رزق کا مالک کون؟”۔۔۔ایک سبق آموز کہانی

رزق کا مالک کون؟”۔۔۔ایک سبق آموز کہانی



ایک شخص ایک مالدار آدمی کے ہاں ملازم تھا۔ وہ خاموش طبیعت اور محنتی انسان تھا، مگر ایک دن اچانک کام پر نہ آیا۔

مالک نے سوچا:

“شاید اسے اجرت کم ملتی ہے، اسی لیے کام میں دل نہیں لگاتا۔ اگر اس کی تنخواہ بڑھا دوں تو شاید یہ خوش ہو جائے اور آئندہ چھٹی نہ کرے۔”

اگلے دن مالک نے اس کی اجرت میں کچھ اضافہ کر دیا۔

ملازم نے اضافی رقم دیکھی، مگر کچھ نہ پوچھا۔ بس خاموشی سے رقم لے لی۔

چند دن گزرے تو وہ ایک بار پھر کام پر نہ آیا۔

اس مرتبہ مالک کو غصہ آ گیا۔ اس نے سوچا:

“میں نے اس کی تنخواہ بڑھائی، پھر بھی یہ غیر حاضر ہو گیا!”

چنانچہ مالک نے پچھلا اضافہ واپس لے لیا اور اسے دوبارہ وہی پرانی اجرت دینے لگا۔

حیرت کی بات یہ تھی کہ ملازم اس بار بھی خاموش رہا۔

آخرکار مالک سے رہا نہ گیا۔ اس نے پوچھ ہی لیا:

“جب میں نے تمہاری تنخواہ بڑھائی، تب بھی تم خاموش رہے، اور آج جب میں نے کمی کر دی ہے تب بھی تمہیں کوئی شکایت نہیں۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟”

ملازم نے اطمینان سے جواب دیا:

“مالک! پہلی مرتبہ جب میں کام پر نہیں آیا تھا تو میرے گھر ایک بچے کی پیدائش ہوئی تھی۔”

“میں نے سوچا کہ آپ نے میری اجرت میں جو اضافہ کیا ہے، شاید یہ میرے اس بچے کا رزق ہے جو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دنیا میں لے کر آیا ہے۔ اس لیے میں نے اسے خوشی سے قبول کر لیا۔”

پھر اس کی آواز میں ہلکی سی اداسی آ گئی۔🥺

“اور دوسری مرتبہ جب میں کام پر نہیں آیا تھا، تو میری بوڑھی ماں دنیا سے رخصت ہو گئی تھی۔”

“آپ نے میری اجرت میں جو اضافہ واپس لیا، میں نے اسے اپنی ماں کا وہ رزق سمجھا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ واپس لے لیا۔”

پھر وہ مسکرا کر بولا:

“جب رزق کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے، تو میں اس چیز کی فکر کیوں کروں جس کا اختیار میرے ہاتھ میں ہی نہیں؟”

یہ سن کر مالک کے پاس کہنے کو کچھ نہ رہا۔

وہ دیر تک خاموش بیٹھا رہا، جیسے اس معمولی سے ملازم نے اسے زندگی کا بہت بڑا سبق دے دیا ہو۔

رزق ہماری محنت سے ضرور جڑا ہے، مگر اس کا مالک ہم نہیں۔
کوشش انسان کے ذمہ ہے، رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner