شیر نے اپنی پوری رفتار اور توانائی سے ہرن کا پیچھا کیا لیکن عین اس وقت جب وہ اس کی گردن دبوچنے والا تھا اچانک ایک ہاتھی دوڑتا ہوا شیر کے سامنے آ گیا رفتار کی کمی کا فائدہ اٹھا کر ہرن نظروں سے اوجھل اور شیر اپنا سا منہ لے کے رہ گیا لیکن شیر نے ہرن کی گردن پر ایک کالے رنگ کی لکیر کا نشان ذہن میں محفوظ کر لیا دوسری بار پیچھا کرتے ہوئے ایک جنگلی بھینسا سامنے آ گیا اور ہرن پھر اوجھل شیر کو بہت غصہ آیا اس نے سوچا اب کسی تدبیر سے اس ہرن کو اپنی خوراک بناؤں گا چنانچہ شیر نے اس سے دوستی کرنے کا سوچا اور اپنی مکاری سے کام لیتے ہوئے ایک روز ہرن کے پاس دوستانہ انداز میں پہنچ کر کہا، “میرے پیارے دوست! مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔ طاقتور ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ میں سب کو مارتا پھروں۔ آج سے ہم دوست ہیں، اور میں تمہاری حفاظت کروں گا۔”ہرن نے پہلے تو خوف سے دوری اختیار کی، لیکن شیر کے نرم لہجے اور وعدوں پر اعتبار کر لیا۔ یوں شیر اور ہرن کی دوستی ہو گئی۔ اب شیر ہرن کے ساتھ جنگل میں گھومتا، جس کی وجہ سے ہاتھی، بھینسا یا کوئی دوسرا شکاری جانور ہرن کو نقصان پہنچانے کی جرات نہ کرتا۔ ہرن اس دوستی پر بہت خوش تھا اور بے فکری سے گھاس چرتا تھا۔دھوکے کا انجام کچھ دن گزرنے کے بعد، شیر نے موقع پا کر ہرن کو ایک ویران جگہ پر بلا لیا جہاں آس پاس کوئی اور جانور موجود نہ تھا۔ ہرن بے فکری سے اپنی گردن جھکا کر پانی پی رہا تھا کہ اچانک شیر نے چھلانگ لگا دی اور اس کی گردن دبوچ لی۔ ہرن کو اپنی غلطی کا احساس ہوا، لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
کہانی کا خلاصہ اور سبق: اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دشمن کی فطرت کبھی نہیں بدلتی، اور وقتی دوستی کے پیچھے اکثر کوئی نہ کوئی لالچ چھپا ہوتا ہے۔ خطرے کو بھانپ لینا اور دشمن پر اندھا اعتماد نہ کرنا ہی عقلمندی ہے۔
