شیخ چلی کا غیبی مٹکا اور حویلی کا راز

شیخ چلی کا غیبی مٹکا اور حویلی کا راز

پرانے زمانے کی بات ہے، جب پکے مکانوں کی جگہ مٹی کے بنے ہوئے کچے اور خوبصورت گھر ہوا کرتے تھے، جہاں سانجھی دیواریں اور دل کھلے ہوتے تھے۔ اسی دور کے ایک خوبصورت، ہرے بھرے گاؤں میں ایک نوجوان رہتا تھا جسے دنیا “شیخ چلی” کے نام سے جانتی تھی۔ شیخ چلی دل کا برا نہیں تھا، نہ ہی وہ چور اچکا تھا، بس اس میں ایک ہی سب سے بڑی خامی تھی، اور وہ تھی “جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھنا”۔
وہ سارا دن گاؤں کی گلیوں میں گھومتا، کبھی کسی درخت کے نیچے بیٹھ جاتا تو کبھی کسی کچی دیوار کا سہارا لے کر آسمان کی طرف گھورنے لگتا۔ اس کے ذہن میں ہر وقت ایسی کھچڑی پکتی رہتی جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہ ہوتا۔ گاؤں کے بچے، بوڑھے اور جوان سبھی اس کی اس عادت سے واقف تھے اور اکثر اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے، لیکن شیخ چلی کو کسی کی پرواہ نہیں تھی۔ وہ اپنی ہی دھن میں مگن، پھٹے پرانے کپڑے پہنے، پاؤں میں دیسی جوتی چڑھا کر گھومتا رہتا تھا۔
اس دن بھی صبح کا سورج ابھی پوری طرح طلوع نہیں ہوا تھا کہ شیخ چلی اپنے گھر سے نکل پڑا۔ اس کے ہاتھ میں لکڑیوں کا ایک گٹھا تھا، جو اس نے بڑی مشکل سے جنگل سے اکٹھا کیا تھا تاکہ اسے بیچ کر چند پیسے کما سکے۔ لیکن جیسے ہی وہ گاؤں کی حدود میں داخل ہوا، اس کی نظر ایک پرانے، ویران کنویں کے پاس پڑی ایک چیز پر رکھی۔ وہ ایک بڑا، مٹی کا مٹکا تھا، جو دیکھنے میں بہت پرانا اور پراسرار لگتا تھا۔
شیخ چلی نے لکڑیوں کا گٹھا ایک طرف رکھا اور مٹکے کے پاس جا پہنچا۔ مٹکے کا منہ ایک پرانے کپڑے سے مضبوطی سے بندھا ہوا تھا اور اس پر مٹی کی کئی تہیں جمی ہوئی تھیں۔ شیخ چلی کے دل میں سسپنس کی ایک لہر دوڑ گئی۔
“اس مٹکے میں کیا ہو سکتا ہے؟” اس نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ “کیا اس میں پرانے زمانے کے بادشاہوں کا سونا ہے؟ یا پھر کوئی جادوئی جن؟”
اس نے مٹکے کو ہلایا تو اندر سے کسی بھاری چیز کی آواز آئی، جیسے اناج کے دانے یا پھر سکے چمک رہے ہوں۔ شیخ چلی کی آنکھیں چمک اٹھیں پیں۔ اس نے لکڑیوں کا گٹھا ایک ہاتھ میں پکڑا اور مٹکے کو اپنے سر پر رکھ لیا۔ بس پھر کیا تھا، اس کے خوابوں کا انجن ایک بار پھر پوری رفتار سے چل پڑا۔
جیسے ہی مٹکا شیخ چلی کے سر پر سجا، اس کا ذہن موجودہ دنیا سے کٹ کر صدیوں پیچھے چلا گیا۔ اس نے سوچنا شروع کیا:
“اگر اس مٹکے میں سونے کے سکے نکلے، تو میں سب سے پہلے اس گاؤں کے سب سے امیر تاجر کے پاس جاؤں گا اور اس سے اس کی سب سے قیمتی زمین خرید لوں گا۔ نہیں، زمین کیوں؟ میں تو سیدھا ایک بہت بڑی، عالی شان حویلی بناؤں گا!”
