قبطی کا قتل اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ہجرت

قبطی کا قتل اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ہجرت

حضرت موسیٰ علیہ السلام بچپن ہی سے فرعون کے محل میں پرورش پاتے رہے، لیکن جب آپ جوان ہوئے تو فرعون اور اس کی قوم قبطیوں کے ظلم و ستم کو دیکھ کر بے چین ہو گئے اور ان کے خلاف آواز بلند کرنے لگے۔ اس وجہ سے فرعون اور اس کی قوم، جو قبطی کہلاتی تھی، آپ کے دشمن بن گئے اور آپ نے فرعون کا محل بلکہ پورا شہر چھوڑ کر اطراف میں چھپ کر زندگی گزارنا شروع کر دی۔

ایک دن جب شہر کے لوگ دوپہر کے وقت آرام (قیلولہ) کر رہے تھے تو آپ خاموشی سے شہر میں داخل ہوئے۔ اس شہر کا نام “منف” تھا جو مصر کی حدود میں واقع تھا، اور “منف” دراصل “مافہ” تھا جو عربی میں بدل کر “منف” بن گیا۔ بعض مفسرین کے مطابق یہ فسطاط تھا اور بعض نے اسے حامین بتایا ہے جو مصر سے تقریباً دو کوس کے فاصلے پر واقع ہے۔
(صاوی، ج 3، ص 176)

جب آپ شہر میں پہنچے تو دیکھا کہ ایک شخص آپ کی قوم بنی اسرائیل سے تھا اور دوسرا فرعون کی قوم قبطیوں میں سے تھا، اور دونوں آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مدد کی فریاد کی۔ اس پر آپ نے قبطی کو ایک گھونسہ مارا جس سے وہ جان کی بازی ہار گیا۔ اس واقعے پر آپ بہت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنے لگے۔

فرعون کی قوم کے لوگوں نے فرعون کو خبر دی کہ ایک اسرائیلی نے ہمارے ایک قبطی کو قتل کر دیا ہے۔ اس پر فرعون نے قاتل اور گواہوں کی تلاش کا حکم دیا۔ فرعونی ہر طرف تلاش کرتے رہے مگر کوئی سراغ نہ ملا۔ رات بھر حضرت موسیٰ علیہ السلام اس فکر میں رہے کہ اس واقعے کا انجام کیا ہوگا اور قوم کیا ردعمل دے گی۔

اگلے دن پھر ایسا ہوا کہ وہی اسرائیلی جس نے پہلے مدد مانگی تھی، ایک اور فرعونی سے جھگڑ رہا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے ڈانٹا کہ تم ہر روز جھگڑا کرتے ہو اور دوسروں کو مشکل میں ڈالتے ہو۔ لیکن پھر آپ کو اس پر رحم آیا اور آپ نے چاہا کہ اسے فرعونی کے ظلم سے بچائیں۔ اس پر اسرائیلی نے کہا:

“اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جیسے تم نے کل ایک شخص کو قتل کیا تھا؟ کیا تم زمین میں ظالم بننا چاہتے ہو اور اصلاح کرنے والوں میں شامل نہیں رہنا چاہتے؟”

اسی دوران شہر کے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور خبر دی کہ فرعون کے درباری آپ کے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں، لہٰذا آپ فوراً شہر چھوڑ دیں، میں آپ کا خیر خواہ ہوں۔ یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام خوف کے عالم میں شہر سے نکل گئے اور دعا کی:

“اے میرے رب! مجھے ظالموں سے نجات عطا فرما۔”

اس دعا کے بعد آپ ہجرت کر کے مدین پہنچے جہاں حضرت شعیب علیہ السلام نے آپ کو پناہ دی اور بعد میں اپنی صاحبزادی بی بی صفوراء سے آپ کا نکاح بھی کر دیا۔
(قرآنِ مجید، سورۂ قصص، رکوع 2)

جس شخص نے شہر کے کنارے سے دوڑ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خبر دی تھی اور ہجرت کا مشورہ دیا تھا، وہ فرعون کے خاندان کا ایک فرد تھا جو آپ پر ایمان لا چکا تھا۔ اس کا نام حزقیل، شمعون یا سمعان بتایا جاتا ہے۔
(صاوی، ج 3، ص 177)

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں

Leave a Reply

NZ's Corner