ایک نئی آباد ہونے والی بستی میں مکان نمبر 15 عمر دین کا تھا،جس کے متعلق مشہور تھا کہ اس مکان میں جن بھوت رہتے ہیں۔اس محلے میں تیس مکانات تھے۔عمر دین نے مکان پر رنگ روغن کروا لیا تھا۔
اتوار کے دن ایک ٹرک میں سامان آیا۔نئے آنے والے کرائے دار کا نام ملک ہدایت اللہ تھا۔ملک صاحب نے دوسرے دن ایک گائے ذبح کرکے تمام گوشت پورے محلے میں تقسیم کر دیا۔
ملک صاحب بہت سخی انسان تھے۔غریبوں کو کھانا کھلانا،مصیبت میں ہر ایک کی مدد کرنا،ہر نیک کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ملک صاحب کی خوبی تھی۔ملک صاحب دولت مند آدمی تھے۔وہ اس غریب محلے میں صرف اس لئے کرائے پر آئے تھے کہ وہ غریبوں کے کام آسکیں۔چاہتے تو کسی اچھے علاقے میں بہترین مکان بھی خرید سکتے تھے۔
ایک ماہ بعد رات کے پچھلے پہر ملک صاحب کے مکان کی چھت پر عورتوں کے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔
پڑوس کے لوگ ڈر گئے۔ملک صاحب کے پاس ایک پستول اور ایک دونالی بندوق تھی،مگر ملک صاحب نے جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
ملک صاحب سوچ رہے تھے کہ صرف رات کو ہی بھوت مکان کی چھت پر آکر شور مچاتے ہیں،مکان کے اندر کمروں یا صحن میں کیوں گھومتے پھرتے نظر نہیں آتے۔صرف ڈرانے کے لئے رات کو ہی کیوں چھت پر آتے ہیں۔ایک ہفتہ مزید مکمل سکون سے گزر گیا،مگر ایک ہفتے کے بعد پھر چھت پر گھوڑے،گدھے کے دوڑنے اور عجیب و غریب ڈراؤنی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔
ایک ہفتہ مکمل خاموشی رہی۔ملک صاحب نے چھت پر دو تین ٹوٹی پھوٹی لوہے کی الماریاں رکھ کر الماریوں کے پیچھے تین کرسیاں بھی رکھ دیں۔چھت پر جب بھی بڑی بڑی لائٹس ملک صاحب لگواتے دوسرے دن ہی وہ ٹوٹ جاتیں اور چھت پر مکمل اندھیرا ہی رہتا۔ایک دن ملک صاحب عشاء کی نماز مسجد میں ادا کرنے کے بعد اپنے دو محافظوں کے ساتھ الماریوں کے پیچھے لگی ہوئی کرسیوں پر خاموشی سے بیٹھ جاتے۔
دائیں بائیں دونوں طرف محافظ اور درمیان میں ملک صاحب بندوق لے کر بیٹھ جاتے۔ملک صاحب نے محافظوں کو سمجھا دیا تھا کہ گولی نہ چلانا۔دو دن گزرنے کے بعد رات کے پچھلے پہر انھوں نے ایک سایہ چھت کی دیوار پر دیکھا۔ملک صاحب اور اُن کے ساتھی ہوشیار ہو گئے،مگر وہ چاہتے تھے کہ سایہ ذرا نزدیک آجائے۔ملک صاحب اور اُن کے ساتھیوں نے مکمل خاموشی اختیار کی،مگر اپنی اپنی پستول اپنے اپنے ہاتھوں میں مضبوطی سے سنبھال لیں۔
لوہے کی الماری کے پیچھے سوراخوں سے ملک صاحب اور اُن کے ساتھیوں نے مکمل جائزہ لیا۔سایہ چھت کے بالکل بیچ میں بیٹری سے چلنے والا ٹیپ ریکارڈ رکھ کر بجانے لگا۔پہلے آواز کم،پھر آہستہ آہستہ بلند کرتا گیا۔
ملک صاحب نے ایک ہوائی فائر کر دیا۔سایہ ڈر کر بھاگنے لگا تو ملک صاحب اور اُن کے ساتھیوں نے اسے پکڑ لیا۔وہ کسی جانور کی کھال پہنے ہوئے تھے اور سر پر مصنوعی سینگ لگا رکھے تھے۔
ملک صاحب نے خفیہ لائٹس روشن کیں تو دیکھا کہ وہ کوئی آدمی تھا۔
ملک صاحب نے اسے پکڑ لیا اور نیچے کمرے میں لے آئے۔وہ آدمی تھر تھر کانپ رہا تھا۔ملک صاحب نے کہا:”میں تم کو جان سے مار دوں گا۔مجھے اصل بات بتاؤ۔تم کون ہو اور کیا چاہتے ہو؟“
اس نے ہاتھ جوڑ لیے اور بولا:”میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔مجھے معاف کر دیں۔“
اس نے مزید کہا:”وہ عمر دین کا رشتے دار ہے اور کسی بات پر ان سے لڑائی چل رہی ہے۔
ہم یہ مکان اس سے کرائے پر لینا چاہتے ہیں،لیکن عمر دین کی ضد ہے کہ وہ ہمیں نہیں دیں گے۔لہٰذا ہم نے اُن کے کرائے دار بھگانے کا یہ طریقہ اختیار کیا تھا۔“
اس نے ملک صاحب سے درخواست کی کہ وہ اس بات کا تذکرہ کسی سے نہ کریں۔ہماری عزت کا خیال کریں،ورنہ ہم بہت بدنام ہو جائیں گے۔ملک صاحب نے کہا:”تم فکر نہ کرو۔میں کسی سے بھی اس بات کا ذکر نہیں کروں گا اور تمہارا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کروں گا۔
“
ملک صاحب نے اسے گھر جانے کی اجازت دے دی۔
دوسرے دن ملک صاحب نے عمر دین کو بلایا اور انھیں سمجھایا کہ رشتوں کا احترام کرنا چاہیے۔اتحاد میں بڑی برکت ہے۔آپ کے جو رشتے دار آپ سے یہ مکان کرائے پر لینا چاہتے ہیں،میری ضمانت پر آپ انھیں دے دیں۔اسی گلی میں ایک اور مکان خالی ہو رہا ہے،میں وہاں منتقل ہو جاؤں گا۔اپنے اس رشتے دار سے اختلاف ختم کر دیں۔
اسی میں اللہ برکت دے گا۔
دوسرے دن ملک صاحب نے دونوں خاندانوں کو اپنے گھر بلایا اور ان کی صلح کروا دی۔عمر دین کے رشتے دار ملک صاحب کے اس سلوک سے اتنے متاثر ہوئے کہ انھوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہو گی کہ آپ اسی گھر میں رہیں۔عمر دین سے صلاح ہو گئی ہے،یہی بات سب سے اچھی ہے۔
ملک صاحب نے بھوت والے قصے کا ذکر کبھی کسی سے نہیں کیا۔جو دوسروں کے عیب چھپاتا ہے اللہ بھی اس کے عیب چھپاتا ہے۔