اس کے ذہن کے پردے پر ایک شاندار منظر نامہ چل رہا تھا، بالکل اسی طرح جیسے کوئی خواب دیکھ رہا ہو۔ اس نے سوچا
“جب میں امیر ہو جاؤں گا، تو میں ایک عام انسان کی طرح پیدل نہیں چلوں گا۔ میں ایک شاندار، تگڑا، گہرے بھورے رنگ کا عربی گھوڑا خریدوں گا۔ اس گھوڑے کی زین ریشم کی ہوگی اور اس کی گردن میں سونے کے گھنگھرو بندھے ہوں گے۔ میں اس گھوڑے پر سوار ہو کر جب گاؤں کی گلیوں سے گزروں گا، تو یہی لوگ جو آج مجھ پر ہنستے ہیں، میرے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوں گے!”
شیخ چلی کے خیالات یہیں نہیں رکے۔ اس کا خواب مزید گہرا ہوتا گیا۔ اس نے اپنے آپ کو ایک ریشمی اور زرق برق لباس پہنے دیکھا۔ سر پر ایک شاہی پگڑی، جس پر ایک خوبصورت پر لگا ہوا تھا، اور ہاتھ میں ایک چمکتی ہوئی، تیز دھار تلوار!
“ہاں! میں اپنے ہاتھ میں تلوار رکھوں گا تاکہ کوئی دشمن یا چور میری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھ سکے۔ اور میرے گھوڑے کی پشت پر ایک بہت بڑا، لکڑی کا صندوق ہوگا جو خالص سونے، چاندی اور ہیرے جواہرات سے لبالب بھرا ہوا ہوگا!” وہ اپنے ہی اس خیال پر اتنا خوش ہوا کہ اس کے چہرے پر ایک بڑی، احمقانہ مسکراہٹ پھیل گئی، بالکل اسی طرح جیسے کوئی پاگل اپنی ہی دھن میں مسکرا رہا ہو۔
وہ یہ بھول گیا کہ وہ ایک کچی گلی میں کھڑا ہے، اس کے ایک ہاتھ میں لکڑیوں کا گٹھا ہے، دوسرے ہاتھ سے اس نے ایک بکری کی رسی پکڑی ہوئی ہے جو بار بار پیچھے کی طرف کھینچ رہی ہے، اور سر پر مٹی کا وہ پراسرار مٹکا توازن کھو رہا ہے۔
شیخ چلی جب اس خیالی دنیا میں گھوڑے پر سوار، تلوار لہراتا ہوا جا رہا تھا، تو حقیقت میں وہ گاؤں کے چوک کے پاس پہنچ چکا تھا۔
ایک پرانے، گھنے برگد کے درخت کے نیچے، کچے مکانوں کے سامنے، گاؤں کے بزرگ اور بچے جمع تھے۔ چودھری الٰہی بخش، جو ایک بڑی پگڑی اور سفید دھوتی کرتے میں ملبوس تھے، اپنے ہاتھ میں لکڑی کی لاٹھی لیے کھڑے تھے۔ ان کے ساتھ رحمو بابا اور دیگر دیہاتی بھی موجود تھے۔ جب انہوں نے شیخ چلی کو اس حالت میں دیکھا—کہ پاؤں ہوا میں اچھل رہے ہیں، منہ کھلا ہوا ہے، آنکھیں آسمان کی طرف ہیں اور سر پر مٹکا ہل رہا ہے—تو وہ اپنی ہنسی ضبط نہ کر سکے۔
“اوئے شیخ چلی! کہاں کا ارادہ ہے؟ کون سی سلطنت فتح کرنے جا رہے ہو؟” چودھری الٰہی بخش نے ہنستے ہوئے آواز لگائی۔
پاس کھڑے چھوٹے بچے تالیاں بجانے لگے اور اس کا مذاق اڑانے لگے۔ گلی میں کھڑا ایک گدھا اور دوسری طرف پانی کے کنویں پر کھڑی خواتین بھی اس انوکھے تماشے کو دیکھ کر مسکرا رہی تھیں۔ لیکن شیخ چلی تو اپنی ہی دنیا میں مست تھا۔ اس نے چودھری کی آواز سن کر سوچا:
“ہاں، چودھری صاحب! آج ہنس لو، کل جب میں اس گھوڑے پر آؤں گا اور اپنی تلوار لہراتے ہوئے تم سب کو حکم دوں گا، تب پتہ چلے گا!”
