سختی ہمیشہ طاقت کی علامت نہیں ہوتی

سختی ہمیشہ طاقت کی علامت نہیں ہوتی

جنگل کے کنارے ایک ندی بہتی تھی۔ وہ نہایت خاموش مزاج تھی۔ نہ کسی سے الجھتی تھی، نہ اپنی تعریف کرتی تھی۔ پہاڑوں سے اترتی، میدانوں سے گزرتی اور اپنے راستے پر بہتی چلی جاتی۔

اسی ندی کے کنارے ایک بہت بڑی چٹان پڑی تھی۔ وہ اتنی بڑی اور مضبوط تھی کہ دور سے دیکھنے والے اسے پہاڑ کا ٹکڑا سمجھتے تھے۔ اسے اپنی طاقت پر بڑا غرور تھا۔
جب بھی ندی اس کے قریب سے گزرتی، چٹان طنزیہ انداز میں کہتی: “مجھے دیکھو! صدیوں سے ایک ہی جگہ کھڑی ہوں۔ نہ کبھی جھکی، نہ کبھی اپنا راستہ بدلا۔ اور ایک تم ہو کہ ذرا سا پتھر سامنے آجائے تو راستہ بدل لیتی ہو۔ کبھی دائیں مڑ جاتی ہو، کبھی بائیں۔” ندی مسکرا کر خاموش رہتی اور بہتی رہتی۔

وقت گزرتا رہا۔ چٹان اپنی مضبوطی کے قصے خود ہی سناتی رہی اور ندی اپنی خاموش دھن میں سفر کرتی رہی۔
پھر ایک سال قدرت نے اپنا رنگ بدلا۔ پہاڑوں پر ایسی بارش ہوئی کہ وادیوں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ بادل دن رات برستے رہے۔ ندی میں پانی بڑھتا گیا۔ وہی ندی جو کل تک نرم اور کمزور دکھائی دیتی تھی، آج ایک بے قابو سیلاب بن چکی تھی۔ پانی کا دباؤ بڑھتا گیا۔ چٹان نے حسبِ عادت اکڑ کر کھڑے رہنے کا فیصلہ کیا۔ اسے یقین تھا کہ دنیا کی کوئی طاقت اسے ہلا نہیں سکتی۔ لیکن قدرت کے فیصلے انسانوں اور چٹانوں کے غرور سے کہیں بڑے ہوتے ہیں۔
سیلاب کی ایک زبردست لہر آئی۔
پہلے چٹان میں دراڑ پڑی۔
پھر دوسری۔
پھر تیسری۔ اور ایک دن وہی چٹان جو اپنی طاقت پر ناز کرتی تھی، ٹوٹ کر کئی ٹکڑوں میں بکھر گئی اور پانی اسے اپنے ساتھ بہا لے گیا۔
سیلاب گزر گیا۔ بارش رک گئی۔
جنگل پھر سرسبز ہو گیا۔
پرندے واپس آ گئے۔
اور ندی؟
وہ اب بھی بہہ رہی تھی۔

ویسی ہی پرسکون، ویسی ہی زندہ۔ اس کے کنارے سے گزرتے ہوئے ایک بوڑھے ہرن نے اپنے بچوں سے کہا:
“یاد رکھو! زندگی میں ہمیشہ مضبوط ہونا ضروری نہیں ہوتا، بعض اوقات زندہ رہنے کے لیے نرم ہونا ضروری ہوتا ہے۔”
ندی کی لہریں جیسے اس بات پر مسکرا رہی تھیں۔
کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ جو ہر وقت اپنی طاقت پر ناز کرتے ہیں، وہ اکثر وقت کے ایک طوفان سے ہار جاتے ہیں، جبکہ جو حالات کے ساتھ خود کو ڈھال لیتے ہیں، وہ صدیوں تک اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔
اور شاید اسی لیے قدرت نے پانی کو نرم بنایا، لیکن اتنا طاقتور کہ وقت کے ساتھ چٹانوں کو بھی شکست دے دے۔

اخلاقی سبق:

سختی ہمیشہ طاقت کی علامت نہیں ہوتی۔ زندگی میں اکثر وہ لوگ کامیاب رہتے ہیں جو حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا جانتے ہیں، کیونکہ لچک میں وہ قوت ہوتی ہے جو بڑے سے بڑے طوفان کا مقابلہ کر سکتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner