جُل دینے میں کامیاب ہو جائے گا، لیکن اس کے پاس اتنا وقت بھی نہیں تھا کہ وہاں کچھ دیر رک کر سوچ لے۔
وہ پھر بے تحاشا دوڑنے لگا۔
وہ ان کی پہنچ سے دور نکل جانا چاہتا تھا۔وہ ایک گلی میں داخل ہو جانے پر ایک ٹوٹے پھوٹے مکان میں گھس گیا۔ان سے بچنے کے لئے ضروری تھا کہ وہ اس جگہ پناہ لے، جہاں وہ کچھ وقت رک جائے اور ڈکیت اسے ڈھونڈتے ہوئے دور نکل جائیں۔ایسا ہی ہوا، وہ جب گلی میں داخل ہوئے انھیں نعمان نظر نہیں آیا تو وہ آگے بڑھ گئے۔خالی گھر کے اندر جب نعمان داخل ہوا، ایک بوڑھی خاتون اس کے سامنے آ گئی۔
”تم کون ہو بیٹے!“ ایک بوڑھی خاتون نے اسے دیکھ کر پوچھا۔
”میرا نام نعمان ہے، میرے پیچھے کچھ ڈکیت لگ گئے ہیں، ان سے بچنے کے لئے یہاں پناہ لینے پر مجبور ہو گیا ہوں۔“
”ایسی بات ہے تو اندر آ جاؤ، صحن میں کیوں کھڑے ہو۔“
”آپ اس گھر میں اکیلی رہتی ہیں؟“
”ہاں بیٹے! میرا کوئی رشتے دار نہیں ہے، شوہر کا انتقال ہو جانے پر میں اکیلی گھر میں رہتی ہوں۔
“
”کیا آپ کی کوئی اولاد نہیں ہے؟“
”نہیں۔“
”اکیلے رہتے ہوئے آپ کو ڈر نہیں لگتا؟“ نعمان نے پوچھا۔
”ڈر کیسا مجھ بوڑھی عورت کے پاس ہے ہی کیا، جو چور لینے آئے گا۔چور بھی وہاں جاتے ہیں، جہاں انھیں کچھ مل جائے۔“
”ہاں یہ بات تو ہے۔“ نعمان نے کہا۔
”تم چارپائی پر کچھ دیر آرام کر لو۔“
”آرام تو گھر جا کر ہی کروں گا۔“ نعمان نے کہا۔
”مجھے پتا ہے، انسان کو اپنے گھر میں آرام کرنا اچھا لگتا ہے، جب تک ڈکیت اس علاقے میں ہیں، تم اس وقت تک تو تمھیں یہاں رہنا ہی ہے، اس لئے تب تک آرام کر لو۔“
”آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں، مجھے ڈکیت کے علاقے سے نکل جانے تک آرام کر لینا چاہیے۔“ نعمان نے کہا۔
کمرے میں چارپائی پر بستر لگے ہوئے تھے۔وہ جیسے ہی بستر میں لیٹا گرم بستر میں اسے راحت محسوس ہوئی۔
”بستر تو بہت گرم ہے، جیسے کوئی ابھی ابھی بستر سے نکل کر گیا ہو۔“
”تمھیں وہم ہو گیا ہے۔اس گھر میں میرے علاوہ کوئی نہیں ہے، پھر کون ان بستر پر سوئے گا۔“ بوڑھی عورت نے کہا۔
وہ اس کی بات پر لاجواب ضرور ہو گیا تھا لیکن اس کا دل بار بار یہ کہہ رہا تھا کہ ان بستر میں کوئی لیٹ کر گیا ہے۔نعمان فضول بحث میں پڑنا نہیں چاہ رہا تھا وہ کچھ دیر کے لئے اس گھر میں آیا ہے اور اسے چلے جانا ہے، پھر وہ اس بوڑھی خاتون سے بحث کیوں کرے۔
نعمان جب بستر پر لیٹا، اسے گھر میں پُراسراریت سی محسوس ہو رہی تھی کہ جیسے وہ کسی پُراسرار گھر میں آ گیا ہے۔
”میں دوسرے کمرے میں جا رہی ہوں، کسی چیز کی ضرورت پڑے تو دستک دے لینا۔“ بوڑھی عورت نے کہا۔
”ٹھیک ہے۔“ نعمان نے کہا۔
گرم بستر ملنے پر اسے نیند آ گئی، حالانکہ اس کا سونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔بستر میں نعمان کو ایسی نیند آئی صبح ہونے پر ہی اس کی آنکھ کھلی۔