لیکن اسی لمحے، قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ شیخ چلی کا پاؤں زمین پر پڑے ایک چھوٹے سے پتھر سے ٹکرایا۔ اس کا توازن بگڑا، اور اس کے ساتھ ہی اس کے سر پر رکھا ہوا وہ پرانا مٹکا توازن کھو بیٹھا۔
مٹکے میں ایک بڑا سا شگاف پڑا، اور اس کے اندر سے کوئی چیز تیزی سے باہر گرنے لگی جیسے ہی مٹکا زمین پر گرا اور تڑاخ کی آواز کے ساتھ ٹوٹا، تو اس میں سے صرف اناج ہی نہیں نکلا، بلکہ اس کے بالکل بیچ میں سے ایک پرانا، تانبے کا پترک (نقشہ) اور ایک چمکتا ہوا عجیب و غریب پتھر بھی باہر آ گرا!
گاؤں والوں کے قہقہے یکدم رک گئے۔ بچوں کی تالیاں تھم گئیں اور چودھری الٰہی بخش کی لاٹھی ان کے ہاتھ میں ساکت رہ گئی۔ مٹکے کے ٹوٹنے سے جو چیز سامنے آئی تھی، وہ کوئی عام چیز نہیں تھی۔
شیخ چلی جھٹکے سے اپنی خیالی دنیا سے باہر آیا۔ اس نے دیکھا کہ اس کا خوابوں کا مٹکا ٹوٹ چکا تھا اور زمین پر مٹی کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔ وہ رونے ہی والا تھا کہ رحمو بابا تیزی سے آگے بڑھے اور انہوں نے زمین پر پڑے اس تانبے کے نقشے اور چمکتے ہوئے پتھر کو اٹھا لیا۔
“یہ… یہ تو کوئی عام مٹکا نہیں تھا!” رحمو بابا کی آواز میں لرزش تھی لینڈ۔ “یہ تو اس پرانی حویلی کا نقشہ ہے جو گاؤں کے مشرق میں واقع ہے اور جسے پچھلے پچاس سالوں سے منحوس اور ویران سمجھ کر بند کر دیا گیا ہے!”
پورے گاؤں میں ایک سنسنی پھیل گئی۔ وہ حویلی، جس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہاں رات کو عجیب و غریب آوازیں آتی ہیں اور جو بھی وہاں گیا وہ کبھی واپس نہیں آیا، اس کا نقشہ اس مٹکے میں چھپا ہوا تھا؟ اور وہ چمکتا ہوا پتھر کیا تھا؟ وہ دراصل اس حویلی کے تہہ خانے کے خفیہ دروازے کا تالا کھولنے کی چابی تھی!
