شیخ چلی اور بڑیاں

شیخ چلی اور بڑیاں

شیخ چلی کا نام تو آپ نے سنا ہی ہوگا—عقل سے بالکل پیدل اور حماقت کے بادشاہ! ایک دن پڑوسیوں کے گھر سے ایک پیالے میں گرم گرم، خوشبودار سالن آیا۔ سالن کیا تھا، قسمت کا کھیل تھا! شیخ جی نے زندگی میں پہلی بار ایسی چیز دیکھی تھی۔

تیرتے ہوئے گول گول ٹکڑوں کو دیکھ کر انہوں نے حیرت سے ماں سے پوچھا: “اماں! یہ شوربے میں کون سے خلائی جہاز تیر رہے ہیں؟”

ماں نے پیار سے سر پیٹ کر کہا: “بیٹا! اسے بڑیاں کہتے ہیں۔

شیخ چلی نے ایک ٹکڑا انگلی سے اٹھایا: “اور اماں یہ اکیلا؟

ماں نے زچ ہو کر مختصر جواب دیا: “بڑی!

شیخ جی نے اس دن پیٹ کو نہیں، بلکہ نیت کو بھر کر کھایا۔ سالن کیا پسند آیا، گویا دل و جان ہی ہار بیٹھے۔ اب اگلا پورا ہفتہ گھر میں ایک ہی راگ الاپا جا رہا تھا: “اماں! مجھے تو بس وہی پڑوس والا سالن کھانا ہے، ورنہ میں بھوک ہڑتال کر دوں گا!

ماں آخر ماں تھی، دال پیس پیس کر تھک چکی تھی، بولی: “دیکھ بیٹا! میرے گوڈوں (گھٹنوں) میں اب اتنی ہمت نہیں کہ دال پیسوں اور تیرے نخرے اٹھاؤں۔ اگر اتنا ہی اِتاولا ہو رہا ہے تو جا، سسرال چلا جا! بہو کو لانے کا بہانہ بھی ہو جائے گا اور وہاں تیری ساس تیرے ناز نخرے بھی اٹھا لے گی۔

شیخ چلی خوشی سے اچھل پڑا: “یہ ہوئی نا بات! پر اماں، اس شاہکار سالن کا نام کیا تھا؟

ماں نے کہا: “وہاں جا کر ‘بڑیاں’ یا ‘بڑی’ کہہ دینا، وہ خود ہی سمجھ جائیں گے۔”
اب شیخ جی شیروانی پہن کر تیار تو ہو گئے، لیکن حافظہ ایسا پایا تھا کہ گھر کی دہلیز پار کرتے ہی نام دماغ سے غائب! واپس مڑے: “اماں! یہ سسرال کے چکر میں سالن کا نام پھر اڑ گیا، ذرا دوبارہ تلاوت کرنا۔
ماں نے جھنجھلا کر کہا: “بڑیاں!

شیخ چلی نے معصومیت کا بم پھوڑا: “اگر راستے میں بھول گیا تو؟
ماں نے تنگ آ کر مشورہ دیا: “تو ایسا کر، پورے راستے تسبیح کی طرح ‘بڑیاں بڑیاں’ کا ورد کرتا چلا جا۔

راستے کے “بریکنگ نیوز” اور پٹائی کے مختلف راؤنڈز 💥
شیخ چلی سڑک پر نکلے اور آنکھیں بند کر کے گردان شروع کر دی: **”بڑیاں۔۔۔ بڑیاں۔۔۔ بڑیاں۔۔۔

راؤنڈ 1: چڑی ماروں کی چتاونی
راستے میں کچھ چڑی ماروں (شکاریوں) نے پرندوں کو پکڑنے کے لیے جال بچھا رکھا تھا اور دم سادھے بیٹھے تھے۔ ہماری پنجابی/اردو مکس زبان میں ‘بڑنا’ کا مطلب گھسنا بھی ہوتا ہے۔ شکاریوں نے جب سنا “بڑیاں۔۔ بڑیاں” تو وہ سمجھے چڑیاں جال میں “بڑ” (گھس) گئی ہیں! انہوں نے فوراً خوشی خوشی جال کھینچا، تو اندر صرف ہوا تھی! غصے کے مارے انہوں نے شیخ چلی کو وہیں دھنک دیا۔

