کسی گاؤں میں ایک بوڑھا شخص اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ دونوں بہت سادہ اور نیک دل تھے۔ ان کے پاس موتی نام کا ایک وفادار کتا تھا، جس سے وہ دونوں بہت محبت کرتے تھے۔ موتی بھی اپنے مالکوں کا بے حد وفادار تھا۔
ایک دن بوڑھا شخص اپنے کھیت میں کام کر رہا تھا کہ اچانک موتی اسے کھینچ کر ایک جگہ لے گیا۔ وہ زور زور سے بھونکنے لگا اور اپنے پنجوں سے زمین کریدنے لگا۔
بوڑھے نے اسے کئی بار وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی، لیکن موتی بار بار اسی جگہ واپس آ جاتا اور زمین کریدنے لگتا۔ آخرکار بوڑھے نے سوچا کہ شاید اس جگہ کوئی خاص چیز موجود ہے۔ اس نے پھاوڑا اٹھایا اور زمین کھودنا شروع کر دی۔
کچھ ہی دیر بعد پھاوڑا کسی سخت چیز سے ٹکرایا۔ بوڑھے نے مٹی ہٹائی تو وہاں سے ایک پرانا گھڑا نکلا، جس میں ہیرے، موتی اور قیمتی جواہرات بھرے ہوئے تھے۔
بوڑھا یہ خزانہ دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ وہ خزانہ اپنے گھر لے آیا اور اپنی بیوی کو سارا واقعہ سنایا۔ دونوں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔
بوڑھے کا ایک پڑوسی بھی تھا جس کا نام نادر تھا۔ وہ بہت لالچی اور حاسد شخص تھا۔ اس نے بوڑھے کو خزانہ لے جاتے ہوئے دیکھا تو فوراً پوچھا:
“بھائی! آج تمہیں کیا مل گیا ہے؟”
بوڑھا سیدھا سادہ آدمی تھا۔ اس نے نادر کو خزانہ ملنے کا پورا واقعہ سنا دیا۔
خزانے کا سن کر نادر کے دل میں لالچ پیدا ہوگیا۔ اسے رات بھر نیند نہ آئی۔ اگلے دن وہ میٹھی میٹھی باتیں کرکے بوڑھے سے موتی کو ایک دن کے لیے مانگ کر اپنے ساتھ لے گیا۔
نادر موتی کو اپنے کھیت میں لے گیا اور اسے بار بار ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا کر کہنے لگا:
“مجھے بھی وہ جگہ بتاؤ جہاں خزانہ چھپا ہوا ہے!”
آخر موتی ایک جگہ رک گیا اور اپنے پنجوں سے زمین کریدنے لگا۔ نادر خوشی سے پھولے نہ سمایا۔ اس نے فوراً پھاوڑا اٹھایا اور زمین کھود ڈالی۔
لیکن وہاں ہیرے موتیوں کے بجائے کوڑا کرکٹ، گندگی اور بدبو دار کچرا نکلا۔
نادر غصے سے پاگل ہوگیا۔ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور غصے میں موتی کو مار کر وہاں سے پھینک دیا۔
جب بوڑھے کو اس بات کا علم ہوا تو وہ بہت غمگین ہوا۔ اس نے موتی کو دفن کیا اور اس جگہ ایک چھوٹا سا پودا لگا دیا۔
حیرت کی بات یہ تھی کہ صرف دو دن میں وہ پودا ایک بڑا اور خوبصورت درخت بن گیا۔
بوڑھے نے اس درخت کی لکڑی سے ایک خوبصورت اوکھلی بنائی۔ نئے سال کے پکوان تیار کرنے کے لیے جب وہ اس اوکھلی میں دھان کوٹنے لگا تو ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔
اوکھلی میں موجود دھان اچانک سونے اور چاندی کے سکوں میں تبدیل ہونے لگا۔
بوڑھا بہت خوش ہوا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔
کچھ ہی دنوں بعد نادر کو بھی اس بات کا پتا چل گیا۔ وہ میٹھی باتیں کرکے اوکھلی ادھار مانگ کر اپنے گھر لے گیا۔ لیکن جب اس نے اوکھلی میں دھان کوٹا تو دھان سونے اور چاندی کے بجائے گندگی اور کوڑے میں تبدیل ہوگیا۔
نادر غصے سے آگ بگولا ہوگیا۔ اس نے اوکھلی کو آگ میں ڈال کر جلا دیا۔
بوڑھے کو جب یہ معلوم ہوا تو اسے بہت دکھ ہوا۔ اس نے جلی ہوئی اوکھلی کی راکھ اکٹھی کی اور اپنے آنگن میں پھیلا دی۔
حیرت انگیز طور پر جہاں جہاں راکھ گری، وہاں سوکھی گھاس ہری ہوگئی اور سوکھے ہوئے درختوں کی شاخیں خوبصورت پھولوں سے لد گئیں۔
اسی وقت وہاں سے بادشاہ کی سواری گزر رہی تھی۔ بادشاہ نے پھولوں سے لدے درخت دیکھے تو بہت خوش ہوا۔ اس نے بوڑھے کو اپنے پاس بلایا اور انعام کے طور پر اسے اشرفیوں سے بھری ایک تھیلی عطا کی۔
نادر نے یہ منظر بھی دیکھ لیا۔ حسد اور لالچ نے اسے ایک بار پھر اندھا کر دیا۔ اس نے بچی ہوئی راکھ اٹھائی اور بادشاہ کے راستے میں جا کر ایک سوکھے ہوئے درخت پر ڈال دی۔
لیکن اس بار کوئی درخت پھولوں سے نہ لدا۔ بلکہ ہوا کا ایک جھونکا آیا اور راکھ اڑ کر بادشاہ کی آنکھوں میں جا پڑی۔
بادشاہ کو بہت تکلیف ہوئی۔ سپاہیوں نے فوراً نادر کو پکڑ لیا اور اسے گرفتار کرکے بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا۔
نادر کو اپنی لالچ اور حسد کا انجام سمجھ آ گیا، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
سبق:
لالچ اور حسد انسان کو دوسروں کا نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ خود بھی ذلت اور نقصان کی طرف لے جاتے ہیں، جبکہ نیکی، وفاداری اور صبر کا انجام ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔

