ایک بلند پہاڑ پر ایک عقاب رہتا تھا۔ وہ اپنی طاقت، رفتار اور اونچی پرواز پر بہت فخر کرتا تھا۔ پورے جنگل میں اس کا رعب تھا۔ وہ اکثر دوسرے جانوروں سے کہتا:
“میری نظر آسمان سے زمین تک سب کچھ دیکھ سکتی ہے۔ تم سب میری طرح عظیم نہیں بن سکتے۔”
جانور اس کی باتیں سن کر خاموش رہتے، مگر دل ہی دل میں اس کے غرور کو ناپسند کرتے تھے۔
اسی جنگل میں ایک چھوٹا سا جگنو بھی رہتا تھا۔ دن کے وقت کوئی اسے نہیں دیکھتا تھا اور رات کو بھی اس کی روشنی بہت معمولی لگتی تھی۔ عقاب اکثر اس کا مذاق اڑاتا۔
ایک رات اچانک جنگل میں خوفناک طوفان آیا۔ آندھی اتنی شدید تھی کہ درخت جڑوں سمیت اکھڑنے لگے۔ بارش نے راستے مٹا دیے۔ جانور ادھر ادھر بھاگنے لگے۔
اسی ہنگامے میں عقاب کا ایک ننھا بچہ اپنے گھونسلے سے گر کر جنگل کے گھنے حصے میں کھو گیا۔
صبح طوفان رک گیا، مگر عقاب کا بچہ کہیں نہیں ملا۔
عقاب پہلی بار بے بس تھا۔
اس نے ہرنوں، بندروں اور لومڑیوں سے مدد مانگی۔ سب نے تلاش کی، مگر جنگل بہت وسیع تھا۔
رات ہونے لگی اور امید ختم ہونے لگی۔
تب چھوٹا سا جگنو آگے بڑھا اور بولا:
“اگر آپ اجازت دیں تو میں کوشش کرتا ہوں۔”
عقاب نے دل میں سوچا، “جسے اپنی روشنی تک سنبھالنی مشکل ہے، وہ میرا بچہ کیا ڈھونڈے گا؟”
مگر اب اس کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔
جگنو اڑتا ہوا جنگل کے تاریک حصوں میں گیا۔ وہ چھوٹا تھا، اس لیے کانٹوں اور جھاڑیوں کے اندر بھی جا سکتا تھا۔ گھنٹوں تلاش کے بعد اسے ایک گہری کھائی کے کنارے عقاب کا زخمی بچہ مل گیا۔
بچہ ڈرا ہوا تھا اور اندھیرے میں کچھ دیکھ نہیں سکتا تھا۔
جگنو پوری رات اس کے پاس رہا۔ اپنی ننھی سی روشنی سے اسے حوصلہ دیتا رہا تاکہ وہ خوف سے مر نہ جائے۔
صبح جگنو نے جانوروں کو راستہ دکھایا اور سب نے مل کر بچے کو بچا لیا۔
عقاب اپنے بچے کو سینے سے لگا کر رو پڑا۔
پھر وہ سب کے سامنے جھکا اور جگنو سے بولا:
“میں ہمیشہ سمجھتا رہا کہ عظمت طاقت میں ہوتی ہے، مگر آج معلوم ہوا کہ اصل عظمت دوسروں کے کام آنے میں ہے۔ میری اونچی پرواز وہاں ناکام ہوگئی جہاں تمہاری چھوٹی سی روشنی کامیاب ہوگئی۔”
اس دن کے بعد عقاب نے کبھی کسی کو حقیر نہیں سمجھا۔
اور جنگل کے جانوروں نے سیکھ لیا کہ بعض اوقات دنیا کو سورج کی نہیں، ایک جگنو کی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔
سبق:
انسان کی قدر اس کی طاقت، دولت یا شہرت سے نہیں بلکہ اس فائدے سے ہوتی ہے جو وہ دوسروں کو پہنچاتا ہے۔ چھوٹی نیکی بھی بڑے غرور سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔
