تین گہرے دوست ایک لمبے سفر پر نکلے۔ راستے میں، ایک ویران جنگل سے گزرتے ہوئے، ان کی نظر زمین میں دبی ایک چمکتی چیز پر پڑی۔ کھود کر دیکھا تو وہ خالص سونے کی ایک بھاری اینٹ تھی۔ تینوں کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اسے برابر برابر تقسیم کریں گے، مگر رات ہو چکی تھی، سو وہیں جنگل میں پڑاؤ ڈالنے کا فیصلہ ہوا۔ بھوک لگی تو طے پایا کہ ایک دوست گاؤں جا کر کھانا لے آئے، جبکہ باقی دو سونے کی اینٹ کی نگرانی کریں۔
جو دوست کھانا لینے گیا، راستے میں اس کے دل میں لالچ نے سر اٹھایا: “اگر میں کھانے میں زہر ملا دوں اور واپس جا کر دونوں کو کھلا دوں، تو یہ سونا صرف میرا ہو جائے گا۔” اس نے یہی کیا اور کھانے میں زہر ملا کر واپس چل پڑا۔ دوسری طرف، جنگل میں رکے ہوئے دونوں دوستوں کے دلوں میں بھی لالچ جاگ اٹھا۔ ان دونوں نے آپس میں سرگوشی کی: “اگر ہم اس تیسرے دوست کو واپس آتے ہی مار دیں، تو سونا صرف ہم دونوں میں تقسیم ہوگا، تین کی بجائے دو حصے، ہر ایک کا حصہ اور بھی بڑھ جائے گا۔”
جیسے ہی تیسرا دوست کھانا لے کر پہنچا، دونوں نے مل کر اس پر حملہ کر دیا اور اسے قتل کر ڈالا۔ خوشی خوشی وہ زہر آلود کھانا کھانے بیٹھ گئے تاکہ طاقت پکڑ کر سونا لے کر روانہ ہوں — مگر کچھ ہی دیر میں دونوں تڑپ تڑپ کر مر گئے۔ صبح جب کچھ راہگیر اس راستے سے گزرے تو انہوں نے تینوں دوستوں کی لاشیں سونے کی اینٹ کے پاس پڑی دیکھیں۔ سونا وہیں کا وہیں، بےصاحب، جنگل میں دبا رہ گیا۔
اخلاقی سبق:لالچ انسان کی عقل اور رشتوں دونوں کو نگل جاتا ہے۔ جو دولت کے حصول میں اپنے قریبی ترین ساتھیوں کو بھی دشمن سمجھنے لگے، وہ آخرکار خود اپنے ہی جال میں پھنس کر تباہ ہو جاتا ہے۔ دولت کبھی ساتھ نہیں جاتی، مگر نیت کا فتور انسان کی جان لے لیتا ہے۔
حوالہ/مصنف: یہ ایک عالمگیر اخلاقی حکایت ہے جس کی سب سے مشہور ادبی صورت انگریز شاعر جیفری چاسر کی “The Pardoner’s Tale” (کینٹربری ٹیلز کا حصہ) ہے، جبکہ ملتی جلتی حکایات مشرقی اور اسلامی حکایتی ادب میں بھی صدیوں سے رائج ہیں۔ مصنف روایتی طور پر نامعلوم، ادبی تدوین چاسر سے منسوب۔
