ایک روز ایک صوفی جو بڑا متقی اور پرہیزگار تھا، ایک بازار سے گزرا۔ ایک حلوائی جو اس کا معتقد تھا، اس سے درخواست کی کہ وہ کچھ دیر کے لیے اس کی دکان میں آکر بیٹھے. درویش نے اس کی درخواست قبول کی اور وہاں آ بیٹھا. حلوائی نے عقیدتاً ایک طشتری میں تھوڑی مٹھائی پیش کی. مکھیوں نے جیسے ہی مٹھائی کو دیکھا اس پر منڈلانے اور بھنبھنانے لگیں. بعض طشتری کے آس پاس سہنہارہی تھیں، بعض اس کے کناروں پر بیٹھی تھیں اور بعض مٹھائی پر بیٹھنے لگیں. جب حلوائی نے دیکھا کہ مکھیاں حد سے زیادہ ستارہی ہیں تو اس نے پنکھا جھل کر انھیں اڑانا شروع کیا. جو مکھیاں طشتری کے کنارے بیٹھی ہوئیں تھیں فوراً اڑ گئیں اور دور چلی گئیں اور وہ جو طشتری کے بیچ مٹھائی پر بیٹھی تھیں ان کی ٹانگیں مٹھائی میں چپک گئیں اور انھوں نے اڑنا چاہا تو نہ اڑ سکیں کیونکہ ان کے پیروں میں مٹھائی کا شیر ہ لگ گیا تھا. لہٰذا وہ شیرے میں ڈوب کر مر گئیں. یہ بات دیکھ کر درویش خوشی سے چلایا اور ایک نعرہ مستانہ لگایا. جب وہ خاموش ہوا تو حلوائی نے اس کی وجہ دریافت کی.
درویش نے کہا: ”اے میرے عزیز! آج اس مٹھائی کی طشتری اور ان مکھیوں کو دیکھ کر ایک حقیقت مجھ پر واضح ہوگئی. وہ یہ کہ دنیا ایک طشتری کی مانند ہے اور یہاں کی نعمتیں مٹھائی کی طرح میٹھی ہیں. ان نعمتوں سے لذت حاصل کرنے والے مکھیوں کی طرح ہیں. ان میں سے بعض مکھیوں کی طرح کنارے پر بیٹھے ہیں، قناعت پسند اور توکل گذار ہیں کہ اس دنیا سے تھوڑا مزا اٹھا کر صبر وشکر کرتے ہیں اور وہ جو بعض مکھیوں کی طرح طشتری کے بیچ بیٹھتے ہیں، وہ حریص اور لالچی لوگ ہیں، اور دنیا کی لذتوں سے لطف اٹھانے پر بھی اُن کا جی نہیں بھرتا. عزرائیل اُن کو گمراہی کا پنکھا جھلتا ہے تو وہ لوگ جو کنارے بیٹھے ہیں، ہٹ جاتے ہیں اور محفوظ ہو جات ہیں، مگر وہ جو درمیان میں ہیں، ہر چند کوشش کرتے ہیں کہ اس سے بچ نکلیں لیکن اُن کے قدم اندر کو دھنستے چلے جاتے ہیں اور گناہوں کے دلدل میں پھنستے چلے جاتے ہیں.“


