عقل مند گدھا

عقل مند گدھا

ایک دور دراز گاؤں میں ایک غریب کسان رہتا تھا جس کا نام رحمت علی تھا اور وہ بہت محنتی تھا
رحمت علی کے پاس اپنی زمین کے سوا ایک گدھا تھا جو اس کا واحد سہارا اور کل سرمایہ تھا
اس گدھے کا نام رحمت علی نے کالا رکھا ہوا تھا لیکن کالا عام گدھوں جیسا بالکل نہیں تھا
کالا بہت سمجھدار تھا اور انسانوں کی باتوں کو بہت جلدی سمجھ جاتا تھا اور اشاروں پر عمل کرتا تھا
رحمت علی روز صبح سویرے اٹھتا اور کالے کی پیٹھ پر تازہ سبزیاں لاد کر شہر کی منڈی میں بیچنے جاتا
شہر کا راستہ ایک گھنے جنگل سے ہو کر گزرتا تھا جہاں ہر طرح کے جانور رہتے تھے
اس جنگل میں ایک چالاک لومڑی بھی رہتی تھی جو بہت عرصے سے کسی آسان شکار کی تلاش میں تھی
لومڑی نے کئی بار رحمت علی اور اس کے گدھے کو آتے جاتے دیکھا تھا اور اس کے منہ میں پانی آتا تھا
لیکن وہ جانتی تھی کہ کسان کے پاس ایک لمبا ڈنڈا ہوتا ہے جس سے وہ جانوروں کو بھگا دیتا ہے
اس لیے لومڑی براہ راست حملہ کرنے سے ڈرتی تھی اور کسی چال کا سوچ رہی تھی
ایک دن رحمت علی کو بخار ہو گیا اور وہ منڈی نہ جا سکا تو اس نے کالے کو اکیلے ہی جانے کی عادت ڈالی
رحمت علی نے کالے کے گلے میں پیسوں کی تھیلی اور سبزیوں کی ٹوکری باندھ کر اسے اکیلے روانہ کیا
کالا سمجھدار تھا وہ راستہ جانتا تھا اور ہر روز اپنے مالک کے ساتھ جاتا تھا اس لیے وہ اکیلا چل پڑا
جنگل کے بیچوں بیچ پہنچ کر لومڑی اچانک ایک بڑے پتھر پر آ کر بیٹھ گئی اور کالے کو روکا
لومڑی نے بڑی میٹھی آواز میں کہا اے پیارے گدھے بھائی تم روز یہ بوجھ اٹھا کر کیوں تکلیف اٹھاتے ہو
کالے نے پہلے تو کوئی جواب نہ دیا اور چلتا رہا کیونکہ اسے اپنے مالک کی بات یاد تھی کہ کسی سے بات نہ کرنا
لیکن لومڑی نے پھر کہا کہ میں تمہاری دوست ہوں میں تمہیں اس ظالم مالک سے آزادی دلا سکتی ہوں
تمہارا مالک تم سے سارا دن کام لیتا ہے اور بدلے میں تمہیں سوکھی گھاس دیتا ہے یہ کہاں کا انصاف ہے
اگر تم میری بات مان لو تو میں تمہیں ایسے کھیت میں لے جاؤں گی جہاں ہری ہری گھاس اور میٹھا پانی ہے
وہاں تمہیں کوئی کام نہیں کرنا پڑے گا اور تم سارا دن آرام سے گھاس کھا سکو گے
کالا کچھ دیر کے لیے رکا اور لومڑی کی باتوں پر غور کرنے لگا کیونکہ وہ تھک بھی گیا تھا
لیکن پھر اسے اپنے مالک رحمت علی کی محبت یاد آئی جس نے اسے بچپن سے پالا تھا
رحمت علی اسے کبھی مارتا نہیں تھا اور سردیوں میں اپنے کمبل میں سے اسے بھی حصہ دیتا تھا
کالے نے سوچا کہ یہ لومڑی ضرور کوئی چال چل رہی ہے کیونکہ مفت میں کوئی کسی کو کھیت نہیں دیتا
اس لیے کالے نے عقلمندی سے کام لینے کا فیصلہ کیا اور لومڑی سے باتوں میں الجھانے لگا
