ایک زمانے میں ایک دریا تھا۔
نہ بہت چوڑا، نہ بہت تنگ۔
مگر اتنا ضرور تھا کہ جو تیرنا نہ جانتا ہو، اس کے لیے وہ فلسفے کی آخری منزل ثابت ہو سکتا تھا۔
اسی دریا کے کنارے ایک مینڈک رہتا تھا۔
وہ نرم دل، خوش مزاج اور دوسروں کی مدد کرنے میں یقین رکھنے والا جانور تھا۔
اس کا مسئلہ صرف ایک تھا:
وہ ہر کسی کی بات پر جلدی یقین کر لیتا تھا۔
ایک صبح وہ کنول کے پتے پر بیٹھا دھوپ سینک رہا تھا کہ ایک بچھو ہانپتا کانپتا اس کے پاس آیا۔
بچھو کی فریاد
“دوست مینڈک!”
مینڈک نے چونک کر دیکھا۔
“جی فرمائیے۔”
بچھو نے دریا کی طرف اشارہ کیا۔
“مجھے دوسری طرف جانا ہے۔”
“تو جاؤ۔”
“میں تیر نہیں سکتا۔”
“تو پھر؟”
“مجھے اپنی پیٹھ پر بٹھا کر پار کرا دو۔”
مینڈک نے فوراً دو قدم پیچھے ہٹائے۔
“معاف کرنا، مگر تم بچھو ہو۔”
“تو؟”
“تم مجھے ڈنگ مار دو گے۔”
بچھو نے ایسا چہرہ بنایا جیسے اس کی شدید توہین ہو گئی ہو۔
“ارے دوست! تھوڑا سا حساب تو کرو!”
“کیا مطلب؟”
“اگر میں تمہیں ڈنگ مار دوں تو تم مر جاؤ گے۔”
“جی۔”
“اور تم مر گئے تو میں دریا میں گر جاؤں گا۔”
“صحیح۔”
“اور میں تیرنا نہیں جانتا۔”
“یہ بھی صحیح۔”
“تو پھر میں خودکشی کیوں کروں گا؟”
مینڈک نے سر کھجایا۔
بات تو واقعی معقول لگ رہی تھی۔
عقلمند بچھو
بچھو نے مزید دلیل دی:
“لوگ ہمیں بدنام کرتے ہیں۔”
“اچھا؟”
“ہاں! ہر جگہ کہتے پھرتے ہیں کہ بچھو ڈنگ مارتا ہے۔”
“تو کیا تم نہیں مارتے؟”
بچھو نے کھنکار کر جواب دیا:
“اصولاً مارتا ہوں، مگر ہر وقت نہیں۔”
پھر اس نے سینہ پھلا کر کہا:
“میں ایک جدید اور تعلیم یافتہ بچھو ہوں۔”
مینڈک متاثر ہو گیا۔
اس نے سوچا:
“شاید میں واقعی تعصب کا شکار ہوں۔”
چنانچہ اس نے بچھو کو اپنی پیٹھ پر بٹھا لیا۔
دریا کے وسط میں
سفر بخیریت جاری تھا۔
دریا کا پانی ہلکے ہلکے بہہ رہا تھا۔
مینڈک خوش تھا کہ اس نے ایک ضرورت مند کی مدد کی۔
بچھو بھی خاموش بیٹھا تھا۔
مگر جیسے ہی وہ دریا کے عین درمیان پہنچے، بچھو کے دم میں ہلکی سی جنبش پیدا ہوئی۔
اس نے ایک لمحہ سوچا۔
پھر دوسرا۔
پھر اچانک…
ٹھک!
اس نے مینڈک کو ڈنگ مار دیا۔
ڈوبتی ہوئی گفتگو
مینڈک کے جسم میں زہر دوڑ گیا۔
اس کے ہاتھ پاؤں کمزور ہونے لگے۔
وہ حیرت اور غصے سے چیخا:
“تم نے… یہ کیا کیا؟”
بچھو نے گردن جھکا لی۔
“غلطی ہو گئی۔”
“غلطی؟”
“ہاں۔”
“تم نے وعدہ کیا تھا!”
“کیا کروں؟”
“اب ہم دونوں ڈوب جائیں گے!”
بچھو نے آہ بھری۔
“میں نے حساب غلط لگا لیا۔”
مینڈک حیران رہ گیا۔
“کیا؟”
بچھو بولا:
“میں نے سوچا تھا دریا بہت چھوٹا ہے۔”
“پھر؟”
“میں نے اندازہ لگایا کہ اگر بیچ میں تمہیں ڈنگ بھی مار دوں تو شاید کنارے تک پہنچ جاؤں گا۔”
“اور؟”
“اور اب معلوم ہو رہا ہے کہ میری ریاضی میری فطرت سے بھی کمزور تھی۔”
آخری بحث
دونوں اب پانی میں ڈوبنے لگے تھے۔
مینڈک نے افسوس سے کہا:
“تمہاری بے وقوفی تمہیں ڈبو رہی ہے۔”
بچھو نے جواب دیا:
“اور تمہاری نیکی تمہیں۔”
“میں نے بھلائی کی تھی!”
“اور میں نے حساب لگایا تھا۔”
“غلط حساب!”
“ہاں، مگر اب اسے درست کرنے کا وقت نہیں۔”
مینڈک نے آخری بار آسمان کی طرف دیکھا اور بولا:
“عجیب دنیا ہے!”
“کیوں؟”
“کچھ لوگ دوسروں کو نقصان پہنچا کر خود بھی تباہ ہو جاتے ہیں۔”
بچھو نے سر ہلایا۔
“اور کچھ لوگ ان پر یقین کر کے۔”
یہ کہہ کر دونوں پانی کی گہرائیوں میں غائب ہو گئے۔
دریا اپنی روانی سے بہتا رہا، گویا کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
سبق
بعض لوگ برائی اس لیے نہیں کرتے کہ انہیں فائدہ ہوگا، بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اپنی فطرت، عادت یا غلط اندازے کے قیدی ہوتے ہیں۔
اور بعض لوگ نقصان اس لیے اٹھاتے ہیں کہ وہ بار بار یہ یقین کر لیتے ہیں کہ اس بار شاید سب کچھ مختلف ہوگا۔
اس حکایت کا مزاحیہ مگر تلخ نکتہ یہ ہے:
“بچھو صرف بد نیت نہیں تھا، وہ بد حساب بھی تھا!”
اور دریا کے کنارے بسنے والے دانا مینڈکوں کا قول ہے:
“جس آدمی کی فطرت بھی خراب ہو اور حساب بھی کمزور، اس سے فاصلہ رکھنا ہی دانش مندی ہے۔”
