پہاڑوں پر تیرنے والے جہاز اور ایک صدیوں پرانی پیشین گوئی: وہ 21 سالہ نوجوان جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا
22 اپریل 1453ء کی صبح… بازنطینی شہنشاہ قسطنطنیہ (Constantinople) کی ناقابلِ تسخیر فصیلوں پر کھڑا تھا اور اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ سمندر کی جس شاخ (گولڈن ہارن) کو اس نے ایک دیوہیکل لوہے کی زنجیر سے بند کر رکھا تھا تاکہ کوئی دشمن بحریہ اندر نہ آسکے، آج اس کے اندر درجنوں عثمانی جنگی جہاز لنگرانداز تھے۔ وہ زنجیر نہیں ٹوٹی تھی، تو پھر یہ جہاز اندر کیسے آئے؟
جواب یہ تھا کہ ایک 21 سالہ نوجوان عثمانی سلطان نے رات کے اندھیرے میں اپنے جہازوں کو لکڑی کے تختوں پر تیل مل کر پہاڑوں اور جنگلوں کے اوپر سے کھینچ کر سمندر میں اتارا تھا۔
یہ اس نوجوان، سلطان محمد فاتح (Mehmed II) کی کہانی ہے جس کی اس ایک ناممکن چال نے بازنطینی سلطنت کے ہزار سالہ غرور کو خاک میں ملا دیا۔ اس نے وہ کر دکھایا جو پچھلے 800 سالوں میں رومن، فارسی، اور کئی اسلامی فوجیں نہ کر سکیں۔ اس فتح نے نہ صرف قرونِ وسطیٰ (Middle Ages) کا خاتمہ کیا، بلکہ دنیا کے نقشے پر ایک نئے دور کا آغاز کیا۔
800 سالہ پرانا خواب اور ایک بشارت
قسطنطنیہ کی فتح محض ایک شہر کی فتح نہیں تھی، بلکہ یہ مسلمانوں کے لیے ایک روحانی خواب تھا۔ نبی کریم ﷺ کی مشہور حدیث (پیشین گوئی) تھی کہ:
“تم ضرور قسطنطنیہ کو فتح کرو گے، پس کتنا شاندار ہوگا وہ امیر (کمانڈر) اور کتنی شاندار ہوگی وہ فوج۔”
اس بشارت کو پانے کے لیے کئی خلیفہ اور سلطان آئے اور ناکام لوٹے، یہاں تک کہ مشہور صحابی حضرت ابو ایوب انصاریؓ بھی اسی شہر کی دیواروں کے باہر مدفون ہوئے۔ سلطان محمد نے بچپن سے ہی اپنے اساتذہ (خاص طور پر شیخ آق شمس الدین) سے یہی سنا تھا کہ وہ ‘امیر’ وہی بنے گا۔
یورپ کی بھول اور ایک ‘عام’ لڑکا
جب محمد ثانی نے 19 سال کی عمر میں سلطنت کی باگ ڈور سنبھالی، تو یورپی طاقتوں اور بازنطینیوں نے اسے ایک ناتجربہ کار، جذباتی اور کمزور لڑکا سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ لڑکا بیک وقت سات زبانیں (عربی، فارسی، یونانی، لاطینی وغیرہ) روانی سے بولتا تھا، اور تاریخ کے ساتھ ساتھ انجینئرنگ، بیلسٹکس (توپ خانے کے علم) اور جغرافیہ کا ماہر تھا۔ وہ دن رات قسطنطنیہ کے نقشے بناتا اور اس کی دیواروں کی کمزوریاں تلاش کرتا تھا۔
‘شاہی’ توپیں اور قلعہ بندی
سلطان جانتا تھا کہ قسطنطنیہ کی تین تہوں والی (Theodosian) دیواریں عام ہتھیاروں سے نہیں ٹوٹیں گی۔ اس نے ‘اربان’ (Orban) نامی ایک ہنگری کے انجینئر کی خدمات حاصل کیں اور اس سے تاریخ کی سب سے بڑی توپیں ڈھلوائیں، جنہیں ‘شاہی توپ’ (Şahi Topu) کہا جاتا تھا۔ دوسری طرف، اس نے آبنائے باسفورس پر ایک حیرت انگیز قلعہ ‘روم ایلی حصار’ (Rumelihisarı) محض چار ماہ میں تعمیر کروا کر شہر کا سمندری راستہ مکمل طور پر کاٹ دیا۔
29 مئی 1453ء: فتحِ مبین اور ایک نیا باب
محاصرہ 53 دن تک جاری رہا۔ دیواریں ٹوٹتی تھیں اور رات کو عیسائی انہیں دوبارہ کھڑا کر دیتے تھے۔ بالاخر 29 مئی 1453ء کو آخری اور فیصلہ کن حملہ ہوا۔ عثمانی فوجیں فصیلیں عبور کر گئیں۔ سلطان محمد فاتح اپنے سفید گھوڑے پر سوار شہر میں داخل ہوا۔
اس کا پہلا قدم مشہور اور عظیم الشان گرجا گھر ‘آیا صوفیہ’ (Hagia Sophia) کی طرف تھا۔ وہاں ہزاروں عیسائی خوف کے مارے جمع تھے۔ لیکن اس 21 سالہ فاتح نے انہیں قتل کرنے یا غلام بنانے کے بجائے ان کی جان، مال اور مذہب کی حفاظت کا اعلان کیا۔ اس نے آیا صوفیہ کو ایک مسجد میں تبدیل کیا اور اس شہر کا نام ہمیشہ کے لیے بدل کر اپنا نیا دارالحکومت بنا لیا، جسے آج ہم ‘استنبول’ کے نام سے جانتے ہیں۔
اسی دن سے تاریخ نے اسے محض محمد کے بجائے ‘سلطان محمد فاتح’ (The Conqueror) کا لقب دیا۔
