ایک شہر میں دو دوست رہتے تھے، مکار چند اور بھولا رام۔ مکار چند بہت چالاک مگر دھوکے باز تھا، جبکہ بھولا رام سادہ لوح اور بھروسہ کرنے والا تھا۔
ایک دن سفر کے دوران انہیں ایک تھیلا ملا جس میں بہت سی اشرفیاں تھیں۔ مکار چند نے کہا:
“تجارت کی کیا ضرورت؟ یہ دولت کافی ہے۔ بہتر ہے اسے کسی محفوظ جگہ دفن کر دیں اور ضرورت کے وقت نکالتے رہیں۔”
بھولا رام نے اس کی بات مان لی۔
دونوں نے ایک بڑے درخت کے نیچے اشرفیاں دفن کر دیں اور اپنے گھروں کو چلے گئے۔
لیکن مکار چند کے دل میں کچھ اور تھا۔
اسی رات وہ چپکے سے وہاں پہنچا، ساری اشرفیاں نکال کر اپنے گھر لے گیا۔
کچھ دن بعد بھولا رام کی رقم ختم ہوگئی تو وہ مکار چند کے پاس آیا:
“چلو، درخت کے نیچے سے کچھ اشرفیاں نکال لیتے ہیں۔”
دونوں وہاں پہنچے تو زمین خالی تھی۔
مکار چند نے فوراً الزام لگا دیا:
“اشرفیاں تم نے چوری کی ہیں!”
بھولا رام نے قسم کھا کر کہا:
“میں نے ایک اشرفی بھی نہیں لی!”
مگر مکار چند اسے قاضی کی عدالت میں لے گیا۔
قاضی نے پوچھا:
“تمہارے دعوے کا کوئی گواہ ہے؟”
مکار چند نے چالاکی سے جواب دیا:
“حضور! وہ درخت خود گواہ ہے۔”
قاضی نے کہا:
“ٹھیک ہے، کل ہم سب درخت کے پاس چلیں گے۔”
مکار چند نے گھر جا کر اپنے بوڑھے باپ کو سارا منصوبہ بتایا:
“آپ درخت کی کھوہ میں چھپ جائیں۔ جب قاضی پوچھے کہ اشرفیاں کون لے گیا تو آپ اندر سے آواز دینا کہ بھولا رام لے گیا ہے۔”
بوڑھے باپ نے سمجھایا:
“بیٹا! دھوکے سے حاصل کیا ہوا مال کبھی سکون نہیں دیتا۔ یاد رکھو، مکار آدمی اکثر اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں پھنس جاتا ہے۔”
مگر مکار چند نہ مانا۔
اگلی صبح قاضی، مکار چند، بھولا رام اور بہت سے لوگ درخت کے پاس پہنچے۔
قاضی نے بلند آواز میں پوچھا:
“اے درخت! بتاؤ، اشرفیاں کون لے گیا؟”
درخت کے اندر سے آواز آئی:
“اشرفیاں بھولا رام لے گیا ہے!”
لوگ حیران رہ گئے، مگر قاضی کو شک ہوگیا۔
اس نے حکم دیا:
“درخت کے گرد خشک لکڑیاں جمع کرو اور آگ لگا دو!”
کچھ ہی دیر میں دھواں درخت کی کھوہ میں بھرنے لگا۔
اندر چھپا بوڑھا دھوئیں سے بے حال ہوگیا اور آخرکار چیخ اٹھا:
“مجھے باہر نکالو! میں سب کچھ سچ بتاتا ہوں!”
بوڑھے کو باہر نکالا گیا۔ قاضی نے سختی سے پوچھا:
“تم درخت کے اندر کیوں چھپے تھے؟”
بوڑھے نے پوری حقیقت بتا دی۔
اب مکار چند کی ساری مکاری سب کے سامنے آچکی تھی۔
قاضی نے بھولا رام کو بے گناہ قرار دیا اور مکار چند کو اس کے جھوٹ اور دھوکے کی سزا سنائی۔
مکار چند نے دولت حاصل کرنے کے لیے جال بچھایا تھا، مگر آخرکار وہ خود اسی جال میں پھنس گیا۔
سبق:
دھوکا وقتی فائدہ دے سکتا ہے، مگر سچائی آخرکار سامنے آ ہی جاتی ہے


