یہ کہانی 1900 کی دہائی کے آغاز کی ہے، جب عرب کے بڑے ریگستانوں میں قافلے ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے تھے۔ انہی قافلوں میں ایک مشہور تاجر کا کارواں بھی تھا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت تجربہ کار اور محتاط تھا۔
ایک دن وہ کارواں ایک لمبے سفر پر نکلا، مقصد تھا ایک دور دراز شہر تک سامان پہنچانا۔ راستے میں سب کچھ ٹھیک تھا، مگر تیسرے دن کے بعد ایک عجیب سی خاموشی شروع ہو گئی۔ ہوا بھی رک سی گئی تھی، اور ریت بھی جیسے اپنی جگہ ٹھہر گئی ہو۔
قافلے کے لوگوں نے بتایا کہ رات کے وقت انہیں دور ریت پر کچھ روشنیوں کا احساس ہوتا ہے، جیسے کوئی بستی قریب ہو۔ مگر دن میں وہاں صرف خالی صحرا ہوتا۔
چوتھے دن ایک بڑا عجیب واقعہ ہوا۔ کارواں کے آگے چلنے والے اونٹ اچانک رک گئے۔ کوئی بھی انہیں آگے نہیں لے جا پا رہا تھا۔ جیسے کوئی ان کے سامنے کھڑا ہو، مگر نظر نہ آ رہا ہو۔
اسی رات قافلے کے چند لوگ روشنیوں کی طرف گئے، اور پھر واپس نہیں آئے۔ باقی لوگ ڈرے ہوئے تھے مگر انہوں نے اگلی صبح سفر جاری رکھا۔
مگر اصل حیرت اس وقت ہوئی جب وہ واپس اپنے راستے پر آنے کی کوشش کرنے لگے۔ ہر طرف ریت ہی ریت تھی، مگر وہی راستہ جس سے وہ آئے تھے، وہ کہیں غائب ہو چکا تھا۔
نقشہ نکالا گیا، نشان دیکھے گئے، مگر سب کچھ بدل چکا تھا۔ جیسے صحرا نے اپنی شکل بدل لی ہو۔
کچھ دن بعد صرف ایک زخمی شخص ملا جو کسی اور قافلے نے پایا۔ وہ بار بار ایک ہی بات کہتا تھا:
“ہم راستہ نہیں بھولے… راستہ ہمیں بھول گیا تھا…”
اس کے بعد وہ کبھی مکمل ہوش میں نہیں آیا۔
آج تک کوئی نہیں جانتا کہ وہ قافلہ کہاں گیا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں وہ ریت میں دفن ہو گیا، اور کچھ کہتے ہیں وہ کسی ایسی جگہ پہنچ گیا جو اس دنیا کے نقشے پر کبھی تھی ہی نہیں