کالے نے کہا اے لومڑی بہن تمہاری بات تو بہت اچھی لگ رہی ہے لیکن میں یہ بوجھ کیسے چھوڑ دوں
یہ سبزیاں میرے مالک کی امانت ہیں اور امانت میں خیانت کرنا اچھی بات نہیں ہوتی
لومڑی نے کہا کہ امانت گئی بھاڑ میں تم اپنی زندگی کا سوچو تم ساری زندگی غلام ہی رہو گے کیا
کالے نے کہا کہ غلامی میں بھی عزت ہے اگر مالک اچھا ہو تو اور میرا مالک دنیا کا سب سے اچھا مالک ہے
لومڑی کو غصہ آنے لگا کیونکہ اس کی چال کامیاب نہیں ہو رہی تھی اور گدھا اس کی باتوں میں نہیں آ رہا تھا
پھر لومڑی نے دوسری چال چلی اور کہا کہ اچھا تم مجھے یہ سبزیاں دے دو میں تمہارے مالک کو پیسے دے دوں گی
کالے نے دل میں ہنس کر کہا کہ لومڑی کے پاس پیسے کہاں سے آئے وہ تو جنگل میں رہتی ہے
لیکن ظاہری طور پر کالے نے کہا کہ یہ سبزیاں بہت قیمتی ہیں اور تمہارے پاس اتنے پیسے نہیں ہوں گے
لومڑی نے کہا کہ میرے پاس ایک غار میں بہت سارا خزانہ ہے جو میں نے انسانوں سے چھپا کر رکھا ہے
اگر تم یہ ٹوکری مجھے دے دو تو میں تمہیں اس خزانے میں سے آدھا حصہ دے دوں گی
کالا سمجھ گیا کہ لومڑی جھوٹ بول رہی ہے اور اسے صرف سبزیاں کھانی ہیں اور اسے نقصان پہنچانا ہے
کالے نے ایک ترکیب سوچی اور کہا کہ ٹھیک ہے مجھے تمہاری بات منظور ہے لیکن میری ایک شرط ہے
میری شرط یہ ہے کہ تم پہلے مجھے وہ خزانہ دکھاؤ پھر میں تمہیں یہ سبزیاں دے دوں گا
لومڑی نے کہا کہ خزانہ یہاں سے بہت دور ہے اور وہاں تک پیدل جانا پڑے گا اور تم تھک جاؤ گے
کالے نے کہا کہ کوئی بات نہیں میں تھکوں گا نہیں کیونکہ میں روز اتنا سفر کرتا ہوں مجھے عادت ہے
لومڑی مجبور ہو گئی اور اس نے کہا کہ چلو میرے پیچھے پیچھے آؤ میں تمہیں خزانہ دکھاتی ہوں
لومڑی آگے آگے چلنے لگی اور کالا اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا لیکن کالا راستہ نہیں بھولا تھا
کچھ دور جا کر ایک گہرا گڑھا آیا جو شکاریوں نے جنگلی جانوروں کو پکڑنے کے لیے کھود رکھا تھا
گڑھے کے اوپر گھاس پھوس ڈالی ہوئی تھی تاکہ جانوروں کو پتہ نہ چلے اور وہ اس میں گر جائیں
لومڑی اس گڑھے کے بارے میں جانتی تھی اور وہ چاہتی تھی کہ کالا اس گڑھے میں گر جائے
لومڑی نے جان بوجھ کر گڑھے کے کنارے سے چھلانگ لگائی اور دوسری طرف چلی گئی
اس نے کالے سے کہا کہ جلدی سے چھلانگ لگاؤ یہاں سے ہی خزانے کا راستہ شروع ہوتا ہے
کالے نے غور سے زمین کو دیکھا اور اسے شک ہو گیا کہ یہاں زمین کا رنگ کچھ بدلا بدلا سا ہے
اس نے اپنے کان کھڑے کیے اور اپنی ناک سے سونگھا تو اسے تازہ مٹی کی بو آئی
کالے کو یقین ہو گیا کہ یہاں ضرور کوئی گڑھا ہے اور لومڑی اسے اس میں گرانا چاہتی ہے
