عورت کی چالاکی اور کھیت والی مچھلیاں

عورت کی چالاکی اور کھیت والی مچھلیاں

چوہدری صاحب کی چوپال میں لوگ جمع تھے کہ یہ بحث چھڑی کہ مردوں کو عورتوں کے مکر سے ڈرنا چاہیے۔ شریف عورت کی اتنی ہی مہربانی ہے کہ وہ اپنے گھر کی عزت اور والدین کے وقار کی لاج رکھتی ہے، وگرنہ وہ بڑے بڑے عقلمندوں کو شکست دے سکتی ہے۔

چوہدری یہ بات سن کر کسمسایا، کیونکہ اس نے اپنی بیوی پر خوب رعب جمایا ہوا تھا۔

گھر آ کر اس نے اپنی بیوی سے پوچھا:
“اگر عورت اپنے مکر پر آ جائے تو کیا وہ مجھ جیسے شخص کو بھی شکست دے سکتی ہے؟ کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ کیا یہ سچ ہے؟”

اس کی بیوی نے جواب دیا:
“ہاں، یہ سچ ہے۔”

چوہدری نے کہا:
“تو پھر مکر کر، اور بڑا مکر کر!”

اس کی بیوی مسکرا کر بولی:
“نہیں، پہلے چھوٹے مکر سے آغاز کرتے ہیں۔ اگر آپ نے چھوٹا مکر برداشت کر لیا، تو پھر بڑا مکر بھی کر لوں گی۔”

چوہدری نے اعتماد سے کہا:
“ٹھیک ہے، میں دیکھتا ہوں تم کیا کرتی ہو!”

اگلے دن اس کی بیوی نہر پر گئی، وہاں سے دو مچھلیاں پکڑیں اور چپکے سے کھیت میں دبا دیں۔

صبح سویرے چوہدری حسبِ معمول کھیتوں میں کاشت کے سلسلے میں گیا۔ جونہی اس نے بیج بونے کے لیے زمین کھودنا شروع کی، وہاں سے دو مچھلیاں برآمد ہوئیں۔

وہ حیران رہ گیا اور خوشی خوشی مچھلیاں اٹھا کر گھر لے آیا۔ گھر پہنچ کر اس نے بیوی سے کہا:
“یہ مچھلیاں اچھی طرح پکا دینا، آج مزے کا کھانا ہوگا!”

اس کی بیوی نے بڑے اہتمام سے مچھلیاں پکا دیں۔

دوپہر کو چوہدری کھانا کھانے کے لیے گھر آیا۔ دسترخوان پر بیٹھا تو سامنے صرف دال رکھی ہوئی تھی۔ یہ دیکھ کر وہ سٹپٹا گیا اور غصے میں بولا:
“مچھلیاں کہاں ہیں؟”

اس کی بیوی نے حیرت ظاہر کرتے ہوئے کہا:
“کون سی مچھلیاں؟”

چوہدری غصے سے آگ بگولا ہو گیا اور بولا:
“وہی مچھلیاں جو میں صبح کھیت سے پکڑ کر لایا تھا!”

اس کی بیوی نے فوراً ماتھے پر ہاتھ مارا اور کہا:
“اللہ خیر کرے! بھلا کھیت سے بھی کہیں مچھلیاں ملتی ہیں؟ لگتا ہے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں!”

چوہدری یہ سن کر مزید غصے میں آ گیا اور بیوی کو مارنے کے لیے بڑھا۔ شور و غل سن کر ہمسائے بھی جمع ہو گئے۔

لوگوں نے پوچھا:
“آخر بات کیا ہے؟ کیوں شور مچا رکھا ہے؟”

چوہدری نے غصے سے کہا:
“میں صبح دو مچھلیاں کھیت سے لایا تھا۔ اسے پکانے کے لیے دیا، مگر اب یہ کہتی ہے کہ میں کوئی مچھلیاں لایا ہی نہیں!”

اس کی بیوی نے حاضرین کی طرف دیکھ کر کہا:
“پہلے اس سے یہ تو پوچھیں کہ مچھلیاں کہاں سے لایا تھا؟”

چوہدری نے فوراً جواب دیا:
“کھیت سے!”

یہ سنتے ہی اس کی بیوی چیخ اٹھی:
“دیکھا آپ سب نے! یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ بھلا کھیتوں سے بھی کہیں مچھلیاں نکلتی ہیں؟ لگتا ہے ان کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ میرے بھائیوں کو بلاؤ!”

اتنا سننا تھا کہ لڑکی کے گھر والے بھی آ پہنچے۔ ساری بات ان کے سامنے رکھی گئی۔

انہوں نے چوہدری کو پکڑ کر باندھ دیا، اور سمجھنے لگے کہ واقعی اس کا دماغ چل گیا ہے۔

ادھر چوہدری کی بیوی سکون سے کھانا کھانے بیٹھی۔ اس نے ایک پلیٹ میں دال ڈالی اور دوسری میں مچھلی رکھی۔

وہ ایک نوالہ دال کا بناتی، چوہدری کے منہ میں ڈالتی، اور دوسرا نوالہ مچھلی کا خود کھا لیتی۔

چوہدری بے بسی سے چیختا، چلاتا اور شور مچاتا رہا، مگر کوئی اس کی بات سننے کو تیار نہ تھا۔

آخر اس کی بیوی مسکرا کر بولی:
“چوہدری صاحب! یہ تو ابھی چھوٹا مکر تھا۔ اگر بڑا مکر کرتی، تو آپ کا کیا حال ہوتا؟”

یہ سن کر چوہدری بالآخر خاموش ہو گیا اور دل ہی دل میں عورت کے مکر کو مان گیا۔

اب اگر آپ میں سے کسی کے دل میں یہ خیال آ رہا ہو کہ عورتوں کے مکر کو آسانی سے شکست دی جا سکتی ہے، تو ضرور آزمائیے۔
پھر دیکھیے، آپ کے حصے میں دال آتی ہے یا کچھ اور ۔

Leave a Reply

NZ's Corner