سبق آموز۔۔۔! اللہ کی رضا۔۔۔!

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ کو اللہ کو راضی کرنے کی خواہش پیدا ہوئی اور سب کچھ چھوڑ کر دور جنگل میں نکل گیا کیونکہ اس نے ایک جنگل میں ایک بزرگ کا سنا ہوا تھا کہ جو برسوں سے وہاں محو عبادت تھا وہ بزرگ کے پاس اس لیے گئے کہ ان کی مدد سے اللہ کو تلاش اور راضی کر سکے

جب بادشاہ ان بزرگوں کے پاس پہنچا اور عرض کی کہ  حضرت میں بھی اللہ کو راضی کرنا چاہتا ہوں مجھے بھی اپنے پاس جگہ دیں
پہلے تو بزرگوں نے کہا کہ میں 30 سال سے اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن میں راضی نہیں کر پا رہا تمہارے لیے بہتر ہے کہ تم واپس چلے جاؤ کہ تم اتنی ریاضت نہیں کر پاؤ گے تو بادشاہ نے پوچھا

کہ حضرت اپ کو کیسے پتہ ہے کہ اللہ اپ سے راضی نہیں ہے تو بزرگوں نے فرمایا کہ میں نے ایک خشک ڈالی جب میں یہاں عبادت کے لیے آیا تو زمین میں گاڑ دی تھی کہ جب یہ ہری ہو جائے گی اللہ کے حکم سے تو میں جان جاؤں گا کہ اللہ مجھ سے راضی ہو گیا ہے لیکن یہ اج بھی خشک کی خشک ہے لہذا یہ بڑی محنت کا کام ہے تم واپس چلے جاؤ
یہ تم سے نہیں بن پائے گا

تو بادشاہ نے کہا کہ بزرگو مجھے بھی اللہ کو راضی کرنا ہے لہذا مجھے بھی یہاں جگہ دیں تاکہ میں اپ کے ساتھ عبادت و ریاضت کر کے اللہ کو راضی کر لو بڑی مشکل سے وہ بزرگ مان گئے اور بادشاہ کو ایک جگہ پہ بٹھا دیا اور کہا کہ تم بھی اپنی ایک شاخ زمین میں گاڑ دو کہ جب یہ ہری ہو جائے گی تو تم جان پاؤ گے کہ اللہ تجھ سے راضی ہو گئے

بادشاہ اور وہ بزرگ رات کو عبادت کرنے لگ گئے کہ کسی کے رونے کی اواز آئی تو بادشاہ نے کہا بزرگ سے کہ کوئی رو رہا ہے لہذا ہمیں اس کی مدد کرنی چاہیے بزرگوں نے کہا کہ میں نے تمہیں کہا تھا کہ تم میری عبادت میں خلل پیدا کرو گے اور تم ویسا ہی کر رہے ہو لہذا ادھر سے دفع ہو جاؤ وہ بادشاہ اٹھے اور اس آواز  کی طرف چل دیے وہاں جا کہ دیکھا کہ ایک بچہ اپنے قافلے سے بچھڑ کر اکیلا تن تنہا بیٹھا رو رہا تھا کہ بادشاہ نے اس بچے کو پکڑا اور اس قافلے کے پیچھے چل پڑا کچھ ہی دور چلنے کے بعد اس نے قافلے کو پا لیا اور بچہ ان کے حوالے کر دیا اور بادشاہ واپس آیا اور اپنی جگہ پہ عبادت کر کے سو گیا

اور جب وہ اٹھا تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی کہ اس نے دیکھا کہ اس کی جو ٹہنی جو اس نے زمین میں گاڑی ہوئی تھی وہ ہری ہو گئی بادشاہ بزرگوں سے یہ کہہ کے چل دیا کہ بزرگو اللہ کی مخلوق سے اگر محبت نہیں ہے تو تمہاری یہ عبادت اور ریاضت بیکار ہے کیونکہ مخلوق خدا سے محبت و شفقت ہی قرب الہٰی اور معرفت الہٰی کا سبب  ہے

اور اسی لیے حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

میں نے مخلوق خدا سے زیادہ اللہ کی طرف سے کسی عمل میں خیر نہیں دیکھی.