اس لیے کالے نے اپنی عقلمندی کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ اے لومڑی بہن تم تو بہت چالاک ہو
تم نے اتنا لمبا سفر کیا ہے تم تھک گئی ہو گی پہلے تم اس گھاس پر بیٹھ کر آرام کر لو
پھر ہم دونوں مل کر چھلانگ لگائیں گے کیونکہ مجھے اکیلے چھلانگ لگانے میں ڈر لگتا ہے
لومڑی نے سوچا کہ گدھا بے وقوف ہے اور اس کی بات مان رہا ہے اور وہ اس گھاس پر بیٹھنے لگی
جیسے ہی لومڑی اس گھاس پر بیٹھی وہ سیدھی گہرے گڑھے میں جا گری اور زور زور سے چیخنے لگی
گڑھا بہت گہرا تھا اور اس میں سے نکلنا آسان نہیں تھا اور لومڑی اس میں پھنس گئی تھی
کالے نے اوپر سے جھانک کر دیکھا اور کہا کہ اے چالاک لومڑی اب تمہارا خزانہ کہاں ہے
تم دوسروں کے لیے گڑھا کھودتی تھی آج خود ہی اس میں گر گئی ہو یہی تمہارے لالچ کا انجام ہے
لومڑی نے روتے ہوئے کہا کہ اے گدھے بھائی مجھے معاف کر دو اور مجھے اس گڑھے سے نکال دو
میں آئندہ کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دوں گی اور کبھی کسی کا حق نہیں کھاؤں گی
کالے نے کہا کہ میں تمہیں اس لیے نہیں نکالوں گا کہ تم باہر آ کر پھر کسی اور کو دھوکہ دو گی
تمہیں اس گڑھے میں ہی رہنا چاہیے تاکہ تمہیں تمہارے کی سزا ملے اور دوسرے جانور محفوظ رہیں
یہ کہہ کر کالا واپس اپنی راہ پر چل پڑا اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا
شہر کی منڈی میں پہنچ کر کالے نے سبزیاں بیچیں اور جو پیسے ملے وہ تھیلی میں ڈال کر واپس آ گیا
واپسی پر اس نے دیکھا کہ لومڑی اب بھی گڑھے میں پھنسی ہوئی تھی اور مدد کے لیے پکار رہی تھی
لیکن کالے نے اس کی باتوں پر بالکل دھیان نہ دیا اور سیدھا اپنے گھر کی طرف چل دیا
گھر پہنچ کر رحمت علی نے کالے کو دیکھا تو بہت خوش ہوا اور اس کی پیٹھ تھپتھپائی
رحمت علی نے کہا کہ تم نے آج میرا مان رکھ لیا اور ثابت کر دیا کہ تم واقعی عقل مند ہو
رحمت علی کو جب سارے پیسے پورے ملے تو اسے بہت حیرت ہوئی کہ اکیلے گدھے نے کیسے سب کام کیا
اس رات رحمت علی نے کالے کو خوب پیٹ بھر کر کھانا کھلایا اور اسے تازہ پانی پلایا
دوسرے دن رحمت علی خود کالے کے ساتھ منڈی گیا اور راستے میں اسے وہ گڑھا نظر آیا
گڑھے میں لومڑی اب بھی پھنسی ہوئی تھی اور بہت کمزور ہو چکی تھی
رحمت علی نے جب ساری بات سنی جو کالے کے ساتھ ہوئی تو اس نے لومڑی کو سبق سکھانے کا سوچا
رحمت علی نے گاؤں کے لوگوں کو بلایا اور انہیں لومڑی کی ساری چالاکیوں کے بارے میں بتایا
گاؤں کے لوگوں نے لومڑی کو گڑھے سے نکالا اور اسے دور جنگل میں چھوڑ دیا تاکہ وہ گاؤں نہ آ سکے
اس دن کے بعد سے اس جنگل میں کوئی بھی جانور کسی مسافر کو تنگ نہیں کرتا تھا
