قابیل اور ہابیل کے درمیان کشمکش اور ناراضی کا سبب بننے والی لڑکی کا کیا بنا؟

قابیل اور ہابیل کے درمیان کشمکش اور ناراضی کا سبب بننے والی لڑکی کا کیا بنا؟


کائنات ابھی اپنے لڑکپن میں تھی اور زمین اپنی پہلی صبح کے ماتھے پر ابھرنے والے نور سے وضو کر رہی تھی۔ افق پر پھیلی ہوئی سرخی کسی گہرے، ان چھوئے راز کی طرح پرسرار تھی اور ہواؤں میں ایک عجیب سی خاموشی رقصاں تھی، جیسے وہ کسی ایسے طوفان کی آمد کا پتہ دے رہی ہوں جس نے انسانی تاریخ کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دینا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب شہر، سلطنتیں، قوانین اور روایات ابھی پیدا نہیں ہوئی تھیں۔ کائنات کا واحد دارالخلافہ وہ کچی، بے نام زمین تھی جہاں سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا سلام اللہ علیہا کی پہلی نسل اپنے قدم جما رہی تھی۔ مٹی کی سوندھی خوشبو، درختوں کے پتے، اور جانوروں کی آوازیں ہی کائنات کا کل سرمایہ تھیں۔ اس پرسکون، سحر انگیز اور پرجلال ماحول میں، جہاں خدا کی رحمتیں بارش کی طرح برستی تھیں، ایک ایسی چنگاری سلگنے والی تھی جس نے زمین کے دامن کو پہلی بار معصوم خون سے رنگنا تھا، اور اس چنگاری کے مرکز میں ایک ایسی ہستی موجود تھی جس کا نام تاریخ کے صفحات میں ایک خاموش، پراسرار اور مظلوم کردار کے طور پر درج ہو گیا۔
اس ابتدائی دور کے سماجی اور معاشی حالات آج کی دنیا سے یکسر مختلف تھے، مگر انسانی جبلتیں وہی تھیں جو آج ہمارے اندر موجود ہیں۔ اس وقت کوئی سیاسی نظام یا حکومتی ڈھانچہ موجود نہیں تھا؛ سیدنا آدم علیہ السلام ہی اس چھوٹی سی انسانی بستی کے نبی، حاکم، استاد اور والد تھے۔ معیشت کا انحصار براہِ راست فطرت پر تھا۔ ہابیل، جو اپنے مزاج میں نرمی، عاجزی اور خشیتِ الٰہی کا پیکر تھے، گلہ بانی کرتے تھے؛ وہ بھیڑوں اور مویشیوں کو ہانکتے، ان کی دیکھ بھال کرتے اور قدرت کے اس نظام میں سکون پاتے۔ دوسری طرف، قابیل، جس کے مزاج میں تیزی، تندخوئی اور انا پسندی کا غلبہ تھا، زمین کا سینہ چاک کر کے کھیتی باڑی کرتا تھا۔ یہ صرف دو مختلف پیشے نہیں تھے، بلکہ دو مختلف انسانی نفسیات کا عکس تھے۔ اس دور کا مذہبی قانون یہ تھا کہ سیدہ حوا کے ہر حمل سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوتے تھے، اور نسلِ انسانی کو آگے بڑھانے کے لیے یہ الٰہی ضابطہ طے پایا تھا کہ ایک حمل سے پیدا ہونے والے لڑکے کا نکاح دوسرے حمل سے پیدا ہونے والی لڑکی سے کیا جائے گا، کیونکہ سگے بھائی بہن کا آپس میں نکاح فطری اور شرعی طور پر ممنوع تھا۔
اس پورے مہیب اور لرزہ خیز ڈرامے کا نقطۂ آغاز وہ لڑکی تھی جو قابیل کے ساتھ ایک ہی بطن سے پیدا ہوئی تھی۔ تاریخی، تفسیری اور روایتی مصادر، جیسے کہ ابن کثیر کی ‘البدایہ والنہایہ’ اور تاریخِ طبری، میں اس لڑکی کا نام ‘اقلیما’ (یا اقلیمیا) بیان کیا گیا ہے، جبکہ ہابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن کا نام ‘لیوزا’ تھا۔ اقلیما حسن و جمال میں بے مثال تھی، اس کا چہرہ اس ابتدائی دنیا کے سب سے خوبصورت مظاہر میں سے ایک تھا، جبکہ لیوزا ظاہری حسن میں اس کے مقابلے میں کم تر تھی۔ الٰہی قانون اور سیدنا آدم علیہ السلام کے فیصلے کے مطابق، اقلیما کا نکاح ہابیل سے ہونا تھا اور لیوزا کا نکاح قابیل سے۔ یہیں سے حسد، انا اور سرکشی کا وہ تاریک سفر شروع ہوا جس نے انسانیت کو شرمساار کر دیا۔ قابیل نے اپنے باپ کے فیصلے اور خدا کے قانون کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کا اصرار تھا کہ چونکہ اقلیما اس کی جڑواں بہن ہے اور وہ زیادہ خوبصورت ہے، اس لیے اس پر پہلا حق اسی کا ہے۔ اس کا یہ جملہ، جو تاریخ کی کتابوں میں گونجتا ہے، اس کی اندرونی خباثت کا عکاس تھا: “میں اس کا زیادہ حقدار ہوں، یہ میری بہن ہے جو میرے ساتھ پیدا ہوئی، اور وہ اس (ہابیل) کی بہن سے زیادہ خوبصورت ہے۔”
یہ محض ایک لڑکی کے حصول کی جنگ نہیں تھی، بلکہ یہ انسانی دل کے اندر ابھرنے والے پہلے کبر، پہلی نافرمانی اور اللہ کی تقسیم پر عدمِ اطمینان کا مظاہرہ تھا۔ سیدنا آدم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی، اسے خدا کے غضب سے ڈرایا، لیکن قابیل کے دل پر حسد کی چادر اتنی گہری ہو چکی تھی کہ اسے حق کی کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ اس تعطل کو دور کرنے کے لیے سیدنا آدم علیہ السلام نے عدلِ الٰہی پر مبنی ایک تجویز پیش کی: “تم دونوں خدا کی بارگاہ میں اپنی اپنی قربانی پیش کرو، جس کی قربانی قبول ہو جائے گی، اقلیما اسی کے عقد میں جائے گی۔” یہ اس دور کا ایک معجزاتی اور فیصلہ کن طریقہ تھا جہاں مخلص دلوں کی قربانی کو آسمان سے اترنے والی ایک غیبی آگ کھا لیا کرتی تھی، جو اس کے قبول ہونے کی کھلی نشانی تھی۔
منظر بدلتا ہے اور تجسس اپنی انتہا کو چھو رہا ہے۔ ہابیل، جو تقویٰ اور اخلاص کا مجسمہ تھے، اپنے گلے سے سب سے بہترین، فربہ اور صحت مند دنبہ لے کر پہاڑ کی چوٹی پر آئے۔ ان کا دل خدا کی محبت اور شکر گزاری سے لبریز تھا۔ اس کے برعکس، قابیل اپنے کھیت کا سب سے ردی، خراب اور ناپسندیدہ غلہ لے کر آیا، اس کے دل میں خلوص کا دور دور تک نام نہ تھا، صرف دنیاوی لالچ اور ہابیل کو ہرانے کی دھن تھی۔ دونوں بھائی پہاڑ پر کھڑے آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ہوا تھم گئی، پرندوں نے چہچہانا بند کر دیا، اور پھر آسمان کا سینہ چاک ہوا؛ ایک چمکدار، نورانی آگ اتری اور اس نے ہابیل کے دنبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جبکہ قابیل کا غلہ جوں کا توں پڑا رہا۔ قرآن مجید سورہ المائدہ میں اس لمحے کی گواہی ان الفاظ میں دیتا ہے: “پس ان میں سے ایک کی قربانی قبول کر لی گئی اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی۔”
یہ وہ لمحہ تھا جہاں قابیل کی انا ریزہ ریزہ ہو گئی۔ شکست کے اس زخم اور حسد کی آگ نے اسے دیوانہ کر دیا۔ اس نے ہابیل کی طرف دیکھا، جس کا چہرہ نورِ قبولیت سے چمک رہا تھا، اور غیظ و غضب سے کانپتی ہوئی آواز میں کہا: “میں تجھے ضرور قتل کر دوں گا!” ہابیل نے بڑے صبرو استقامت اور نرمی سے جواب دیا، جو رہتی دنیا تک کے لیے مومن کا شیوہ بن گیا: “اللہ تو صرف تقویٰ والوں ہی سے قبول کرتا ہے۔ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھائے گا، تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا، بے شک میں کائنات کے رب، اللہ سے ڈرتا ہوں۔” لیکن قابیل پر شیطان سوار ہو چکا تھا، جو ابلیس کی اسی سرکشی کی یاد دلا رہا تھا جس کی وجہ سے وہ جنت سے نکالا گیا تھا۔ ایک دن، جب ہابیل پہاڑ کے دامن میں سو رہے تھے، قابیل نے ایک بھاری پتھر اٹھایا اور اپنے سگے بھائی کے سر پر دے مارا۔ وہ سر جس میں خدا کی خشیت تھی، زمین پر گر پڑا، اور معصوم خون نے پہلی بار مٹی کو سیراب کیا۔
