کالج میں ایک طالب علم نے انگریزی کے پروفیسر سے پوچھا: “سر! یہ ‘نٹورے’ کا کیا مطلب ہے؟”
“نٹورے؟؟” پروفیسر نے حیرت سے پوچھا اور پھر اسے ٹالتے ہوئے کہا، “ٹھیک ہے، میں تمہیں بعد میں بتاتا ہوں، میرے آفس آ جانا۔”
طالب علم وہاں بھی پہنچ گیا اور بولا: “بتائیے سر، ‘نٹورے’ کا کیا مطلب ہے؟”
پروفیسر نے جان چھڑاتے ہوئے کہا: “میں تمہیں کل بتاتا ہوں۔”
پروفیسر صاحب رات بھر پریشان رہے۔ انہوں نے ڈکشنری کھنگالی، انٹرنیٹ پر تلاش کیا، لیکن ایسا کوئی لفظ نہ ملا۔
اگلے دن طالب علم نے پھر وہی رٹ لگا دی: “سر! وہ ‘نٹورے’ کا مطلب…؟”
اب پروفیسر صاحب اس سے کترانے لگے اور اسے دیکھتے ہی راستہ بدل لیتے۔ لیکن طالب علم ان کا پیچھا چھوڑنے کو تیار ہی نہیں تھا۔
بالآخر ایک دن پروفیسر صاحب نے جھنجھلا کر پوچھا: “یہ جس ‘نٹورے’ لفظ کے بارے میں تم پوچھ رہے ہو، یہ آخر کون سی زبان کا لفظ ہے؟”
طالب علم نے معصومیت سے جواب دیا: “انگلش کا!”
پروفیسر نے کہا: “ذرا اس کے اسپیلنگ تو بتاؤ۔”
طالب علم نے کہا: N-A-T-U-R-E
یہ سنتے ہی پروفیسر صاحب کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور وہ غصے سے چلائے: “احمق انسان 🤬! ہفتے بھر سے تو نے میری جان عذاب میں ڈال رکھی ہے۔ اس ٹینشن میں، میں بھوکا پیاسا رہا، راتوں کو جاگتا رہا، اور تو ‘نیچر’ کو ‘نٹورے، نٹورے’ بول کر مجھے پریشان کر رہا ہے؟ ٹھہر، میں تجھے ابھی کالج سے نکلواتا ہوں!”
یہ سن کر طالب علم گڑگڑاتے ہوئے بولا: “نہیں سر! میں آپ کے پاؤں پڑتا ہوں۔ اب میں دوبارہ ایسا کچھ نہیں پوچھوں گا۔ پلیز مجھے کالج سے نہ نکالیں، ورنہ میرا ‘فٹورے’ برباد ہو جائے گا…”
(F-U-T-U-R-E) 😅