رحمت علی اور اس کے گدھے کالے کی دوستی کی مثال سارے گاؤں میں دی جانے لگی
لوگ کہنے لگے کہ جانور بھی اگر وفادار اور عقل مند ہو تو وہ انسان سے بہتر ہوتا ہے
کالا اب صرف گدھا نہیں رہا تھا بلکہ وہ گاؤں کا سب سے سمجھدار جانور بن چکا تھا
ایک دن گاؤں میں ایک بہت بڑا میلہ لگا اور دور دور سے لوگ اس میلے میں آئے
میلے میں جانوروں کی ایک نمائش بھی رکھی گئی تھی جس میں سب سے عقلمند جانور کا مقابلہ تھا
رحمت علی نے بھی اپنے گدھے کالے کو اس مقابلے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا
مقابلے میں گھوڑے بیل اونٹ اور بہت سے جانور آئے ہوئے تھے اور سب اپنے آپ کو عقلمند سمجھتے تھے
مقابلے کا پہلا مرحلہ یہ تھا کہ ہر جانور کو ایک مشکل راستے سے گزر کر منزل تک پہنچنا تھا
راستے میں کئی رکاوٹیں تھیں اور جگہ جگہ پر کھانے کی چیزیں رکھی گئی تھیں تاکہ جانور لالچ میں آ جائیں
سب جانور باری باری اس راستے پر چھوڑے گئے اور اکثر جانور کھانے کی لالچ میں راستہ بھول گئے
کچھ جانور رکاوٹوں سے ڈر کر واپس آ گئے اور کچھ جانور راستہ بھٹک گئے
جب کالے کی باری آئی تو وہ بڑے آرام سے چلا اور اس نے کسی بھی لالچ کی طرف دھیان نہ دیا
اس نے تمام رکاوٹوں کو اپنی عقل سے پار کیا اور سیدھا اپنی منزل تک پہنچ گیا
سب لوگ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے کہ ایک گدھے نے اتنی عقلمندی کا مظاہرہ کیسے کیا
مقابلے کا دوسرا مرحلہ یہ تھا کہ ہر جانور کو اپنے مالک کی آواز پہچان کر اس تک پہنچنا تھا
بہت سے مالکان نے ایک ساتھ اپنے جانوروں کو آوازیں دیں تاکہ جانور کنفیوز ہو جائیں
کئی جانور غلط آوازوں کی طرف چلے گئے اور اپنے مالک تک نہ پہنچ سکے
لیکن کالا اپنی تیز سماعت کی وجہ سے اپنے مالک رحمت علی کی آواز کو فورا پہچان گیا
وہ سیدھا رحمت علی کے پاس پہنچا اور اس کے قدموں میں بیٹھ گیا
سب لوگوں نے تالیاں بجائیں اور کالے کی وفاداری اور عقلمندی کی تعریف کی
مقابلے کا آخری اور سب سے مشکل مرحلہ یہ تھا کہ ہر جانور کو ایک بند کمرے سے باہر نکلنا تھا
کمرے کا دروازہ باہر سے بند تھا لیکن اندر ایک کھڑکی کھلی ہوئی تھی جو تھوڑی اونچی تھی
زیادہ تر جانور دروازے کو ہی دھکیلتے رہے اور کھڑکی کی طرف کسی کا دھیان نہ گیا
کالا جب اس کمرے میں گیا تو اس نے پہلے دروازے کو دھکیلا لیکن جب وہ نہ کھلا تو اس نے ادھر ادھر دیکھا
اسے کھلی کھڑکی نظر آ گئی اور اس نے ایک لکڑی کے صندوق پر چڑھ کر کھڑکی سے باہر چھلانگ لگا دی
یہ دیکھ کر جج صاحبان بہت خوش ہوئے اور انہوں نے کالے کو سب سے عقل مند جانور قرار دے دیا
رحمت علی کو انعام کے طور پر ایک سونے کا تمغہ اور بہت سارے پیسے دیے گئے
