دوسروں سے اپنا موازنہ کرنے اور ناپائیدار چیزوں کا غم منانے کی بجائے، اپنے حصے کی خوشی اور خوبصورتی کو محسوس کرنا ہی حقیقی مسرت ہے۔

دوسروں سے اپنا موازنہ کرنے اور ناپائیدار چیزوں کا غم منانے کی بجائے، اپنے حصے کی خوشی اور خوبصورتی کو محسوس کرنا ہی حقیقی مسرت ہے۔

ایک خوبصورت وادی میں ایک ننھی تتلی رہتی تھی جس کے پروں میں دنیا کے تمام خوبصورت رنگ سمائے ہوئے تھے۔ وہ دن بھر پھولوں کا رس پیتی اور ہوائیں گنگناتیں تو ان کے ساتھ ناچتی۔ لیکن اس کی ایک عجیب عادت تھی—وہ ہر وقت اس بات پر غمگین رہتی کہ رات ہوتے ہی اندھیرا پھیل جاتا ہے اور اس کا خوبصورت روپ کسی کو نظر نہیں آتا۔
ایک شام، جب سورج پہاڑوں کے پیچھے ڈھل رہا تھا، تتلی ایک بڑے لال گلاب کی پتی پر بیٹھ کر رو رہی تھی۔ پاس ہی ایک بوڑھا جگنو، جو رات کے لیے اپنا چراغ روشن کر رہا تھا، اس کے پاس آیا اور بولا:
“پیاری تتلی! اتنی حسیں شام میں تمہاری آنکھوں میں یہ آنسو کیسے؟”
تتلی نے سرد آہ بھر کر کہا:
“دیکھو نا جگنو! دن کے وقت تو سب میرے رنگوں کی تعریف کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی رات آتی ہے، میری ساری خوبصورتی اندھیرے میں گم ہو جاتی ہے۔ کاش میں بھی سورج کی طرح ہمیشہ چمک سکتی!”
جگنو مسکرایا اور بولا:
“تتلی بہن! اگر پھول صرف دن کو مہکیں اور رات کو اپنی خوشبو بند کر لیں، تو کیا وہ پھول کہلائیں گے؟ خوبصورتی وہ نہیں جو صرف دوسروں کی داد حاصل کرنے کے لیے ہو، بلکہ اصلی خوبصورتی وہ ہے جو بغیر کسی دکھاوے کے، اپنے وجود سے ماحول میں رنگ اور خوشی بھر دے۔ تم دن کو وادی کو خوبصورت بناتی ہو، اور میں اپنے چھوٹے سے چراغ سے رات کا اندھیرا کم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ہم دونوں کا اپنا اپنا وقت ہے!”
تتلی نے جگنو کی بات پر غور کیا۔ اس نے دیکھا کہ جگنو کی ننھی سی روشنی سے رات کا اندھیرا کتنا خوبصورت لگ رہا تھا۔ اسے احساس ہوا کہ وہ دن کے اجالے کا لطف اٹھانے کے بجائے صرف اس بات پر پریشان ہوتی رہی کہ رات کو کیا ہوگا۔
اس دن کے بعد تتلی نے وقت کا رونا چھوڑ دیا۔ وہ دن کے ہر لمحے کو کھل کر جیتی اور رات کو سکون سے سو جاتی، یہ جانتے ہوئے کہ ہر چیز کا اپنا ایک وقت اور اپنا ایک روپ ہوتا ہے۔
سبق:
زندگی میں جو کچھ ہمارے پاس موجود ہے، اس کی قدر کرنی چاہیے۔ دوسروں سے اپنا موازنہ کرنے اور ناپائیدار چیزوں کا غم منانے کی بجائے، اپنے حصے کی خوشی اور خوبصورتی کو محسوس کرنا ہی حقیقی مسرت ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner