ایک بلند پہاڑی کے دامن میں ایک گھنا جنگل آباد تھا۔ پہاڑی کی چوٹی پر پتھروں کے درمیان ایک تنگ سا راستہ تھا جو ایک چھوٹی سی غار تک جاتا تھا۔ اسی غار میں ایک پہاڑی بکری رہتی تھی جس کی عادت تھی کہ ہر صبح جنگل کے نچلے حصے میں اترتی، جہاں کہیں تازہ گھاس، نرم پتے، جنگلی پھل یا خوراک کا کوئی اور ذخیرہ ملتا، اسے سمیٹتی اور واپس اپنی غار کی طرف چل پڑتی۔ اس کے دل میں ہمیشہ ایک ہی خواہش رہتی کہ آج کچھ زیادہ خوراک جمع کر لے، تاکہ آنے والے دنوں میں اسے دوبارہ نیچے نہ اترنا پڑے۔ چنانچہ وہ جتنا اٹھا سکتی، اس سے بھی زیادہ سمیٹنے کی کوشش کرتی؛ کبھی منہ میں پتے بھر لیتی، کبھی پیٹھ پر گھاس کا گٹھا لاد لیتی اور کبھی دانتوں میں جنگلی پھل دبا کر پہاڑی کی چڑھائی شروع کر دیتی۔ مگر راستے میں ایک خطرناک موڑ آتا تھا جہاں پگڈنڈی ایک طرف سے گہری کھائی کے اوپر سے گزرتی تھی۔ وہاں پتھر ڈھیلے تھے اور ذرا سا پاؤں پھسلنے پر نیچے گرنے کا اندیشہ تھا۔ جب بکری اس موڑ کے قریب پہنچتی تو اس کے قدم سست پڑ جاتے، دل دھڑکنے لگتا اور اسے محسوس ہوتا کہ اگر اس نے اس سے پہلے اپنی خوراک کا بوجھ ہلکا نہ کیا تو شاید وہ خود بھی اس کے ساتھ کھائی میں جا گرے گی۔ چنانچہ وہ احتیاط سے خوراک کا کچھ حصہ ایک بڑے پتھر کے پاس رکھ دیتی، پھر باقی بوجھ اٹھا کر غار تک پہنچ جاتی۔ اگلے دن وہ پھر نیچے اترتی، خوراک جمع کرتی اور واپسی پر اسی موڑ پر پہنچ کر کچھ نہ کچھ چھوڑ دیتی۔ کبھی اس کے دل میں خیال آتا کہ آج کم خوراک اٹھاؤں گی، مگر جنگل میں تازہ اور لذیذ خوراک دیکھ کر اس کی حرص پھر جاگ اٹھتی۔ وہ سوچتی، ’’کون جانے کل اتنی خوراک ملے یا نہ ملے؛ آج موقع ملا ہے تو کیوں نہ زیادہ سے زیادہ جمع کر لوں؟‘‘ یوں اس کی زندگی کا ایک معمول بن گیا: نیچے جا کر ضرورت سے زیادہ خوراک سمیٹنا، پہاڑی پر چڑھنا، موڑ پر خوف زدہ ہونا اور کچھ حصہ وہیں چھوڑ دینا۔ وقت گزرتا گیا، موسم بدلتے رہے، بہاریں آئیں اور خزائیں گزر گئیں۔ وہ بکری جو کبھی پھرتی سے چٹانوں پر دوڑتی تھی، اب عمر کے بوجھ تلے آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگی۔ اس کے گھٹنے جواب دینے لگے، سانس جلد پھولنے لگی اور ایک دن ایسا آیا کہ اس کے لیے غار سے باہر نکلنا بھی دشوار ہو گیا۔ اب وہ زیادہ تر غار کے دہانے پر پڑی رہتی اور کبھی کبھار کسی گزرتے جانور سے ملنے والی تھوڑی سی خوراک پر گزارا کرتی۔ ایک صبح اس نے دیکھا کہ ایک ننھی سی گلہری اس کی غار کے سامنے آئی۔ اس کے منہ میں جنگلی پھل تھے اور اس کے ساتھ کچھ نرم پتے بھی تھے۔ گلہری نے خوراک اس کے سامنے رکھی اور نہایت محبت سے بولی، ’’اماں بکری! یہ آپ کے لیے ہے۔‘‘ بکری نے حیرت سے اسے دیکھا۔ ’’میرے لیے؟ مگر تم کون ہو، اور یہ سب میرے لیے کیوں لائی ہو؟‘‘ گلہری نے سر جھکایا اور کہا، ’’شاید آپ مجھے نہیں پہچانتیں، لیکن میں آپ کو برسوں سے جانتی ہوں۔ جب میں پیدا ہوئی تھی تو میری ماں مجھے جنم دیتے ہی دنیا سے رخصت ہو گئی۔ میں اتنی چھوٹی تھی کہ غار سے باہر نکلنا تو دور، اپنے بل سے چند قدم بھی نہیں چل سکتی تھی۔ کئی دن تک میں بھوک سے بے حال رہتی۔ پھر ایک صبح جب میں نے بل کے دہانے سے جھانکا تو وہاں چند نرم پتے اور جنگلی پھل پڑے تھے۔ میں نے انہیں کھایا تو جان میں جان آئی۔ اگلے دن پھر خوراک پڑی تھی، پھر اس کے اگلے دن بھی۔ میں نہیں جانتی تھی کہ یہ کون رکھ جاتا ہے، مگر میری زندگی اسی خوراک کے سہارے چلنے لگی۔ میں بڑی ہونے لگی، مگر پھر بھی کچھ عرصہ تک اپنے بل سے دور نہیں جا سکتی تھی۔ ہر صبح مجھے اپنے دہانے پر خوراک ملتی رہی۔‘‘ بکری خاموشی سے سنتی رہی۔ گلہری نے اپنی بات جاری رکھی، ’’ایک دن میں نے ذرا جلدی آنکھ کھولی تو دیکھا کہ آپ اس راستے سے گزر رہی تھیں۔ آپ کے منہ میں گھاس تھی اور پیٹھ پر خوراک کا گٹھا۔ جب آپ اس بڑے پتھر کے پاس پہنچیں تو آپ نے بوجھ میں سے کچھ خوراک اتار کر وہیں رکھ دی اور باقی لے کر آگے بڑھ گئیں۔ اس دن مجھے معلوم ہوا کہ میری خوراک کون رکھ جاتا ہے۔ میں نے سوچا کہ شاید آپ کو میری موجودگی کا علم ہے اور آپ جان بوجھ کر میرے لیے یہ سب چھوڑ جاتی ہیں۔ میں نے کبھی آپ سے پوچھا نہیں، کیونکہ میرے لیے آپ کی نیکی کسی وضاحت کی محتاج نہ تھی۔‘‘ بکری کی آنکھوں میں حیرت اتر آئی۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی، مگر گلہری ابھی بول رہی تھی، ’’وقت گزرتا گیا، میں بڑی ہو گئی اور اب خود خوراک تلاش کر سکتی ہوں۔ لیکن جب کچھ دن پہلے میں اسی راستے سے گزری تو میں نے دیکھا کہ آپ بہت بوڑھی ہو چکی ہیں۔ آپ کے قدم لڑکھڑاتے ہیں، آپ غار سے باہر نہیں نکل پاتیں اور آپ کے سامنے خوراک بھی بہت کم ہے۔ مجھے اسی لمحے اپنے بچپن کے وہ دن یاد آئے جب میں بھوکی ہوتی تھی اور صبح آپ کی چھوڑی ہوئی خوراک میرے لیے زندگی کا تحفہ بن جاتی تھی۔ میں نے سوچا، جب آپ نے میری محتاجی کے دنوں میں میرا سہارا بننے کا سبب فراہم کیا، تو اب میرا فرض ہے کہ میں بھی آپ کی ضرورت کے وقت آپ کے کام آؤں۔ اسی لیے آج یہ خوراک لے کر آئی ہوں۔ یہ صرف ایک دن کی خوراک نہیں؛ میں جب تک ممکن ہوا، آپ کے لیے خوراک لاتی رہوں گی۔‘‘ بکری کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس نے دھیمی آواز میں کہا، ’’بیٹی، تمہاری محبت میرے لیے بہت بڑی نعمت ہے، مگر ایک بات سن کر تم شاید حیران ہو جاؤ۔ میں نے یہ خوراک تمہارے لیے کبھی جان بوجھ کر نہیں چھوڑی تھی۔ میں تو ہر روز ضرورت سے زیادہ خوراک اٹھا لیتی تھی۔ جب اس خطرناک موڑ پر پہنچتی تو مجھے ڈر لگتا کہ اگر سارا بوجھ اٹھائے آگے بڑھی تو کہیں خود بھی کھائی میں نہ جا گروں۔ اس لیے کچھ خوراک وہیں چھوڑ دیتی تھی۔ مجھے تو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اس پتھر کے قریب تمہارا بل ہے۔ میں اپنی جان بچانے کے لیے بوجھ ہلکا کرتی رہی، اور تمہاری جان کے لیے وہی خوراک سہارا بنتی رہی۔