رحمت علی نے وہ سارے پیسے گاؤں کے غریب لوگوں میں بانٹ دیے اور تمغہ کالے کے گلے میں ڈال دیا
اس دن کے بعد کالا پورے علاقے میں عقل مند گدھے کے نام سے مشہور ہو گیا
دور دور سے لوگ اس عقلمند گدھے کو دیکھنے کے لیے رحمت علی کے گاؤں آنے لگے
رحمت علی نے کالے کے لیے ایک پکا اور صاف ستھرا گھر بنا دیا جہاں وہ آرام سے رہتا تھا
کالا اب بوڑھا ہو چکا تھا لیکن اس کی عقل میں کوئی کمی نہیں آئی تھی
وہ اب بھی ہر بات کو سمجھتا تھا اور گاؤں کے بچوں کے ساتھ کھیلتا تھا
بچے اس کی پیٹھ پر بیٹھ کر خوش ہوتے تھے اور کالا انہیں آہستہ آہستہ سیر کراتا تھا
ایک دن جنگل میں آگ لگ گئی اور سارے جانور اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنے لگے
آگ بہت تیزی سے گاؤں کی طرف بڑھ رہی تھی اور گاؤں کے لوگ بہت پریشان تھے
گاؤں کے لوگوں نے آگ بجھانے کی بہت کوشش کی لیکن آگ پر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا
کالے نے جب یہ دیکھا تو وہ زور زور سے ڈھینچوں ڈھینچوں کرنے لگا تاکہ سب لوگوں کو خبردار کر سکے
اس کی آواز سن کر گاؤں کے سارے لوگ اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے مل کر آگ بجھانے کی کوشش کی
کالا خود بھی ایک بڑی بالٹی کو دھکیل کر پانی لانے میں لوگوں کی مدد کرنے لگا
اس کی عقلمندی اور محنت کو دیکھ کر سب لوگوں میں ہمت آ گئی اور انہوں نے آگ پر قابو پا لیا
اگر کالا وقت پر سب کو خبردار نہ کرتا تو شاید پورا گاؤں جل کر خاک ہو جاتا
گاؤں کے لوگوں نے کالے کا شکریہ ادا کیا اور اسے گاؤں کا ہیرو قرار دے دیا
اس واقعے کے بعد لوگوں کو یقین ہو گیا کہ عقل کا تعلق شکل و صورت سے نہیں بلکہ سمجھ سے ہے
گدھا جسے سب بے وقوف سمجھتے ہیں وہ بھی اگر چاہے تو اپنی عقل سے سب کو حیران کر سکتا ہے
رحمت علی اکثر لوگوں کو نصیحت کرتا تھا کہ کبھی بھی کسی کو اس کی شکل سے بے وقوف نہ سمجھو
ہر کسی کے اندر کوئی نہ کوئی خاص خوبی ضرور ہوتی ہے جو وقت آنے پر ظاہر ہوتی ہے
کالے کی کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ اپنے مالک اور دوست کے وفادار رہنا چاہیے
دوسرا سبق یہ ملتا ہے کہ لالچ کبھی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ لالچ کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے
جیسے لومڑی اپنے لالچ کی وجہ سے گڑھے میں گر گئی اور اسے سزا ملی
تیسرا سبق یہ ملتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ اپنی عقل سے کام لینا چاہیے اور جلد بازی نہیں کرنی چاہیے
اگر کالا جلد بازی میں لومڑی کی بات مان کر گڑھے میں چھلانگ لگا دیتا تو وہ بھی پھنس جاتا
لیکن اس نے صبر اور عقل سے کام لیا اور اپنی جان بچا لی
