جنگل کے ایک کنارے پر لومڑی اور بھیڑیا رہتے تھے۔ دونوں کی دوستی ایسی مشہور تھی کہ جنگل کے جانور کہا کرتے تھے، “اگر ایک شرارت سوچتا ہے تو دوسرا اسے مکمل کرنے کا راستہ بھی ڈھونڈ لیتا ہے۔” دونوں کی ایک عادت البتہ نہایت بری تھی۔ محنت سے انہیں ایسی چِڑ تھی جیسے بلی کو پانی سے۔ مگر کھانے کے شوقین اس قدر تھے کہ جنگل میں جہاں بھی کسی نئے ہوٹل یا سرائے کی خبر ملتی، سب سے پہلے وہی پہنچتے۔
ایک دن دونوں ایک مشہور ہوٹل میں جا بیٹھے۔ میز پر طرح طرح کے کھانے سج گئے۔ دونوں نے اس بے فکری سے کھایا جیسے کئی دنوں کے بھوکے ہوں۔ ابھی بل آنے ہی والا تھا کہ ساتھ والی میز پر بیٹھے ایک جنگلی سور سے ان کی معمولی سی تلخ کلامی ہوگئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے شور برپا ہوگیا۔ ہوٹل کا مالک جھگڑا بڑھتا دیکھ سب کو باہر نکالنے میں لگ گیا۔ اس ہنگامے میں نہ کسی نے بل مانگا، نہ کسی کو یاد رہا کہ کون کھا کر جا رہا ہے۔
ہوٹل سے کچھ دور جا کر لومڑی اچانک رک گئی۔ اس کی آنکھوں میں شرارت چمکی۔
“بھیڑیے! آج قسمت نے ہمیں بیٹھے بٹھائے ایک کاروبار سکھا دیا ہے۔”
بھیڑیا حیران ہوا۔
“کیسا کاروبار؟”
لومڑی ہنس کر بولی، “کھانا بھی مفت، بل بھی معاف! اس سے بہتر تجارت اور کیا ہوگی؟”
بس پھر کیا تھا۔ اگلے ہی دن سے دونوں نے یہی طریقہ اپنا لیا۔ مگر اب ہر بار لڑائی کرنا آسان نہ تھا، اس لیے لومڑی نے نئی ترکیب نکالی۔
جہاں بھی جاتے، پہلے خوب پیٹ بھر کر کھاتے۔ پھر آخر میں اچانک چیخ اٹھتے۔
“یہ کیا! یہ کیسا کھانا ہے؟ ہم ابھی بادشاہ کے پاس شکایت کریں گے! تم نے ہماری جان خطرے میں ڈال دی!”
ہوٹل کا مالک گھبرا جاتا۔ اسے اپنی عزت اور کاروبار کی فکر لاحق ہو جاتی۔ وہ ہاتھ جوڑ کر معافیاں مانگتا، بل معاف کر دیتا اور کبھی کبھی خوش کرنے کے لیے اضافی میٹھا یا پھل بھی ساتھ باندھ دیتا۔
دونوں ہوٹل سے نکلتے تو راستے بھر قہقہے لگاتے۔
بھیڑیا کہتا، “آج بھی مفت کھانا!”
لومڑی فخر سے جواب دیتی، “بیوقوف محنت کرتے ہیں، عقل مند دماغ چلاتے ہیں!”
یوں چند ہی ہفتوں میں جنگل کا شاید ہی کوئی ہوٹل بچا ہو جہاں یہ دونوں اپنی چال نہ چل چکے ہوں۔
لیکن فریب کی عمر ہمیشہ مختصر ہوتی ہے۔
ایک دن وہ جنگل کے سب سے بڑے ہوٹل میں جا پہنچے، جس کا مالک ایک عمر رسیدہ ہاتھی تھا۔ اس نے نہایت محبت سے دونوں کی خاطر کی۔ دونوں نے حسبِ عادت خوب کھایا، پھر اچانک شور مچا دیا۔
“یہ کیا کھانا بنا رکھا ہے؟ ہم سیدھے بادشاہ کے دربار جائیں گے!”
ہاتھی نے نہ غصہ کیا، نہ گھبرایا۔
اس نے نہایت سکون سے کہا، “ضرور جائیے… بلکہ میں بھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔ انصاف وہیں ہوگا۔”
یہ سن کر دونوں کے چہروں سے مسکراہٹ غائب ہوگئی، مگر اب پیچھے ہٹنے کی گنجائش نہ تھی۔
دربار میں پہنچ کر ہاتھی نے عرض کیا، “حضور! فیصلہ کرنے سے پہلے جنگل کے دوسرے ہوٹل والوں کو بھی بلا لیا جائے۔”
چند ہی دیر میں کئی ہوٹل والے حاضر ہوگئے۔
سب نے ایک ہی بات کہی۔
“بادشاہ سلامت! یہ دونوں ہر جگہ یہی ڈراما کرتے ہیں۔ پہلے خوب کھاتے ہیں، پھر شور مچا کر بل معاف کرا لیتے ہیں۔”
اب لومڑی کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔
بادشاہ نے دونوں کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا، “تم نے مفت کھانے کا منصوبہ تو بڑا اچھا بنایا، مگر ایک بات بھول گئے…”
دونوں نے سر اٹھایا۔
بادشاہ بولا، “جھوٹ ہر بار نیا لباس پہن سکتا ہے، مگر اس کا چہرہ ہمیشہ ایک جیسا رہتا ہے۔”
پھر حکم دیا گیا کہ دونوں ایک ماہ تک جنگل کے تمام ہوٹلوں میں خدمت کریں گے، برتن دھوئیں گے، میزیں صاف کریں گے اور ہر آنے والے مسافر سے ایک ہی جملہ کہیں گے:
“جو شخص اپنی چالاکی سے دوسروں کا رزق چھیننے کی کوشش کرتا ہے، ایک دن اسی چالاکی کے ہاتھوں اپنی عزت بھی کھو بیٹھتا ہے۔”
اخلاقی سبق
دھوکا وقتی فائدہ ضرور دے سکتا ہے، مگر مستقل عزت کبھی نہیں۔ جو لوگ دوسروں کی نیکی، عزت یا کاروبار کو اپنی چالاکی کا شکار بناتے ہیں، وقت ایک دن انہیں اسی ہجوم کے سامنے کھڑا کر دیتا ہے جسے وہ کبھی بے وقوف سمجھتے تھے۔
