بہت پرانے زمانے کی بات ہے، ایک بادشاہ تھا جو اپنے ظلم و ستم کی وجہ سے دور دور تک بدنام تھا۔ اس کی رعایا اس سے شدید خوفزدہ رہتی تھی۔ مظلوم لوگ دن رات اس کی موت کی دعائیں مانگتے اور اس کے تخت کے الٹ جانے کی آرزو کرتے تھے۔ ظلم کی داستانیں ہر زبان پر تھیں، مگر بادشاہ اپنی سرکشی میں ڈوبا ہوا تھا۔
پھر اچانک ایک دن ایسا ہوا جس نے سب کو حیران کر دیا۔
بادشاہ نے اعلان کیا کہ وہ اپنی پرانی روش ترک کر رہا ہے۔ اس نے وعدہ کیا کہ آج کے بعد نہ کسی پر ظلم ہوگا اور نہ کسی کا حق مارا جائے گا۔ اس کی حکومت اب انصاف اور مساوات پر قائم ہوگی۔
ابتدا میں کسی نے یقین نہ کیا۔ لوگوں نے اسے محض ایک دکھاوا سمجھا، مگر وقت گزرتا گیا اور بادشاہ واقعی اپنے وعدے پر قائم رہا۔ مہینوں بعد رعایا کے دل بدلنے لگے۔ جو لوگ کل تک اس کے لیے بددعائیں کرتے تھے، اب اس کے لیے خیر کی دعائیں کرنے لگے۔
لیکن ایک سوال سب کے دل میں تھا…
آخر ایک ظالم بادشاہ اچانک اتنا بدل کیسے گیا؟
ایک دن اس کے وزیر نے ہمت کی اور یہی سوال پوچھ لیا۔
بادشاہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر ایک گہرا سانس لے کر بولا:
“ایک دن میں گھوڑے پر جنگل سے گزر رہا تھا کہ میری نظر ایک عجیب منظر پر پڑی۔ ایک جنگلی کتا ایک لومڑی کا تعاقب کر رہا تھا۔ لومڑی جان بچانے کے لیے اپنی ماند کی طرف بھاگی، مگر کتے نے اس کی ٹانگ کاٹ لی اور وہ ہمیشہ کے لیے لنگڑی ہو گئی۔
میں یہ منظر دیکھ ہی رہا تھا کہ کچھ دیر بعد وہی کتا ایک آدمی پر بھونکنے لگا۔ آدمی غصے میں آگیا اور اس نے بڑا پتھر اٹھا کر کتے کی ٹانگ توڑ دی۔
لیکن سلسلہ یہیں ختم نہ ہوا…
وہ آدمی ابھی زیادہ دور نہ گیا تھا کہ ایک گھوڑے نے زور دار لات ماری اور اس کا گھٹنا چکنا چور کر دیا۔ وہ زمین پر گر پڑا اور ہمیشہ کے لیے اپاہج ہو گیا۔
اور پھر…
وہی گھوڑا کچھ فاصلے پر ایک گڑھے میں گر گیا اور اس کی اپنی ٹانگ بھی ٹوٹ گئی۔”
بادشاہ نے وزیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
“اس دن مجھے زندگی کا ایک بہت بڑا سبق ملا… میں نے سمجھ لیا کہ برائی کبھی تنہا نہیں رہتی، وہ ایک زنجیر کی صورت آگے بڑھتی ہے۔ ظلم آخرکار پلٹ کر ظالم ہی کو آ گھیرتا ہے۔”
وزیر یہ سن کر خاموش ہو گیا، مگر اس کے دل میں لالچ جاگ اٹھا۔ اس نے سوچا کہ اب بادشاہ کی نرمی سے فائدہ اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔
مگر قدرت کا فیصلہ کچھ اور تھا…
انہی خیالات میں ڈوبا ہوا وہ سیڑھیوں سے پھسلا، نیچے گرا اور اسی وقت مر گیا۔
یوں اس کی اپنی بد نیتی ہی اس کے انجام کا سبب بن گئی۔
🌷 سبق:
یاد رکھیں… ظلم، زیادتی اور برائی کبھی بے حساب نہیں رہتی۔ ہر عمل کا بدلہ ضرور ملتا ہے۔ اگر دنیا میں نہ ملے تو آخرت میں ضرور ملے گا۔ اس لیے ہمیشہ نیکی اختیار کریں، کیونکہ انسان وہی کاٹتا ہے جو وہ بوتا ہے۔
🤍 اگر آپ نے یہ تحریر مکمل پڑھی ہے اور آپ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں تو کمنٹ میں اللہ تعالیٰ کے 99 ناموں میں سے کوئی ایک خوبصورت نام ضرور لکھیں…
جس نام سے آپ اللہ پاک کو پکارنا سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں۔ 🌷