اس ہولناک جرم کے بعد قابیل پر اکیلاپن، خوف اور پچھتاوے کا ایسا پہاڑ ٹوٹا جس کا کوئی علاج نہ تھا۔ وہ بھائی کی لاش کو پیٹھ پر لادے دن رات مارا مارا پھرتا رہا، اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ اس جسم کا کیا کرے۔ تب خدا نے ایک کوے کو بھیجا جس نے زمین کھود کر دوسرے مردہ کوے کو دفن کر کے قابیل کو راستہ دکھایا۔ قابیل نے روتے ہوئے کہا: “افسوس مجھ پر! کیا میں اس کوے جیسا بھی نہ ہو سکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا؟” اور وہ پشیمان ہونے والوں میں سے ہو گیا۔
لیکن اس سب کے بعد، اس کہانی کا وہ پوشیدہ اور خاموش کردار، یعنی وہ لڑکی ‘اقلیما’ جس کے حسن کو بنیاد بنا کر قابیل نے یہ سارا کھیل رچایا، اس کا کیا بنا؟ وہ کہاں گئی اور اس کی زندگی کا اختتام کیسے ہوا؟ یہ وہ سوال ہے جو ادبی اور تاریخی طور پر گہرا تجسس پیدا کرتا ہے۔
مستند اسلامی تاریخ، تفسیری روایات اور قصص الانبیاء کی کتب کے مطابق، ہابیل کے قتل کے بعد کائنات کا نقشہ بدل گیا۔ سیدنا آدم علیہ السلام کو جب اپنے چہیتے اور فرمانبردار بیٹے کی شہادت کی خبر ملی، تو ان کا دل غم سے پھٹ گیا اور انہوں نے قابیل پر لعنت بھیجی اور اسے اپنی بستی سے نکال دیا۔ قابیل، جو اب زمین پر پہلا قاتل اور باغی بن چکا تھا، خدا کی رحمت اور باپ کی شفقت سے محروم ہو کر عدن (یمن کے علاقے) کی طرف فرار ہو گیا۔ وہ اکیلا نہیں گیا تھا۔ روایات بتاتی ہیں کہ اقلیما، جو اپنے بھائی قابیل کی اس وحشت ناک سرکشی اور ہابیل کے قتل پر شدید صدمے اور خوف کی حالت میں تھی، قابیل کے ساتھ جانے پر مجبور ہو گئی یا قابیل اسے زبردستی اپنے ساتھ بھگا لے گیا۔ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ اس کے ساتھ ایک ہی بطن سے پیدا ہوئی تھی اور قابیل اسے اپنی ملکیت سمجھتا تھا، اس لیے وہ اسے اس نئی، وحشیانہ دنیا کا حصہ بنانے کے لیے اپنے ساتھ لے گیا جہاں اب باپ کا سایہ اور خدا کی شریعت کا احترام باقی نہیں رہا تھا۔
یمن کی وادیوں میں پہنچ کر قابیل اور اقلیما نے ایک نئی بستی بسائی۔ یہ بستی زمین پر برائی، شرک اور گناہ کا پہلا گڑھ بنی۔ ابلیس، جو سیدنا آدم کی نسل کو تباہ کرنے کی قسم کھا چکا تھا، قابیل کے پاس آیا اور اسے ورغلایا کہ ہابیل کی قربانی اس لیے قبول ہوئی تھی کہ وہ آگ کی پوجا کرتا تھا، لہٰذا تمہیں بھی آگ کی پوجا کرنی چاہیے۔ یوں قابیل زمین پر پہلا آتش پرست (آگ کی پوجا کرنے والا) بن گیا۔ اقلیما، جو ایک نبی کے گھرانے کی تربیت یافتہ تھی، اب ایک ایسے ماحول میں قید تھی جہاں خدا کا نام لینے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ اس شخص کی شریکِ حیات بننے پر مجبور ہوئی جس کے ہاتھ اس کے دوسرے بھائی کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔ ان دونوں سے آگے نسل چلی، اور ان کی اولادیں زمین پر فساد، ناچ گانے، اور آلاتِ موسیقی کی ایجاد (جو ابلیس نے انہیں سکھائے) میں مصروف ہو گئیں۔