‘‘ گلہری چند لمحے خاموش رہی، پھر اس نے محبت سے بکری کا سر سہلاتے ہوئے کہا، ’’اماں، آپ کی نیت کچھ بھی رہی ہو، میرے لیے وہ خوراک زندگی کا وسیلہ بنی۔ میں اس کا بدلہ چکانے نہیں آئی، کیونکہ کسی کی بھلائی کا حساب نہیں کیا جاتا؛ میں تو صرف وہ محبت آگے بڑھانے آئی ہوں جس کے سہارے مجھے زندگی ملی۔‘‘ بکری کی نگاہ غار کے دہانے سے باہر دور تک پھیلی ہوئی پہاڑیوں پر جا ٹھہری۔ اسے اپنی پوری زندگی یاد آنے لگی: وہ ہر روز زیادہ خوراک کی خواہش میں نیچے اترتی رہی، ہر روز کچھ حصہ چھوڑتی رہی اور ہر روز یہ سمجھتی رہی کہ اس کی محنت کا ایک حصہ ضائع ہو گیا۔ اسے کیا خبر تھی کہ جسے وہ نقصان سمجھ رہی ہے، وہ کسی اور کی زندگی کا سامان بن رہا ہے۔ جس خوراک کو وہ اپنے ساتھ نہ لے جا سکنے پر چھوڑ دیتی تھی، وہی خوراک اس کے بڑھاپے میں اس کے لیے محبت بن کر لوٹ آئی تھی۔ اس نے گلہری سے کہا، ’’بیٹی، آج تم نے مجھے ایک ایسی بات سمجھائی ہے جسے میں ساری عمر نہ سمجھ سکی۔ ہم اکثر یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ سے کیا نکل گیا، مگر یہ نہیں جانتے کہ ہماری زندگی سے گزرنے والی کسی چیز کو اللہ تعالیٰ کسی دوسرے کے لیے وسیلہ بنا رہا ہوتا ہے۔‘‘ اس دن کے بعد گلہری روزانہ بکری کے لیے خوراک لانے لگی۔ کبھی جنگلی پھل، کبھی نرم پتے، کبھی تازہ گھاس۔ بکری کا بڑھاپا تو ختم نہ ہوا، مگر اس کی تنہائی ختم ہو گئی۔ غار کے دہانے پر اب صرف ایک کمزور جانور نہیں پڑا رہتا تھا، وہاں دو نسلوں کے درمیان محبت کا ایک خاموش رشتہ آباد ہو گیا تھا۔ اور پہاڑی کے اس موڑ پر، جہاں بکری برسوں اپنے بوجھ کے خوف سے خوراک چھوڑتی رہی تھی، اب جب کبھی کوئی مسافر گزرتا تو اسے پتھروں کے پاس پڑے چند دانے یا پھل نظر آ جاتے۔ کوئی انہیں کھا لیتا، کوئی اپنے بچوں کے لیے لے جاتا اور کوئی بس آگے بڑھ جاتا۔ مگر اس جگہ سے گزرنے والی ہر زندگی کو یہ معلوم نہ تھا کہ کبھی یہاں ایک بوڑھی بکری کی مجبوری نے ایک یتیم گلہری کی پرورش کا ذریعہ بنا دیا تھا۔
حاصلِ سبق:
رزق کے راستے ہمیشہ ہماری سمجھ کے مطابق نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کبھی کسی کے ہاتھ سے کسی دوسرے کے لیے وسیلہ پیدا کر دیتا ہے، اور کبھی ہماری زندگی میں ہونے والا کوئی واقعہ ہمیں برسوں بعد اس کی حکمت سمجھاتا ہے۔ نیکی کی قدر صرف نیت سے نہیں، اس کے اثر سے بھی پہچانی جا سکتی ہے؛ اور جو بھلائی آج کسی کی زندگی میں سہارا بنتی ہے، وہ کل کسی اور صورت میں ہمارے لیے رحمت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس لیے کسی کو دیا ہوا رزق ضائع نہ سمجھو، کسی کی مدد کو معمولی نہ جانو، اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو؛ کیونکہ جس رب نے پتھروں کے درمیان مخلوق کے لیے رزق کے راستے بنائے ہیں، وہ تمہارے لیے بھی وہاں سے وسیلہ پیدا کر سکتا ہے جہاں تمہاری نگاہ ابھی تک نہیں پہنچی۔