چوتھا سبق یہ ہے کہ ہمیں کبھی بھی کسی اجنبی پر اندھا اعتماد نہیں کرنا چاہیے
لومڑی اجنبی تھی اور میٹھی میٹھی باتوں سے کالے کو دھوکہ دینا چاہتی تھی
پانچواں سبق یہ ہے کہ محنت اور ایمانداری کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے
رحمت علی محنت کرتا تھا اور کالا ایمانداری سے اس کا ساتھ دیتا تھا اس لیے وہ کامیاب ہوئے
چھٹا سبق یہ ہے کہ ہمیں دوسروں کی مدد کرنی چاہیے جیسے کالے نے گاؤں والوں کی آگ بجھانے میں مدد کی
اس کہانی سے ہمیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جانور بھی انسانوں سے زیادہ وفادار اور سمجھدار ہو سکتے ہیں
ہمیں جانوروں کے ساتھ بھی پیار اور محبت سے پیش آنا چاہیے کیونکہ وہ بھی تکلیف محسوس کرتے ہیں
رحمت علی نے کبھی کالے پر ظلم نہیں کیا اسی لیے کالا بھی اس سے اتنی محبت کرتا تھا
اگر ہم جانوروں پر ظلم کریں گے تو وہ بھی ہم سے دور بھاگیں گے اور ہم سے محبت نہیں کریں گے
اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ہر جاندار سے اچھا سلوک کریں اور ان کا خیال رکھیں
عقل مند گدھے کی یہ کہانی گاؤں کے ہر بچے کو یاد تھی اور وہ اس کہانی سے بہت کچھ سیکھتے تھے
ماں باپ اپنے بچوں کو رات کو یہ کہانی سناتے تھے تاکہ ان میں اچھی عادتیں پیدا ہوں
آہستہ آہستہ یہ کہانی پورے ملک میں مشہور ہو گئی اور کتابوں میں بھی لکھی جانے لگی
بڑے بڑے مصنفوں نے اس کہانی کو اپنی کتابوں میں شامل کیا اور اس پر تبصرے کیے
اس کہانی کا نام عقل مند گدھا رکھا گیا کیونکہ اس کا ہیرو ایک گدھا تھا جو بہت عقل مند تھا
کالا جب بہت بوڑھا ہو گیا تو ایک دن وہ اپنے گھر میں آرام سے سو گیا اور پھر کبھی نہ اٹھا
رحمت علی بہت رویا اور اس نے کالے کو اپنے کھیت میں دفن کیا اور اس کی قبر پر پھول لگائے
گاؤں کے سارے لوگ اس کے جنازے میں شریک ہوئے اور اس کے لیے دعا کی
رحمت علی نے اس کی قبر پر ایک تختی لگائی جس پر لکھا تھا یہاں ہمارا عقل مند گدھا کالا سو رہا ہے
آج بھی جب لوگ اس قبر کے پاس سے گزرتے ہیں تو اس کی عقلمندی اور وفاداری کو یاد کرتے ہیں
اور کہتے ہیں کہ ایسا وفادار اور عقل مند گدھا آج تک کسی نے نہیں دیکھا
یہ کہانی یہیں پر ختم ہوتی ہے لیکن اس کا سبق ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا
ہمیں چاہیے کہ ہم بھی کالے کی طرح عقل مند وفادار اور محنتی بنیں
اور کبھی بھی کسی چالاک لومڑی کی باتوں میں نہ آئیں
بلکہ اپنی عقل اور سمجھ سے ہر مشکل کا سامنا کریں
تب ہی ہم اپنی زندگی میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور دوسروں کے لیے مثال بن سکتے ہیں
