ایک گاوں ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام میک تھا ۔ اس کا باپ کھیتی باڑئ کرتا تھا جو کہ بہت محنت اور مشقت کا کام تھا میک سکول پڑھنے جاتا ۔ اور سکول سے واپس أکر اپنے دوستوں کے ساتھ آوارہ پھرتا ۔ اور کھیل کود میں وقت گزارتا ۔ اس کے باپ نے سوچا کہ سکول سے پڑھنے کے بعد میک کو کسی کام میں مصروف رکھا جاے ۔ اور کھیل کود کے ساتھ کچھ سیکھنے کو بھی مل جاے ۔ میک کے باپ میک کو مرغی خرید کر دئ ۔ اور اسے اس کی دیکھ بھال کرنے کو کہا میک نے مرغی کے لیے ایک خوبصورت ڈربہ بنایا ۔ میک سکول سے گھر أنے کے بعد مرغی کو دانہ کھلاتا اور اسے پانی پلاتا۔ وقت گزرتا گیا ۔ میک کو جو پیسے ان میں کچھ خرچ کرتا اور باقی پیسوں سے مرغی کے لیے دانہ خریدتا ۔ مرغی نے بہت سے انڈے دیے ۔ ایک دن انڈوں سے بہت سے چوزے نکلے ۔ میک بہت خوش ہوا ۔ اب روزانہ میک چوزوں کے ساتھ کھیلتا اور ان کی خوب دیکھ بھال اس طرح میک نے مرغیاں پالنا سیکھ لیا ۔ میک جب بڑا ہوا ۔ تب میک کے پاس ہزاروں مرغیاں تھی ۔ میک نے اپنا ایک بہت خوبصورت پولٹری فارم بنایا ۔ کیوں کہ میک بچپن میں ہی کھیل ہی کھیل میں مرغیاں پالنا سیکھ چکا تھا ۔ جس کا اسے بہت فائیدہ ہوا ۔ میک ایک کامیاب بزنس مین بن چکا تھا ۔ اور وہ روزانہ مرغیاں اور ان کے انڈے فروخت کر کے ماہانہ لاکھوں روپے کماتا ۔
اور میک کے بچن کے دوست أوارہ گردی کرنے اور فضول خرچ کرنے کی وجہ سے بے روزگا در بدر پھرتے رہتے کیوں کہ انھوں نے
بچپن میں آوارہ گردی اور کھیل کود میں وقت برباد کیا ۔
اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے ۔ ہمیشہ اپنے بڑوں سے کچھ نا کچھ ضرور سکھیں تاکہ وہ ہمارے آنے والے وقت میں ہمارے کام آسکے
اگر اپ کو کہانی پسند آئی ہو تو کمنٹ میں بتائیں اور پروفائل کو فالو کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں شکریہ
