ماں کی محبت…!

ماں کی محبت…!


سعودی عرب کے علاقے قصیم کی شرعی عدالت میں ایک ایسا مقدمہ پیش ہوا جس نے نہ صرف عدالت میں موجود لوگوں کو اشکبار کر دیا بلکہ پورے ملک میں اس کا چرچا ہونے لگا۔

ہم اکثر عدالتوں میں جائیداد، دولت، دشمنی اور خاندانی جھگڑوں کے مقدمات سنتے ہیں، مگر یہ مقدمہ مختلف تھا…

یہ مقدمہ ماں کی خدمت کرنے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے تھا۔

اس شخص کا نام حیزان الفہیدی الحربی تھا، جو قصیم کے قریب ایک گاؤں میں رہتا تھا۔

وہ اپنی بوڑھی اور کمزور ماں کا بڑا بیٹا تھا۔ والدہ کی خدمت ہی اس کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بن چکی تھی۔ ان کی مالی حیثیت بھی معمولی تھی، مگر حیزان کے لیے دنیا کی سب سے قیمتی دولت اس کی ماں تھی۔

ایک دن اس کا چھوٹا بھائی دوسرے شہر سے آیا اور کہنے لگا:

“میں چاہتا ہوں کہ امی میرے ساتھ شہر چلیں تاکہ میں ان کی خدمت کر سکوں۔”

حیزان نے انکار کر دیا۔

وہ کہنے لگا:

“جب تک مجھ میں طاقت ہے، میں اپنی ماں کی خدمت خود کروں گا۔”

دونوں بھائیوں کے درمیان اختلاف بڑھا تو معاملہ عدالت تک جا پہنچا۔

کئی پیشیاں ہوئیں، مگر کوئی بھی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہ تھا۔

آخرکار قاضی نے کہا:

“اگلی پیشی پر اپنی والدہ کو بھی ساتھ لے کر آؤ، انہی سے پوچھ لیتے ہیں کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔”

اگلے دن دونوں بھائی اپنی ضعیف والدہ کو عدالت لے آئے۔

قاضی نے محبت بھرے انداز میں پوچھا:

“اماں! آپ کس بیٹے کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں؟”

بوڑھی ماں نے ایسا جواب دیا جس نے ہر دل کو ہلا کر رکھ دیا۔

انہوں نے فرمایا:

“میرے لیے فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے۔ اگر حیزان میری ایک آنکھ ہے تو اس کا بھائی میری دوسری آنکھ ہے۔ میں دونوں سے یکساں محبت کرتی ہوں۔”

قاضی نے حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ چھوٹے بھائی کے حق میں دے دیا، کیونکہ اس کے پاس والدہ کی دیکھ بھال کے لیے زیادہ سہولیات موجود تھیں۔

فیصلہ سنتے ہی حیزان ٹوٹ کر رو پڑا۔

وہ اس لیے نہیں رو رہا تھا کہ مقدمہ ہار گیا…

وہ اس لیے رو رہا تھا کہ اب اسے اپنی ماں کی خدمت کرنے کی سعادت نصیب نہیں ہوگی۔

اس کی ہچکیاں، اس کے آنسو اور اس کا درد دیکھ کر عدالت میں موجود بہت سے لوگوں کی آنکھیں بھی بھر آئیں۔

🌿 سبق:

یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اصل کامیابی دولت، جائیداد یا دنیاوی مقام میں نہیں، بلکہ والدین، خصوصاً ماں کی خدمت میں ہے۔

کتنے خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جو والدین کی خدمت کو بوجھ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت سمجھتے ہیں۔

آئیے! جب تک ہمارے والدین ہمارے ساتھ ہیں، ان کی قدر کریں، ان کی خدمت کریں، ان کے لیے وقت نکالیں اور ان کی دعائیں حاصل کریں، کیونکہ ایک دن یہی موقع ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو کمنٹ کریں اور اس کو اپنے دوستوں کے ساتھ شئیر ضرور کریں ۔۔۔۔

Leave a Reply

NZ's Corner