اقلیما کا انجام ایک خاموش المیہ ہے۔ وہ لڑکی جو کبھی تقدس، پاکیزگی اور حسن کا استعارہ تھی، حسد اور سرکشی کی جنگ میں ایک غنیمت کا مال بن کر رہ گئی۔ اس نے اپنی باقی زندگی اسی گناہ آلود ماحول میں گزاری، جہاں اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی اولادیں خدا سے دور ہوتی چلی گئیں۔ ابن کثیر اور دیگر محققین کے مطابق، قابیل کی نسل بعد میں حضرت نوح علیہ السلام کے دور میں آنے والے ہولناک طوفانِ نوح میں مکمل طور پر غرق ہو کر نام و نشان سے محروم ہو گئی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صرف حضرت نوح اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو بچایا، جو کہ سیدنا آدم کے دوسرے بیٹے حضرت شیث علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ یوں اقلیما اور قابیل کی نسل کا زمین پر کوئی نام لیوا باقی نہ رہا۔
یہ واقعہ امتِ مسلمہ اور آنے والی تمام نسلوں کے لیے ایمان، صبر، عدل، اخلاص اور توکل کا ایک عظیم الشان مدرسہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیثِ مبارکہ میں ارشاد فرمایا: “روئے زمین پر جو بھی شخص ظلماً قتل کیا جاتا ہے، اس کے خون کا ایک حصہ آدم کے پہلے بیٹے (قابیل) کے سر پر جاتا ہے، کیونکہ اس نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا۔” یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ برائی کی ابتدا کرنے والا قیامت تک اس کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ اس واقعے نے یہ واضح کر دیا کہ اخلاص کے بغیر کوئی عمل، کوئی قربانی قبول نہیں ہوتی، چاہے وہ بظاہر کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔ ہابیل نے ہمیں سکھایا کہ جب جان پر بن آئے، تب بھی تقویٰ اور عدل کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے اور توکل کی لاٹھی تھامے رکھنی چاہیے۔
دوسری طرف، اقلیما کی داستان ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان کا ظاہری حسن اور دنیاوی کشش بعض اوقات اس کے لیے اور اس کے ارد گرد کے لوگوں کے لیے آزمائش بن جاتی ہے اگر اسے خدا کے احکامات کے تابع نہ کیا جائے۔ وہ لڑکی جو اس کائنات کے پہلے قتل کا سبب (بظاہر) بنی، خود اس جرم کی سب سے بڑی مظلوم تھی، جس نے ایک قاتل کے سائے میں سسک سسک کر زندگی گزار دی۔ تاریخ کا یہ پہلا خونی باب ہمیں پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ حسد وہ آگ ہے جو سب سے پہلے انسان کے اپنے ایمان اور سکون کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے، اور جب یہ آگ بھڑکتی ہے، تو معصوم بھائیوں کے سر کچل دیے جاتے ہیں اور خوبصورت بہنوں کا مقدر ویران وادیاں اور گمنام موت بن جاتا ہے۔ زمین کا وہ پہلا خون آج بھی انسان کی جبلت میں چھپے ہوئے شر کی گواہی دے رہا ہے، اور ہابیل کی خاموش قربانی رہتی دنیا تک کے مخلصین کے لیے ایک روشن مینار ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner