ایک بادشاہ کو تحفے میں دو بہترین اور خوبصورت عقاب ملے بادشاہ نے انہیں تربیت دینے کے لیے ایک تجربے کار اور ماہر شاہیں پرور کے حوالے کر دیا تاکہ انہیں اونچی پرواز کی تربیت دی جا سکے۔
کچھ دنوں بعد شاہین پرور نے بادشاہ کو خبر دی کہ ایک عقاب تو آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے اور بہترین پرواز کر رہا ہے لیکن دوسرا عقاب درخت کی شاخ چھوڑنے کو تیار ہی نہیں۔ وہ سارا دن اسی شاخ پر بیٹھا رہتا ہے، کھاتا پیتا ہے مگر اڑنے کی کوشش بالکل نہیں کرتا۔
بادشاہ نے ریاست کے بڑے بڑے حکیموں اور ماہرین کو بلایا تاکہ اس عقاب کو اڑنا سکھایا جا سکے، لیکن کوئی بھی اسے شاخ سے نہ اڑا سکا۔ آخر کار بادشاہ نے پورے شہر میں اعلان کروایا کہ جو اس عقاب کو اڑائے گا اسے بڑا انعام دیا جائے گا۔
اگلی صبح بادشاہ نے محل کی کھڑکی سے دیکھا تو حیران رہ گیا دوسرا عقاب بھی آسمان کی بلندیوں میں پہلے عقاب کے ساتھ پرواز کر رہا تھا اور اپنے پر پھیلا کر فضائی کرتب دکھا رہا تھا۔
بادشاہ نے فوراً اس شخص کو بلانے کا حکم دیا جس نے یہ کارنامہ سر انجام دیا جب وہ شخص بادشاہ کے سامنے آیا تو وہ ایک سادہ سا کسان تھا۔ بادشاہ نے پوچھا تم نے یہ کارنامہ کیسے سر انجام دیا؟
ہمارے اتنے بڑے بڑے ماہرین ناکام ہو گئے تھے، کسان نے مسکرا کر جواب دیا حضور! یہ بہت آسان تھا۔ میں نے بس وہ شاخ کاٹ دی جس پر وہ بیٹھا ہوا تھا۔
عقاب کے پاس پرواز کرنے کی مکمل طاقت اور صلاحیت تھی، لیکن وہ اس شاخ کے کمفرٹ زون کا عادی ہو چکا تھا جہاں اسے بغیر محنت کے کھانا مل رہا تھا۔ جب تک انسان اپنے Comfort Zone میں رہتا ہے، وہ اپنی حقیقی صلاحیتوں کو پہچان نہیں سکتا۔
کبھی کبھی بڑی بڑی مشکلات کا حل پیچیدہ نظریات کے بجائے ایک سادہ عملی قدم میں پوشیدہ ہوتا ہے، جیسا کہ کسان نے مشکل حل ڈھونڈنے کے بجائے سیدھا اس رکاوٹ کو ہی ہٹا دیا۔