یاد رکھو کہ عقل بڑی دولت ہے اور جو اسے استعمال کرتا ہے وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا
اس لیے ہمیشہ اپنی عقل کو استعمال کرو اور دوسروں کی مدد کرتے رہو
یہی اس کہانی کا اصل پیغام ہے اور یہی ہماری زندگی کا مقصد ہونا چاہیے
اللہ ہم سب کو عقل مند گدھے جیسی عقل اور سمجھ عطا فرمائے آمین
رحمت علی کی نسل آج بھی اس گاؤں میں رہتی ہے اور وہ کالے کی کہانی اپنے بچوں کو سناتے ہیں
وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دادا کے پاس ایک ایسا گدھا تھا جو انسانوں سے بھی زیادہ عقل مند تھا
اور اس کی وجہ سے ہمارے خاندان کی عزت پورے علاقے میں بڑھ گئی تھی
آج بھی اس گاؤں میں کوئی بھی شخص گدھے کو بے وقوف نہیں کہتا بلکہ اسے عزت دیتا ہے
کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کالے نے ان کے گاؤں کو کتنی بار مصیبتوں سے بچایا تھا
کالے کی قبر آج بھی اس گاؤں میں موجود ہے اور لوگ اسے دیکھنے کے لیے آتے ہیں
وہاں ایک چھوٹا سا میلہ بھی لگتا ہے جہاں بچے گدھوں کی دوڑ کا مقابلہ کرتے ہیں
اور جو بچہ جیتتا ہے اسے عقل مند گدھے کا خطاب دیا جاتا ہے
یہ خطاب سب سے بڑا انعام سمجھا جاتا ہے اور ہر بچہ اسے حاصل کرنا چاہتا ہے
اس طرح کالے کی یاد آج بھی زندہ ہے اور اس کی کہانی آج بھی لوگوں کو سبق دے رہی ہے
ہمیں امید ہے کہ آپ کو یہ کہانی پسند آئی ہو گی اور آپ اس سے بہت کچھ سیکھیں گے
اپنی زندگی میں اس کہانی کے سبقوں پر عمل کریں گے اور ایک اچھے انسان بنیں گے
اگر آپ کو یہ کہانی اچھی لگی ہو تو اسے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ ضرور شیئر کریں
تاکہ وہ بھی اس عقل مند گدھے کی کہانی سے فائدہ اٹھا سکیں اور اپنی زندگی بہتر بنا سکیں
ہمیں یقین ہے کہ آپ اس کہانی کو بار بار پڑھیں گے اور ہر بار آپ کو ایک نیا سبق ملے گا
کیونکہ اچھی کہانیاں ہمیشہ نئی لگتی ہیں اور ہر بار کچھ نیا سکھاتی ہیں
یہ کہانی بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے جو آپ کو کبھی پرانی نہیں لگے گی
اس لیے اسے اپنے دل میں محفوظ کر لیں اور اس کے کرداروں کو ہمیشہ یاد رکھیں
رحمت علی اور کالے کی دوستی ہمیشہ کے لیے امر ہو گئی ہے
اور لومڑی کی چالاکی ہمیشہ کے لیے ناکام ہو گئی ہے
سچ کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے اور جھوٹ کی ہمیشہ ہار ہوتی ہے
یہی قدرت کا قانون ہے اور یہی اس دنیا کا دستور ہے
جو اچھا کرے گا وہ اچھا پائے گا اور جو برا کرے گا وہ برا پائے گا
اس لیے ہمیشہ اچھے کام کرو اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرو
اللہ آپ سب کو خوش رکھے اور آپ کو ہر برائی سے محفوظ رکھے
آمین ثم آمین


Leave a Reply

NZ's Corner