ریڈ انڈینز کے اپاچی قبیلے کا بزرگ سردار انتقال کر گیا تو ایک جدید یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نوجوان نے سرداری سنبھال لی۔
چند ماہ بعد خزاں کا موسم آیا تو قبیلے والوں نے پوچھا، ’’سردار! اس سال سردی معمول کے مطابق ہوگی یا زیادہ برف پڑے گی؟‘‘
نوجوان سردار کو موسم کی پیش گوئی کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ اس نے احتیاطاً کہا، ’’اس بار سخت سردی پڑنے کا امکان ہے، اس لیے زیادہ لکڑیاں جمع کر لو۔‘‘
قبیلے والے لکڑیاں جمع کرنے میں لگ گئے، مگر سردار کو تسلی نہ ہوئی۔ اس نے محکمۂ موسمیات کو فون کرکے پوچھا کہ موسم سرما کیسا ہوگا؟
افسر نے جواب دیا، ’’بہت سخت سردی پڑنے والی ہے۔‘‘
سردار نے قبیلے والوں کو مزید لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دے دیا۔
ایک ہفتے بعد اس نے دوبارہ فون کیا تو جواب ملا، ’’سردی پہلے اندازے سے بھی زیادہ شدید ہوگی!‘‘
سردار نے گھبرا کر مزید لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دے دیا۔
کچھ دن بعد اس نے تیسری بار فون کیا اور پوچھا، ’’کیا آپ کو پورا یقین ہے کہ اس بار سردی اتنی سخت ہوگی؟‘‘
افسر نے فوراً جواب دیا، ’’بالکل! یہ تاریخ کا سرد ترین موسم ہوگا۔‘‘
سردار حیران رہ گیا۔ اس نے پوچھا، ’’لیکن آپ اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہیں؟‘‘
افسر نے جواب دیا:
’’جناب! اپاچی قبیلے کے لوگ پاگلوں کی طرح لکڑیاں جمع کر رہے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس بار سردی بہت سخت پڑنے والی ہے!‘‘ کیونکہ انکی پیشگوئی کبھی بھی غلط ثابت نہیں ہو ہی ہے ۔
سبق: کبھی کبھی ہم دوسروں کے اندازوں پر یقین کرکے فیصلے کرتے ہیں، جبکہ وہ بھی ہمارے ہی فیصلوں سے متاثر ہو رہے ہوتے ہیں۔ یوں ایک غلط اندازہ سب کے لیے حقیقت بن جاتا ہے!