شیخ چلی، جو ابھی تک اپنے گھوڑے اور تلوار کے غم میں تھا، یکدم ہیرو بن گیا۔
“دیکھا چودھری صاحب! میں نے کہا تھا نا کہ میں امیر بننے والا ہوں! یہ مٹکا مجھے غیب سے ملا ہے!” شیخ چلی نے سینہ چوڑا کرتے ہوئے کہا۔
چودھری الٰہی بخش نے نقشے کو غور سے دیکھا اور کہا: “شیخ چلی، بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ اس حویلی میں ایک بہت بڑا خزانہ تو ہے، لیکن وہاں ایک خطرناک سسپنس بھی ہے۔ پچھلے سال بھی کچھ لوگ وہاں گئے تھے، لیکن وہ وہاں کے بھول بھلیوں جیسے راستوں میں کھو گئے۔ اگر تم میں ہمت ہے، تو ہمیں آج رات اس حویلی میں جانا ہوگا، کیونکہ یہ چمکتا ہوا پتھر صرف پورنماشی (پورے چاند کی رات) کو ہی کام کرتا ہے، اور اتفاق سے آج ہی وہ رات ہے!”
اب شیخ چلی کے دل میں تھوڑی گھبراہٹ پیدا ہوئی۔ خواب دیکھنا الگ بات تھی، اور ایک ایسی حویلی میں جانا جہاں جنات یا چوروں کا ڈیرہ ہو، بالکل الگ بات تھی۔ لیکن اب وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتا تھا، کیونکہ پورے گاؤں کی نظریں اس پر لگی ہوئی تھیں۔
رات کا وقت تھا، چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ چودھری الٰہی بخش، رحمو بابا، دو تگڑے دیہاتی اور ہمارے شیخ چلی ہاتھ میں مشعلیں لیے اس ویران حویلی کے سامنے کھڑے تھے۔ حویلی کے بڑے بڑے دروازے سڑ چکے تھے، اور ان پر لگی ہوئی لوہے کی زنجیریں زنگ آلود تھیں۔ چمگادڑیں حویلی کے ٹوٹے ہوئے جھروکوں سے اڑ رہی تھیں، جس سے ماحول مزید خوفناک اور سسپنس سے بھرپور ہو گیا تھا۔
“شیخ چلی، تم آگے چلو، آخر یہ مٹکا تمہارا ہی تھا!” چودھری نے شیخ چلی کو آگے دھکیلا۔
شیخ چلی نے ڈرتے ڈرتے قدم آگے بڑھایا۔ جیسے ہی انہوں نے حویلی کے مرکزی ہال میں قدم رکھا، ایک زوردار چرچراہٹ کی آواز ہوئی، اور حویلی کا بھاری دروازہ خود بخود بند ہو گیا!
سب کے پسینے چھوٹ گئے۔ مشعلوں کی روشنی میں دیواروں پر بننے والے سائے خوفناک بھوتوں کی طرح لگ رہے تھے۔ شیخ چلی نے دل ہی دل میں توبہ کرنا شروع کر دی: “یا اللہ! مجھے میرا وہ کچا گھر اور لکڑیوں کا گٹھا ہی واپس دے دے، مجھے نہیں چاہیے گھوڑا اور تلوار!”