اس نے حیرت سے اپنے آپ کو دیکھا۔وہ کہاں آ گیا ہے۔اچانک اسے یاد آیا۔رات میں دو ڈکیت اس کے پیچھے لگ گئے تھے۔ان سے بچنے کے لئے اس گھر میں پناہ لینے پر مجبور ہو گیا تھا۔صبح ہو چکی تھی۔اس لئے ان ڈکیت سے کوئی خطرہ نہیں رہا تھا۔اب اسے یہاں سے جانے میں کوئی خطرہ نہیں تھا۔اس نے بوڑھی خاتون کا شکریہ ادا کرنے کے لئے کمرے سے آواز دی، لیکن وہ نہ آئی تو اس نے کمرے سے باہر نکل کر بوڑھی خاتون کے کمرے میں جھانک کر دیکھا۔
کمرے میں کوئی بھی نہیں تھا۔اسے بڑی حیرت ہوئی کہ اتنی صبح وہ بوڑھی خاتون کہاں چلی گئیں۔نعمان کو اپنے گھر پہنچ کر دفتر جانے کی تیاری کرنا تھی۔اس سے پہلے ریاض کو رقم بھی دینا تھی۔جب وہ گھر سے باہر نکلا۔ایک آدمی نے حیرت سے اسے دیکھا اور اس سے پوچھا:”تم اس گھر سے نکلے ہو؟“
”ہاں، رات میں نے اسی گھر میں بسر کی ہے۔“
”کیا․․․․․!“ وہ آدمی حیرت سے چونکا۔
”تم ایسے کیوں چونک پڑے ہو؟“
”مجھے بوڑھی خاتون نے خود ہی گھر میں ٹھہرایا تھا۔“
”بوڑھی خاتون!“
”ہاں اس میں حیرت کی کون سی بات ہے؟“
”اس مکان میں رہنے والی بوڑھی خاتون کا تو تقریباً دس سال پہلے ایک حادثے میں انتقال ہو گیا تھا۔“
”جب مر چکی ہیں تو میری ان سے ملاقات کیسے ہو گئی؟“ نعمان نے حیرت سے اسے دیکھا۔
”یہ خالی گھر آسیب زدہ ہے۔
اس گھر میں وہی خاتون رہتی تھی جس کا حادثے میں انتقال ہو گیا تھا۔رات میں اپنے گھر کے دروازے پر کبھی گھر کے صحن میں گھومتی پھرتی نظر آتی ہے، اس لئے لوگ رات میں اس گھر کے قریب سے بھی نہیں گزرتے۔“
”آؤ میرے ساتھ تمھیں وہ بستر دکھاتا ہوں، جس پر میں رات کو سویا تھا۔“ نعمان نے کہا۔اس کے اصرار پر وہ آدمی ڈرتے ڈرتے گھر میں داخل ہوا۔جب وہ کمرے میں داخل ہوئے کمرا بالکل خالی تھا۔
کمرے میں چارپائی بھی نہیں تھی، دوسرے کمرے میں جب وہ گیا۔وہاں بھی کچھ سامان نہیں تھا خوف کے مارے نعمان کو کپکپی طاری ہو گئی۔
”میں نے کہا تھا نا یہ خالی گھر ہے، یہاں کوئی نہیں رہتا۔“ اس آدمی نے کہا۔
خوف کے مارے نعمان کو کپکپی طاری ہو گئی اور وہ گھر سے باہر نکل آیا۔گلی میں آتے ہی اس نے دوڑ لگا دی اور پلٹ کر بھی نہیں دیکھا۔جب وہ ریاض کے پاس گیا اور اس کی امانت دینے کے بعد رات کا قصہ سنایا وہ بھی حیرت زدہ رہ گیا۔
”حیرت ہے تم نے اس خالی گھر میں کیسے رات گزار لی؟ وہ گھر واقعی آسیب زدہ ہے، ہم لوگ تو دن میں بھی اس کے پاس سے گزرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔“
”وہ بوڑھی خاتون مجھ سے کیا کہنا چاہتی تھی؟“ نعمان نے سوچا۔
”وہ بے اولاد بیوہ خاتون تھی، جو تقریباً دس سال پہلے حادثاتی طور پر مر چکی تھی، لیکن وہ رات میں لوگوں کو نظر آتی ہے۔“ ریاض نے پھر کہا۔وہ ریاض کے گھر سے جاتے ہوئے سوچ رہا تھا۔اس نے آسیب زدہ مکان میں رات گزار دی اور وہ آسیب نے اسے کسی قسم کا کوئی نقصان بھی نہیں پہنچایا۔اس کی زندگی تھی، جو بچ گیا ہے۔
