ھالی ووڈ کی بیشمار فلموں میں ایک ایسی مخلوق یا جانور دکھایا جاتا ھے جو زمین پھاڑ کر باھر آ جاتا ھے وہ جانور اس قدر قوی ھیکل اور طاقتور ھوتا ھے کہ پتھریلی سخت زمین اس کی بے پناہ طاقت کے سامنے ریت سے بھی کمزور ثابت ھوتی ھے ۔ زمین سے باھر نکل کروہ تباہی و بربادی پھیلانے لگتا ھے انسانوں کو تنکوں کی مانند اٹھا اٹھا کر پھینکتا ھے برٰ بڑی عمارات اس کے آگے ریت سے بنے گھروندوں سے زیادہ اھمیت نہیں رکھتے ۔ انسان اس پر قابو پانے یا اسے ھلاک کرنے کی تدابیر آزماتے ہیں لیکن ناکام رھتے ھیں۔ ھالی ووڈ کے تقریبا” سبھی فلمساز اور ڈائریکٹر یہودی ہیں۔ یہ اپنی اس قسم کی فلموں مین ایک پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر اس طرح کی کوئی مخلوق زمین سے باھر آتی ھے جس کا مقابلہ انسانوں کو کرنا پڑ جائے تو وہ کس طرح اس سے نبردآزما ھوسکتے ہیں۔ یہودی قوم کٹر قسم کی مذھبی قوم ھے ۔ یہ قوم اپنی الہامی کتاب تورات کے بعد آنے والی الہامی کتابوں بائبل مقدس اور قران کریم پر بھی بے حد یقین رکھتے ہیں حتی کہ نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کو بھی بہت اھمیت دیتے ہیں۔
یہودی فلمساز جس جانور کی کہانی اپنی فلموں میں دکھاتے ہیں اس کا ذکر تورات کے علاوہ بائبل کے باب نمبر 13۔ میں 13۔11،18 کے اندر موجود ھے جسے زمین کا جانور کے نام سے پکارا گیا ہے ۔
دابہ ۔۔۔۔۔ ایسا چوپایہ جو زمین پر رینگ رینگ کر چلتا ہو ، اس کا قران پاک میں ذکر اس طرح ملتا ہے کہ
اورجب ان کے بارے میں عذاب کا وعد ہ پورا ہوگا تو ہم ان کے لئے زمین میں سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرے گا اس لئے کہ لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہیں لاتے تھے ۔
(پارہ ۔20رکوع ۔2)
اسلام میں بھی اس جانور کو زمین کے جانور(دابۃ الارض) کے نام سے یاد کیا گیا ھے۔اس جانور کا زمین سے خروج قیامت کی اہم ترین نشانی ہے ۔ یہ قیامت کے انتہائی قریب کے زمانے میں خروج کرے گا۔ احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ چوپایہ انتہائی عظیم الجثہ ہوگا۔ مفسرین میں سے بعض کا بیان ہے اس کا خول ساٹھ گز ہوگا۔انتہائی طاقتور ہوگا۔بعض روایات کے مطابق اس کی جسامت اتنی بڑی ہوگی کہ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس کے چار پیر ہونگے وہ صفا کے کھڈ سے نکلے گا ،بہت تیزی سے خروج کرے گااس کے خروج کی رفتار ایسی ہوگی جیسے کہ کوئی تیز رفتار گھوڑا ہو لیکن تین دن میں اس کے جسم کا تیسرا حصہ بھی نہ نکلا ہوگا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے اس کے جسم پر سب رنگ ہونگے۔ اس کے دوسینگوں کے درمیان سوار کے لئے ایک فرسخ کی راہ ہوگی۔
اسی طرح حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اس کے بال ہونگے کھر ہونگے ڈاڑھی ہوگی دم نہ ہوگی۔ تین دن میں بمشکل ایک تہائی باہر آئے گا حالانکہ تیز گھوڑے کی چال چلتا ہوگا۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جانور اس قدر قوی ھیکل ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے آج تک جتنی مخلوقات پیدا کی ہیں ان میں سے کوئی بھی اس کی جسامت کے لحاظ سے آدھی بھی نہیں ہوسکتی ۔
ابن ماجہ میں حضرت بریدہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر مکہ کے پاس ایک جنگل میں گئے۔ میں نے دیکھا کہ ایک خشک زمین ہے جس کے ارد گرد ریت ہے۔ فرمانے لگے یہیں سے دابتہ الارض نکلے گا۔
اس انتہائی طاقتور اور خوفناک جانور کے خروج کا سبب کیا ہوگا؟ قران پاک میں جیسا کہ بتایا گیا ھے کہ وہ لوگوں سے کلام کرے گا کہ تم اللہ کی آئیتوں پر ایمان نہیں لاتے تھے۔
قران پاک کی اس آیت اور احادیث سے جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اس زمانے میں لوگ گمراہی اور ضلالت میں اس قدر غرق ھوچکے ہونگے کہ سچ جھوٹ کی پہچان ناممکن ھو چکی ھوگی ، حق اور باطل کی تمیز اس قدر مشکل ہوچکی ہوگی کہ لوگون کے لئے یہ شناخت کرنا مشکل ہوجائے گا کہ کون حق اور سچائی پر ہے اور کون جھوٹ اور باطل پر ہے ۔ حق باطل لگنے لگے گا اور باطل حق پر محسوس ہوتا ہوگا ۔ اگر دیکھا جائے تو کچھ اسی ہی قسم کی صورتھال اس وقت بھی ہے کہ اب علم ہی نہیں ہوتا کہ نیک کون ہے اور برا کون ہے ۔ جہالت اور گمراہی کی وجہ سے لوگ برے کو احترام دیں گے اچھے کو ذلیل کریں گے ۔ بت پرست کافر مشرک اور فاسق و فاجر راہ حق پر لگیں گے ، جبکہ اھل ایمان کافر و مشرک سمجھیں جائیں گے ۔ ایسے میں ایک روز اللہ تعالیٰ کے حکم سے صفا کے مقام پر مکہ میں ایک انتہائی طاقتور اور دیوقامت جانور زمین کا سینہ چیر کر برامد ہوگا۔ اس کی چیخ و پکار ، دھاڑ اور چنگاڑ بھی اس کی مانند بے حد دہشتناک ہوگی جس کو سن کر لوگوں کے کلیجے منہ کو آنے لگیں گے ۔ وہ انتہائی تیزرفتاری سے پور دنیا کا چکر لگائے گا۔ وہ بالکل انسانوں کے انداز میں گفتگو کرے گا۔ یقینا” اس دور میں بھی آج کے زمانے کے انسانوں کی طرح اسلحہ ہتھیار ہونگے اور وہ اس جانور پر قابو پانے یا اسے ختم کرنے کی بھی کوشش کریں گے.
