خوف کا دیو۔۔۔🧌!

خوف کا دیو۔۔۔🧌!

کہتے ہیں کہ کسی دور افتادہ علاقے میں ایک بستی آباد تھی۔ بظاہر وہ بستی عام سی تھی، مگر اس کے باسیوں کے چہروں پر ہمیشہ ایک انجانا خوف سایہ فگن رہتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ ہر سال ایک مخصوص دن، ایک خوفناک دیو وہاں آتا، پورے گاؤں کو للکارتا اور للکار کر یہی سوال دہراتا:
“کیا تم میں کوئی مرد ہے جو مجھ سے مقابلہ کر سکے؟ کیا کوئی ہے جو مجھے ہرا سکے؟”
اور پھر حسبِ روایت، وہ ہر سال گاؤں کے کسی ایک انسان کو مار ڈالتا۔ یوں خوف اس بستی کی رگ رگ میں اتر چکا تھا۔
خوف کا دن
آج بھی وہی منحوس دن آن پہنچا تھا۔ گاؤں میں خاموشی تھی، مگر یہ خاموشی سکون کی نہیں بلکہ موت کے انتظار کی تھی۔ لوگ سہمے ہوئے تھے، عورتوں کی آنکھوں میں آنسو تھے اور نوجوانوں کے دل خوف سے لرز رہے تھے۔ سب جانتے تھے کہ آج پھر کوئی نہ کوئی قربان ہوگا۔
اسی دن، قدرت نے ایک انوکھا منظر رقم کیا۔ ایک اجنبی مرد مجاہد اس بستی میں داخل ہوا۔ جب اس نے پورے گاؤں کو غم اور خوف میں ڈوبا دیکھا تو اس کا دل بے چین ہو اٹھا۔ اس نے بستی والوں سے پوچھا:
“یہ کیسی خاموشی ہے؟ تم سب اتنے خوفزدہ کیوں ہو؟”
لوگوں نے اسے دیو کی کہانی سنائی، اور بتایا کہ ہر سال ایک انسان کی جان چلی جاتی ہے۔
کمزور قربانی
مجاہد نے پوچھا،
“اس سال کس کو مقابلے کے لیے چنا گیا ہے؟”
لوگ ایک نوجوان کو اس کے سامنے لے آئے۔ وہ نوجوان کمزور، نحیف اور خوف سے زرد پڑا ہوا تھا۔ اس کے جسم سے صاف ظاہر تھا کہ وہ لڑنے کے قابل نہیں۔
یہ منظر دیکھ کر مجاہد نے سر ہلایا اور مضبوط لہجے میں کہا:
“اس بار دیو کا مقابلہ تم میں سے کوئی نہیں کرے گا۔ آج میں خود میدان میں اتروں گا۔”
یہ الفاظ سن کر بستی والوں کے دلوں میں پہلی بار امید نے جنم لیا۔
مقابلے کا لمحہ
میدان میں بیٹھ کر مجاہد دیو کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں دور سے ایک خوفناک سایہ نمودار ہوا۔ دیو آ رہا تھا — قد آسمان کو چھوتا ہوا، ہاتھ میں تلوار، اور آواز گرجدار۔
وہی للکار، وہی سوال۔
گاؤں کانپ اٹھا، مگر مجاہد نے اللہ کا نام لیا، سینہ تان کر میدان میں کود پڑا اور پکارا:
“ہاں! میں ہوں مقابلے کے لیے۔ آؤ، دیکھتے ہیں کس میں کتنا دم ہے!”
خوف کا سکڑنا
جیسے ہی مجاہد دیو کی طرف بڑھا، ایک عجیب منظر دیکھنے میں آیا۔ دیو کا قد آہستہ آہستہ کم ہونے لگا۔
پہلے وہ پہاڑ سا لگا، پھر ہاتھی جتنا، پھر عام انسان کے برابر، پھر بچے کے قد تک…
اور جب بالکل قریب آیا تو وہ ایک مینڈک کے برابر رہ گیا۔
ایک ہی وار میں مجاہد نے اسے ختم کر دیا۔
خوف کی حقیقت
مرتے ہوئے دیو سے مجاہد نے پوچھا:
“تم کون ہو؟ اور یہ کیسے ممکن ہوا کہ تم اتنے چھوٹے ہو گئے؟”
دیو نے آخری سانسوں میں کہا:
“میں کچھ بھی نہیں… میں انسان کے دل میں پلنے والا خوف ہوں۔
جتنا انسان مجھ سے ڈرتا ہے، میں اتنا ہی بڑا ہو جاتا ہوں۔
اور جب وہ ہمت اور یقین کے ساتھ میرا سامنا کرتا ہے، تو میں اپنی حیثیت کھو دیتا ہوں۔”
سبق
یہ کہانی ہمیں ایک گہرا سبق دیتی ہے:
خوف اتنا ہی طاقتور ہوتا ہے، جتنی طاقت ہم خود اسے دے دیتے ہیں۔
جب انسان ہمت، ایمان اور یقین کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تو بڑے سے بڑا خوف بھی مٹھی میں آ جاتا ہے۔
اور جب وہ ڈر کے آگے جھک جائے، تو یہی خوف اسے اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
اصل طاقت انسان کا یقین ہے،
اور سب سے بڑا دشمن اس کا اپنا خوف۔

Leave a Reply

NZ's Corner