روس کے برف پوش جنگلات کے کنارے ایک نیلگوں دریا بہتا تھا۔ سرد ہوا درختوں کے درمیان سیٹیاں بجاتی پھرتی، اور پانی کی لہریں چاندی کی طرح چمکتی تھیں۔
اسی دریا کے کنارے ایک غریب مگر حاضر دماغ مچھیرا بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں بانس کی سادہ سی چھڑی تھی اور نگاہ پانی کی سطح پر جمی ہوئی تھی۔ وہ صبر سے مچھلی کے جال میں آنے کا انتظار کر رہا تھا۔
اچانک جھاڑیوں میں کھڑکھڑاہٹ ہوئی۔
درختوں کے درمیان سے ایک دیوہیکل بھالو نمودار ہوا۔ اس کی گھنی کھال، بھاری پنجے اور گرج دار آواز کسی بھی شخص کے دل میں خوف پیدا کرنے کے لیے کافی تھے۔
بھالو مچھیرا کے قریب آیا اور غرایا:
“اے انسان! مجھے فوراً مچھلی دو، ورنہ میں تمہیں کھا جاؤں گا!”
مچھیرا اگرچہ دبلا پتلا تھا، مگر عقل کا خزانہ رکھتا تھا۔ اس نے گھبرانے کے بجائے مسکرا کر کہا:
“بھالو بھائی! مفت کی مچھلی مانگنے سے بہتر ہے کہ مچھلی پکڑنا سیکھ لو۔”
بھالو نے حیرت سے پوچھا:
“کیا یہ مشکل کام ہے؟”
مچھیرا بولا:
“بالکل نہیں۔ بس دریا میں جاؤ اور مچھلی پکڑ لو۔”
بھالو نے سوچا کہ اس سے آسان کیا ہو سکتا ہے۔
وہ بڑے اعتماد سے دریا کی طرف بڑھا، ایک پتھر پر چڑھا اور مچھلی پکڑنے کے لیے جھپٹا۔
مگر اگلے ہی لمحے…
چھپاک!
وہ سیدھا دریا میں جا گرا۔
پانی کے چھینٹے ہر طرف بکھر گئے۔ کچھ دیر بعد بھالو پوری طرح بھیگا ہوا، کانوں سے پانی ٹپکاتا اور ناک سے پھونکیں مارتا ہوا باہر نکلا۔
اس نے غصے سے کہا:
“تم نے مجھے دھوکہ دیا!”
مچھیرا ہنسا اور بولا:
“میں نے تو صرف یہ کہا تھا کہ پہلے سیکھو، پھر کوشش کرو۔ تم نے سیکھنے کی زحمت ہی نہیں کی۔”
بھالو کا غصہ اور بڑھ گیا۔
اس نے پنجہ زمین پر مارا اور دھاڑا:
“اب تو میں تمہیں ضرور کھاؤں گا!”
مچھیرا بدستور پُرسکون رہا۔
اس نے بھالو کو غور سے دیکھا اور بولا:
“بھالو بھائی، ایک بات تو سوچو۔”
“کیا؟” بھالو غرایا۔
“تم ابھی ابھی دریا سے نکلے ہو۔ تمہاری کھال پانی سے بھری ہوئی ہے، جسم بوجھل ہو چکا ہے۔ اگر تم مجھے کھا بھی لو تو اتنے بھاری ہو جاؤ گے کہ آرام سے سو بھی نہیں سکو گے۔”
بھالو نے ماتھا کھجایا۔
بات میں کچھ وزن تو تھا۔
اس نے اپنے بھیگے ہوئے جسم کی طرف دیکھا، پھر پیٹ پر ہاتھ پھیرا اور سوچ میں پڑ گیا۔
“واقعی… میں تو پہلے ہی کافی بھاری محسوس کر رہا ہوں۔”
کچھ لمحے غور کرنے کے بعد اس نے ایک لمبی سانس لی، مچھیرے کو گھورا، اور پھر جنگل کی طرف واپس چل دیا۔
مچھیرا مسکراتا ہوا دوبارہ اپنی چھڑی سنبھال کر دریا کی طرف متوجہ ہو گیا۔
دریا بدستور بہہ رہا تھا، اور ہوا جیسے اس کی دانائی پر داد دے رہی تھی۔
سبق
طاقت ہر مسئلے کا حل نہیں ہوتی۔ بعض اوقات حاضر جوابی، صبر اور عقل وہ کام کر جاتے ہیں جو زورِ بازو نہیں کر سکتا۔ جو شخص گھبراہٹ کے بجائے تدبر سے کام لیتا ہے، وہ بڑے سے بڑے خطرے سے بھی نکل جاتا ہے۔ 🐻🎣✨
مزاحیہ انداز میں:
“جب کوئی بھالو بن کر دھمکانے آئے، تو اسے اتنا الجھا دو کہ وہ اپنے ہی وزن کے بارے میں سوچنے لگ جائے!” 😄
منقول
