دکان بند ہونے میں صرف چند منٹ باقی تھے۔ قصاب دن بھر کی تھکن سمیٹ رہا تھا کہ اچانک ایک عورت جلدی جلدی دکان میں داخل ہوئی۔
“کیا آپ کے پاس کوئی مرغی باقی ہے؟”
قصاب نے فریزر کھولا اور آخری بچی ہوئی مرغی نکال کر ترازو پر رکھی۔
“جی ہاں، یہی آخری ہے۔”
ترازو نے تقریباً ڈیڑھ کلو وزن دکھایا۔
عورت نے مرغی کو غور سے دیکھا، پھر بولی:
“کیا اس سے بڑی کوئی مرغی بھی ہے؟”
قصاب ایک لمحے کے لیے سوچ میں پڑ گیا۔ فروخت کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتا تھا۔ اس نے وہی مرغی دوبارہ فریزر میں رکھی، چند لمحے انتظار کیا، پھر نکال کر ترازو پر رکھ دی۔ اس بار اس نے چالاکی سے اپنا انگوٹھا ترازو پر دبا دیا۔
وزن دو کلو ظاہر ہوا۔
عورت کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔
“بہت خوب! پھر مجھے دونوں مرغیاں دے دیجیے۔”
یہ سنتے ہی قصاب کا رنگ اُڑ گیا۔
اس کے پاس صرف ایک ہی مرغی تھی۔
ایک لمحہ پہلے جو خود کو بڑا ذہین سمجھ رہا تھا، اب اپنی ہی چال میں بری طرح پھنس چکا تھا۔ جھوٹ کا سہارا لے کر چند روپے زیادہ کمانے کی کوشش نے اسے ایسی شرمندگی میں ڈال دیا جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔
عورت نے نہ بحث کی، نہ الزام لگایا، نہ غصہ کیا۔ اس نے صرف ایک جملہ کہا، اور سچ خود بے نقاب ہو گیا۔
زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے۔ وقتی فائدے کے لیے بولا گیا ایک جھوٹ یا کی گئی ایک بے ایمانی انسان کی ساری ساکھ کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔
یاد رکھیے، دولت دوبارہ کمائی جا سکتی ہے، لیکن کھویا ہوا اعتماد واپس حاصل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے
