ایک زمانے میں ایک انصاف پسند بادشاہ حکومت کرتا تھا۔
اسی سلطنت میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا، جس کی ساری زندگی محنت کرتے گزری تھی۔ اس کا ایک چھوٹا سا خوبصورت باغ تھا، جس کے پھل بیچ کر وہ اپنے گھر کا چولہا جلاتا تھا۔
ایک دن شہر کے ایک دولت مند تاجر نے اپنی طاقت اور اثر و رسوخ استعمال کرکے اس باغ پر قبضہ کر لیا۔
بوڑھا کسان روتا ہوا بادشاہ کے دربار میں پہنچا۔ بادشاہ نے تاجر کو بھی طلب کیا۔
تاجر نے کچھ کاغذات پیش کرتے ہوئے کہا:
“بادشاہ سلامت! یہ باغ میری ملکیت ہے، میرے پاس اس کے ثبوت موجود ہیں۔”
کاغذات بظاہر درست تھے، حتیٰ کہ ان پر کسان کا انگوٹھا بھی لگا ہوا تھا۔
بادشاہ نے کسان سے پوچھا:
“تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ یہ باغ تمہارا ہے؟”
بوڑھے کسان نے آنسو پونچھ کر کہا:
“بادشاہ سلامت! میرے پاس کاغذ نہیں، مگر اس باغ کا ایک ایک درخت میری محنت کی گواہی دیتا ہے۔ میں نے اپنی جوانی اس زمین میں لگا دی۔ اگر مٹی بول سکتی تو خود بتا دیتی کہ اس کا مالک کون ہے۔”
بادشاہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر اٹھ کر بولا:
“اگر کاغذات جھوٹ بول سکتے ہیں تو آج ہم مٹی سے سچ پوچھ لیتے ہیں۔”
وہ دونوں کو لے کر باغ میں پہنچا۔ بادشاہ نے ایک خالی بوری منگوائی اور تاجر سے کہا:
“اس باغ کی مٹی سے یہ بوری بھر کر اپنے کندھے پر رکھو اور چند قدم چل کر دکھاؤ۔”
تاجر نے مٹی سے بوری بھر لی اور اسے کندھے پر رکھا، مگر بوری کا وزن اٹھاتے ہی اس کے قدم لڑکھڑا گئے۔ وہ چند قدم تو کیا، ایک قدم بھی ٹھیک سے نہ چل سکا۔
بادشاہ نے کہا:
“جب تم اس باغ کی صرف ایک بوری مٹی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، تو سوچو! جس زمین پر تم نے ظلم سے قبضہ کیا ہے، اس کا حساب قیامت کے دن کیسے دو گے؟”
یہ سنتے ہی تاجر کا غرور ٹوٹ گیا۔ اس نے اعتراف کر لیا کہ اس نے جعلی کاغذات بنوا کر کسان کا باغ ہتھیایا تھا۔
بادشاہ نے باغ فوراً کسان کو واپس کر دیا اور تاجر کو اس کے جرم کی سزا دی۔ اس سے وصول کیا گیا جرمانہ غریبوں میں تقسیم کر دیا گیا۔

