خواہش

خواہش

بہت زمانہ پہلے ایک ایسی سلطنت تھی جہاں کا بادشاہ دولت مند بھی تھا، طاقتور بھی اور رعایا کا محبوب بھی۔ اس کے خزانے سونے سے بھرے تھے، اس کے باغ پھولوں سے لدے تھے، اور اس کے دربار میں دور دور سے لوگ انصاف کی امید لے کر آتے تھے۔
مگر ایک دن بادشاہ کے دل میں ایک عجیب خواہش نے جنم لیا۔
اس نے سوچا:
“اگر میں اپنی رعایا کا بادشاہ ہوں تو کیوں نہ ایسا کام کروں کہ میری سلطنت میں کوئی غمگین نہ رہے؟ کیوں نہ میں سب کو خوش کر دوں؟”
یہ خیال اسے اتنا پسند آیا کہ اگلے ہی دن شاہی نقارے بجوائے گئے اور پورے ملک میں اعلان کر دیا گیا:
“بادشاہ سلامت کا فرمان ہے! آج سے جو شخص جو چاہے مانگ سکتا ہے۔ اس کی خواہش پوری کی جائے گی تاکہ سلطنت کا ہر فرد خوش حال اور مطمئن ہو جائے۔”
یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔
لوگ جوق در جوق محل کی طرف آنے لگے۔
سب سے پہلے ایک غریب تاجر حاضر ہوا۔
اس نے جھک کر عرض کی:
“جہاں پناہ! میری ساری زندگی تنگ دستی میں گزری ہے۔ مجھے دولت عطا کیجیے۔”
بادشاہ نے مسکرا کر اشارہ کیا۔
خزانے کے دروازے کھول دیے گئے اور سونے کی تھیلیاں اس کے حوالے کر دی گئیں۔
تاجر خوشی سے نہال ہو کر لوٹ گیا۔
پھر ایک بوڑھا شخص آیا۔
اس نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا:
“مجھے دولت نہیں چاہیے، مجھے صحت چاہیے۔ بیماری نے میری زندگی اجیرن بنا دی ہے۔”
بادشاہ نے شاہی طبیبوں کو حکم دیا۔
چند ہی دنوں میں بوڑھا تندرست ہو گیا اور دعائیں دیتا ہوا واپس چلا گیا۔
اس کے بعد ایک نوجوان آیا۔
اس کی آنکھوں میں اداسی بسی ہوئی تھی۔
اس نے کہا:
“مجھے نہ دولت چاہیے، نہ شہرت۔ مجھے محبت چاہیے۔”
بادشاہ نے اس کے حالات معلوم کیے اور اس کی محبوبہ سے اس کا نکاح کرا دیا۔
نوجوان کی خوشی دیدنی تھی۔
دربار میں تالیاں بجنے لگیں۔
بادشاہ کے چہرے پر فخر کی چمک پھیل گئی۔
اسے محسوس ہوا کہ واقعی وہ دنیا کا سب سے کامیاب حکمران بن چکا ہے۔
مگر پھر ایک ایسا شخص دربار میں داخل ہوا جس کے چہرے پر عجیب سی سنجیدگی تھی۔
وہ تخت کے سامنے آیا اور بولا:
“جہاں پناہ! کیا واقعی آپ ہر خواہش پوری کریں گے؟”
بادشاہ نے اعتماد سے جواب دیا:
“بے شک۔ جو چاہو مانگ لو۔”
اس شخص نے سر اٹھایا اور صاف لفظوں میں کہا:
“مجھے آپ کی موت چاہیے۔”
پورا دربار سناٹے میں ڈوب گیا۔
ہوا جیسے تھم گئی ہو۔
وزیروں کے چہرے زرد پڑ گئے۔
سپاہیوں نے تلواروں پر ہاتھ رکھ لیے۔
بادشاہ کی مسکراہٹ یکدم غائب ہو گئی۔
کچھ دیر بعد اس نے دھیمی آواز میں کہا:
“یہ خواہش میں پوری نہیں کر سکتا۔”
وہ شخص فوراً بولا:
“کیوں نہیں؟”
بادشاہ خاموش رہا۔
اس نے پھر کہا:
“آپ نے تو اعلان کیا تھا کہ جو چاہے مانگے۔ میں نے اپنی خواہش بیان کر دی۔ اب اگر آپ اسے پورا نہیں کرتے تو آپ اپنے وعدے سے پھر گئے۔”
دربار میں سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔
بادشاہ کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔
غصے اور بے بسی کے عالم میں اس نے حکم دیا:
“اس گستاخ کو قید کر دو!”
سپاہی اسے لے گئے۔
مگر اس واقعے کے بعد بادشاہ کا دل بے چین ہو گیا۔
شام ڈھلے وہ محل کی بالکونی میں خاموش بیٹھا تھا کہ اس کا دانا وزیر حاضر ہوا۔
وزیر نے ادب سے کہا:
“بادشاہ سلامت، کیا میں ایک بات عرض کر سکتا ہوں؟”
بادشاہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
وزیر بولا:
“آپ نے سب کو خوش کرنے کی کوشش کی، مگر آپ یہ بھول گئے کہ لوگوں کی خواہشات ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ ایک شخص کی خوشی دوسرے کی ناراضی بن سکتی ہے۔”
بادشاہ غور سے سنتا رہا۔
وزیر نے مزید کہا:
“اگر آپ ایک شخص کو دولت دیں گے تو دوسرا انصاف مانگے گا۔ اگر ایک کو محبت دیں گے تو کوئی اور طاقت چاہے گا۔ اور اگر سب کو راضی کرنے نکلیں گے تو آخرکار خود بھی بے سکون ہو جائیں گے۔”
بادشاہ کی آنکھیں جھک گئیں۔
اسے محسوس ہوا کہ وزیر کی بات میں گہری سچائی ہے۔
اگلے دن شاہی فرمان جاری ہوا:
“کل کا اعلان واپس لیا جاتا ہے۔ بادشاہ کا فرض سب کی خواہشات پوری کرنا نہیں، بلکہ سب کے ساتھ انصاف کرنا ہے۔”
لوگوں نے یہ اعلان سنا اور اپنی اپنی زندگیوں میں لوٹ گئے۔
اور بادشاہ نے بھی ایک ایسی حقیقت سیکھ لی جو اکثر طاقتور لوگ دیر سے سیکھتے ہیں۔
سبق
دنیا میں ہر دل کی خواہش الگ ہے، ہر شخص کی خوشی کا معیار مختلف ہے۔ جو انسان سب کو خوش کرنے کی کوشش میں اپنی زندگی گزار دیتا ہے، وہ اکثر نہ دوسروں کو مطمئن کر پاتا ہے اور نہ خود سکون حاصل کر پاتا ہے۔
لوگوں کو خوش کرنے سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ انسان انصاف، دیانت اور اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق زندگی گزارے۔
#منقول

Leave a Reply

NZ's Corner