ایک بادشاہ کے دربار میں ایک دن ایک فقیر آ گیا۔ اس نے بڑے اعتماد سے کہا:
“اے بادشاہ! یہ تخت و تاج آخر ہے کیا؟ اس کی کوئی اصل قیمت ہی نہیں۔”
بادشاہ یہ سن کر زور سے ہنسا اور درباریوں کو حکم دیا:
“اس شخص کو باہر نکال دو، اسے کیا معلوم کہ تخت و تاج کی کیا لذت اور کیا قدر ہوتی ہے۔”
وقت گزرتا گیا… پھر ایک دن بادشاہ شکار کے لیے جنگل کی طرف نکلا۔ اچانک اس کا گھوڑا بے قابو ہو گیا اور اسے بہت دور سنسان صحرا میں لے گیا۔ وہاں نہ پانی تھا نہ کوئی انسان۔
بادشاہ پیاس سے نڈھال ہو گیا، اس کی حالت آخری ہچکیوں تک پہنچ گئی۔ اسی لمحے ایک فقیر مشکیزہ لیے وہاں سے گزرا اور آواز لگانے لگا:
“پانی لے لو… پانی لے لو…”
بادشاہ نے کمزور آواز میں پکارا:
“میرے پاس سب کچھ ہے، جو مانگو گے دوں گا… بس مجھے پانی دے دو، میں مر رہا ہوں۔”
فقیر نے کہا:
“اس پانی کی قیمت تمہاری آدھی سلطنت ہے۔”
بادشاہ نے فوراً کہا:
“لے لو… آدھی سلطنت لے لو، بس پانی دے دو!”
فقیر نے اسے پانی پلایا۔ پیاس کی شدت اتنی تھی کہ پانی اس کے حلق میں اٹک اٹک کر اتر رہا تھا۔
پھر فقیر نے کہا:
“میں حکیم بھی ہوں، اگر چاہو تو تمہارا علاج بھی کر دوں۔”
بادشاہ نے فوراً ہاں کر دی، مگر فقیر نے شرط رکھی:
“اس کا بھی بدلہ وہی ہوگا — تمہاری باقی آدھی سلطنت بھی لکھ دو۔”
بادشاہ نے مجبور ہو کر چمڑے پر دستخط کر دیے۔ فقیر نے اس کا علاج کیا اور وہ جان بچا کر واپس محل پہنچ گیا۔
وقت گزرتا گیا… بادشاہ پھر اپنے تخت پر بیٹھا تھا کہ وہی فقیر دوبارہ بھیس بدل کر دربار میں آ گیا۔ اس نے نصیحت کی:
“اے بادشاہ! دنیا کو پہچانو، یہ چند دنوں کا کھیل ہے، اصل زندگی آخرت ہے۔”
بادشاہ نے غصے سے کہا:
“اس بوڑھے فقیر کو باہر نکالو!”
فقیر مسکرایا اور ایک چمڑے کا پرانا کاغذ نکال کر بولا:
“اے بادشاہ! یاد کرو… تم یہ ساری سلطنت ایک گھونٹ پانی کے بدلے میرے نام کر چکے ہو۔”
اور پھر کہا:
“میں نے کبھی تخت و تاج کی خواہش نہیں کی، بس تمہیں یہ سمجھانا چاہتا تھا کہ یہ پوری سلطنت ایک گھونٹ پانی کی قیمت سے زیادہ کچھ بھی نہیں…”
اگر انسان سمجھ لے تو دنیا کی ہر طاقت ایک لمحے کی ضرورت کے آگے بے معنی ہو جاتی ہے۔