شیخ چلی نے لال گال سہلاتے ہوئے پوچھا: “بھائی مارتے کیوں ہو؟

وہ بولے: “منحوس! تو جو کہہ رہا تھا ‘بڑیاں بڑیاں’، ہم سمجھے شکار آ گیا۔

شیخ چلی نے روہانسا ہو کر پوچھا: “تو پھر اب کیا کہوں؟
شکاری بولے: “کہہ ‘آتے جاؤ، پھنستے جاؤ’۔

راؤنڈ 2: چوروں کا سرپرائز
اب شیخ جی کا نیا وظیفہ شروع ہوا: آتے جاؤ، پھنستے جاؤ! آتے جاؤ، پھنستے جاؤ!
آگے جنگل میں کچھ چور رات کی ‘کمائی’ زمین میں دبا رہے تھے۔ جب انہوں نے سنا “آتے جاؤ پھنستے جاؤ”، تو ان کے چور دل بلیوں اچھلنے لگے کہ لگتا ہے پولیس آ گئی ہے اور ہمیں رنگے ہاتھوں پکڑ رہی ہے۔ جب جھاڑیوں سے جھانک کر دیکھا تو ایک بھولا بھالا انسان اپنی ہی دھن میں چلا آ رہا ہے۔ چوروں نے باہر نکل کر سارا غصہ شیخ جی کی پیٹھ پر نکال دیا۔

شیخ چلی نے روتے ہوئے پوچھا: “اب میں نے کیا جرم کیا؟

چور غرا کر بولے: “یہ الٹی سیدھی بددعائیں کیوں دے رہا ہے؟

شیخ چلی نے پوچھا: “تو پھر کیا کہوں؟

چوروں نے مشورہ دیا: “کہہ ‘لاتے جاؤ، دباتے جاؤ’۔

راؤنڈ 3: جنازے کا ہنگامہ
شیخ چلی نے نیا سبق رٹا: لاتے جاؤ، دباتے جاؤ! لاتے جاؤ، دباتے جاؤ!
آگے سے ایک نوجوان کا جنازہ آ رہا تھا، لوگ غم سے نڈھال تھے۔ جب انہوں نے شیخ چلی کی یہ “شاندار کمنٹری” سنی کہ “لاتے جاؤ، دباتے جاؤ”، تو سوگواروں کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا۔ انہوں نے کندھا بدلا اور شیخ چلی کو آڑے ہاتھوں لے کر خوب رگڑا۔
شیخ چلی نے آنسو بہاتے ہوئے کہا: “خدا کے لیے بتاؤ، اب کیا بولوں؟”
کسی نے رحم کھا کر کہا: “میاں! یوں کہو ‘ایسا اللہ کسی کے ساتھ نہ کرے’۔

راؤنڈ 4: بارات کا ایکشن سین
شیخ چلی نے اگلا اسٹیشن پکڑا: ایسا اللہ کسی کے ساتھ نہ کرے۔ ایسا اللہ کسی کے ساتھ نہ کرے۔
اتفاق سے آگے ایک دھوم دھام والی بارات آ رہی تھی، دولہا میاں گھوڑی پر بیٹھے مسکرا رہے تھے۔ جیسے ہی شیخ چلی کا یہ جملہ باراتیوں کے کانوں میں پڑا، انہوں نے باجے والے کو روکا اور شیخ چلی کا “بینڈ” بجا دیا۔
“ابے او منحوس! ہماری خوشی کا موقع ہے اور تو ایسی منحوس دعائیں دے رہا ہے؟”
شیخ چلی نے ہاتھ جوڑ دیے: “بھائی! اب تم ہی بتا دو کیا کہوں؟”
ایک غصیلا باراتی بولا: “کہنا کیا ہے، اپنا منہ بند رکھ اور چپ چاپ دفع ہو جا!

سسرال میں خاموشی اور آدھی رات کا “انڈا گھوٹالہ” 🥚
شیخ چلی نے سوچا یہ سب سے محفوظ نسخہ ہے۔ منہ پر تالا لگایا اور سسرال پہنچ گئے۔ داماد جی کا شاندار استقبال ہوا، میز پر کباب، کورمے، بریانی اور نہ جانے کیا کیا سجا دیا گیا۔ ساس نے پیار سے کہا: “بیٹا، کھاؤ!
مگر شیخ جی تو صدمے میں تھے، اور سب سے بڑا صدمہ یہ تھا کہ وہ پھر نام بھول چکے تھے! وہ بولے: “ہم تو وہی کھانا کھائیں گے!
ساس نے پوچھا: “بیٹا، کورمہ؟
“نہ! ہم تو وہی کھانا کھائیں گے۔
“بیٹا، بریانی؟
“نہ! وہی کھانا۔۔۔”
تنگ آ کر سسرال والوں نے سوچا کہ داماد جی کا دماغی توازن کچھ ہل گیا ہے، انہوں نے کھانا اٹھایا اور سونے چلے گئے۔
اب آدھی رات کو شیخ جی کے پیٹ میں چوہوں نے بھنگڑا ڈالنا شروع کیا۔ بھوک کے مارے تڑپ کر وہ دبیے پاؤں باورچی خانے میں گھس گئے اور اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مارنے لگے۔ اتفاق سے ہاتھ میں ایک کچا انڈا آ گیا۔ ابھی وہ سوچ ہی رہے تھے کہ اس کا شربت بنانا ہے یا آملیٹ، کہ ان کا پاؤں ایک ڈبے سے ٹکرا گیا اور باورچی خانے میں “دھڑام” کی آواز ہوئی۔
گھر والے جاگ گئے: “بلی آئی! بلی آئی!” کی آوازیں گونجنے لگیں۔
شیخ چلی گھبرا گئے۔ انڈا چھپانے کی کوئی جگہ نہ ملی تو انہوں نے پورا انڈا منہ میں ٹھونس لیا اور گال پھلا کر معصوم بن کر کھڑے ہو گئے۔
ساس نے لالٹین دکھائی تو دیکھا داماد جی کا گال فٹ بال کی طرح پھولا ہوا ہے۔ ساس چیخی: “ہائے اللہ! میرے داماد کو راتوں رات اتنا بڑا پھوڑا نکل آیا! اسی لیے بیچارے نے شرم کے مارے شام کو کچھ نہیں کھایا تھا۔

حکیم جی کا معائنہ اور “بڑی” شفا! 🩺
آدھی رات کو بیچارے بوڑھے حکیم صاحب کو نیند سے اٹھا کر لایا گیا تاکہ ایمرجنسی آپریشن کیا جا سکے۔ حکیم صاحب نے عینک لگائی اور شیخ چلی کا گال معائنہ کرنے لگے۔
حکیم صاحب نے دائیں طرف سے گال دبایا، تو شیخ چلی نے انڈا منہ کے اندر ہی بائیں طرف سرکا دیا۔
حکیم صاحب چونکے اور بائیں طرف ہاتھ لگایا، تو شیخ چلی نے انڈا پھر دائیں طرف شفٹ کر دیا۔
کوئی آدھے گھنٹے تک یہ “ٹینس کا میچ” منہ کے اندر چلتا رہا۔ حکیم صاحب کا پسینہ چھوٹ گیا۔ انہوں نے مایوسی سے سر ہلایا اور ساس سے بولے: “خاتون! یہ کوئی عام پھوڑا نہیں ہے۔ یہ تو بڑی خطرناک بیماری ہے، جو سیکنڈوں میں اپنی جگہ بدل رہی ہے!
جیسے ہی حکیم صاحب کے منہ سے لفظ نکلا “بڑی”۔۔۔ شیخ چلی کے دماغ کی بتی جل گئی! انہوں نے فوراً منہ سے انڈا باہر نکالا اور سسرال والوں کے منہ پر مارتے ہوئے خوشی سے ناچنے لگے:
ہم تو بڑی کھانا کھائیں گے! ہم تو بڑی کھانا کھائیں گے!!
سسرال والوں نے سکھ کا سانس لیا کہ شکر ہے پھوڑا نہیں تھا، اور حکیم صاحب نے توبہ کی کہ آج کے بعد شیخ چلی کے محلے میں بھی قدم نہیں رکھیں گے۔

Leave a Reply

NZ's Corner