لیکن رحمو بابا نے نقشہ کھولا اور کہا: “ڈرنے کی ضرورت نہیں، یہ ہوا کا جھونکا تھا۔ نقشے کے مطابق، ہمیں ہال کے بائیں طرف موجود سیڑھیوں سے نیچے تہہ خانے میں جانا ہوگا۔”
وہ سب ڈرتے ڈرتے نیچے اترے۔ تہہ خانے میں حبس اور اندھیرا تھا، لیکن جیسے ہی وہ آخری سیڑھی پر پہنچے، ان کے سامنے ایک بہت بڑا لوہے کا دروازہ آیا، جس کے بیچوں بیچ ایک گڑھا بنا ہوا تھا—بالکل اسی سائز کا، جس سائز کا وہ چمکتا ہوا پتھر تھا جو مٹکے سے نکلا تھا۔
شیخ چلی نے کانپتے ہاتھوں سے وہ چمکتا ہوا پتھر نکالا اور اسے دروازے کے اس گڑھے میں فٹ کر دیا۔ ایک زوردار گڑگڑاہٹ کی آواز ہوئی، دیواریں ہلنے لگیں، اور وہ لوہے کا بھاری دروازہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹ گیا۔
دروازے کے پیچھے جو منظر تھا، اسے دیکھ کر سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ وہاں واقعی سونے کے سکوں سے بھرے ہوئے بڑے بڑے مٹکے اور صندوق رکھے ہوئے تھے۔ لیکن اس خزانے کے بالکل اوپر، دیوار پر پرانے زمانے کے ایک بزرگ کی تصویر لگی ہوئی تھی اور اس کے نیچے اردو میں کچھ لکھا ہوا تھا، جسے رحمو بابا نے اونچی آواز میں پڑھا:
“یہ خزانہ اس شخص کے لیے ہے جو محنت کی قدر جانتا ہو۔ خواب دیکھنا اچھائی کی علامت ہے، لیکن عمل کے بغیر خواب صرف ایک دھوکہ ہیں۔ جو شخص اس خزانے کو پائے، وہ اسے صرف اپنے عیش و آرام پر نہیں، بلکہ غریبوں اور اس گاؤں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرے، ورنہ یہ سونا مٹی بن جائے گا۔”
یہ پڑھ کر شیخ چلی کے دل کو ایک زوردار جھٹکا لگا۔ اسے یاد آیا کہ وہ کس طرح سارا دن کام چوری کرتا تھا اور صرف خیالی پلاؤ پکاتا رہتا تھا۔ اگر آج وہ مٹکا اتفاق سے نہ ٹوٹتا، تو وہ کبھی اس سچائی تک نہ پہنچ پاتا۔
چودھری الٰہی بخش نے شیخ چلی کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا: “شیخ، آج تمہاری وجہ سے اس گاؤں کی تقدیر بدل گئی ہے۔ لیکن یاد رکھنا، یہ خزانہ اس سبق کے ساتھ آیا ہے کہ ہمیں اپنی اصل زندگی میں محنت کرنی چاہیے۔”
شیخ چلی نے مسکراتے ہوئے کہا: “چودھری صاحب! اب میں سمجھ گیا ہوں۔ اب میں گھوڑے پر بیٹھ کر تلوار لہرانے کا خواب نہیں دیکھوں گا، بلکہ اس خزانے سے اپنے گاؤں کے بچوں کے لیے ایک اسکول بناؤں گا اور کچے راستوں کو پکا کروں گا!”
اگلی صبح، گاؤں کا ماحول بالکل بدل چکا تھا۔ شیخ چلی اب وہ پرانا، کاہل اور خیالی دنیا کا مسافر نہیں رہا تھا۔ اگرچہ اس کی مزاحیہ طبیعت اور ہنسنے ہنسانے کی عادت اب بھی برقرار تھی، لیکن اب اس کے اندر ایک ذمہ دار انسان جاگ چکا تھا۔
اس نے خزانے کا ایک بڑا حصہ گاؤں کی بہبود کے لیے وقف کر دیا۔ گاؤں کا وہ چوک، جہاں وہ کھڑا ہو کر خواب دیکھ رہا تھا، اب وہاں غریبوں کے لیے لنگر خانہ اور بچوں کے لیے تعلیم کا انتظام ہو رہا تھا۔ وہ لوگ جو کل تک اس پر ہنستے تھے، آج اس کی عزت کرتے تھے۔
اور اس طرح، دراصل اس کی پرانی، غافل زندگی کے ٹوٹنے اور ایک نئی، بامقصد اور سبق آموز زندگی کے شروع ہونے کا سبب بن گیا۔
کہانی کا سبق
خواب دیکھنا بری بات نہیں، لیکن خوابوں کو سچ کرنے کے لیے زمین پر رہ کر محنت کرنا اور دوسروں کے کام آنا ہی انسان کی اصل کامیابی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner