دو مزدور اور کنواں

دو مزدور اور کنواں

ایک بنجر گاؤں تھا۔ کئی مہینوں سے بارش نہیں ہوئی تھی، کھیت جل چکے تھے، جانور پیاس سے بے حال تھے، اور لوگ ایک ایک بوند پانی کو ترس رہے تھے۔ آخر گاؤں والوں نے فیصلہ کیا کہ گاؤں کے باہر ایک بڑا کنواں کھودا جائے، تاکہ زندگی پھر سے لوٹ آئے۔
ٹھیکیدار نے دو مزدور رکھے: رحیم اور کریم۔ دونوں کی مزدوری ایک جیسی تھی، کام بھی ایک جیسا تھا، مگر سوچ الگ تھی۔
رحیم صبح اندھیرے سے پہلے آ جاتا۔ گرمی ہو یا سردی، وہ پوری توجہ سے بیلچہ چلاتا رہتا۔ اس کے کپڑے پسینے سے تر ہوتے، ہاتھ چھل جاتے، مگر وہ رکنے کا نام نہ لیتا۔ اس کا کہنا تھا،
“رزق حلال ہے، کام پورا کرنا میرا فرض ہے۔”
دوسری طرف کریم شروع میں تو جوش سے کام کرتا، مگر جلد ہی تھک جاتا۔ وہ کبھی سائے میں بیٹھ جاتا، کبھی پانی پیتے پیتے وقت ضائع کرتا، اور کبھی لوگوں سے کہتا،
“اتنا گہرا کنواں کھودنے سے کیا ہوگا؟ پانی نکلے گا بھی یا نہیں؟ بس دن گزار لو، مزدوری تو مل ہی رہی ہے۔”
دن ہفتوں میں بدلے، اور ہفتے مہینوں میں۔ کنواں 30 فٹ تک پہنچ گیا۔ مگر پانی ابھی تک نہ آیا۔ کریم نے تنگ آ کر کام چھوڑ دیا۔
“میں جا رہا ہوں،” وہ بولا، “یہاں کچھ نہیں نکلے گا۔”
رحیم اکیلا رہ گیا۔ اب پورا گاؤں بھی اس پر شک کرنے لگا۔ کچھ لوگ ہنسنے لگے، کچھ نے کہا کہ یہ ضدی ہے، اور کچھ نے تو اسے پاگل تک کہہ دیا۔ مگر رحیم نے کسی کی بات پر دھیان نہ دیا۔ وہ صرف ایک ہی بات سوچتا تھا:
“بس ایک بار اور… شاید منزل قریب ہے۔”
پھر آیا وہ دن…
31ویں فٹ پر رحیم نے جیسے ہی بیلچہ زمین میں مارا، اچانک مٹی نم ہوئی، پھر ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا، اور اگلے ہی لمحے کنویں سے ٹھنڈے پانی کا فوارہ پھوٹ پڑا۔
پورا گاؤں دوڑتا ہوا آیا۔ لوگ خوشی سے نعرے لگانے لگے۔ عورتیں دعائیں دینے لگیں۔ بچے ہنسی خوشی پانی کے گرد ناچنے لگے۔ جس پانی کے لیے گاؤں ترس رہا تھا، وہ رحیم کی ایک اور ضرب سے نکل آیا تھا۔
جو لوگ کل تک اسے پاگل کہہ رہے تھے، آج اسی کے ہاتھ چوم رہے تھے۔
تھوڑی دیر بعد کریم بھی واپس آیا۔ پانی دیکھ کر وہ خاموش کھڑا رہ گیا۔ پھر آہستہ سے بولا:
“کاش… میں بھی ایک فٹ اور کھود لیتا۔”
سبق
کامیابی اور ناکامی کے درمیان اکثر صرف ایک اور کوشش کا فرق ہوتا ہے۔
بہت سے لوگ منزل سے کچھ ہی پہلے ہار مان لیتے ہیں، اور جو رکنے کے بجائے ایک قدم اور بڑھا دیتا ہے، انعام اسی کا ہوتا ہے۔



Leave a Reply

NZ's Corner