مغل خاندان کا خوفناک راز.جب بھائی نے ہی بھائی کا سر کاٹ کر باپ کے سامنے پیش کیا —
اورنگزیب نے اپنے ہی بھائیوں کو کیوں مروایا؟

مغل خاندان کا خوفناک راز.جب بھائی نے ہی بھائی کا سر کاٹ کر باپ کے سامنے پیش کیا —
اورنگزیب نے اپنے ہی بھائیوں کو کیوں مروایا؟

سترھویں صدی میں مغلیہ سلطنت دنیا کی سب سے طاقتور سلطنتوں میں شمار ہوتی تھی۔ دہلی کے شاہی محل سونے، ہیرے جواہرات اور بے شمار خزانوں سے بھرے ہوئے تھے۔ ہزاروں سپاہی شاہی دروازوں پر پہرہ دیتے تھے اور پورے ہندوستان پر مغل بادشاہ کا حکم چلتا تھا۔ اس وقت تخت پر شاہ جہاں بیٹھا تھا، وہی بادشاہ جس نے اپنی محبوب بیوی ممتاز محل کی یاد میں تاج محل تعمیر کروایا تھا۔ باہر سے یہ سلطنت جتنی شاندار نظر آتی تھی، اندر سے اتنی ہی خطرناک سازشوں میں ڈوبی ہوئی تھی، کیونکہ شاہ جہاں کے چاروں بیٹے جوان ہو چکے تھے اور ہر ایک کے دل میں سلطنت کا تاج چمکنے لگا تھا۔

شاہ جہاں کا سب سے بڑا بیٹا دارا شکوہ تھا۔ وہ نرم مزاج، علم دوست اور صوفی خیالات رکھنے والا شہزادہ تھا۔ اسے کتابوں، فلسفے اور روحانیت سے دلچسپی تھی۔ وہ ہندو اور مسلمان فلسفے کو قریب لانا چاہتا تھا اور اسی وجہ سے دربار کے کئی سخت مذہبی لوگ اسے پسند نہیں کرتے تھے۔ دوسرا بیٹا شاہ شجاع تھا جو بنگال کا حاکم تھا۔ وہ عیش و عشرت پسند مگر بہادر انسان سمجھا جاتا تھا۔ تیسرا بیٹا اورنگزیب تھا، خاموش، صابر، انتہائی ذہین اور خطرناک۔ بچپن سے ہی اس کی دلچسپی جنگ، تلوار، مذہبی تعلیم اور حکمرانی میں تھی۔ چوتھا بیٹا مراد بخش تھا جو جلد غصے میں آنے والا، بہادر مگر جذباتی طبیعت کا مالک تھا۔

شاہی محل میں اصل مسئلہ یہ تھا کہ شاہ جہاں اپنے سب بیٹوں میں سے دارا شکوہ کو سب سے زیادہ پسند کرتا تھا۔ وہ اکثر اسے اپنے ساتھ دربار میں بٹھاتا، سلطنت کے معاملات اس کے سپرد کرتا اور سب کے سامنے اسے اپنا جانشین ظاہر کرتا تھا۔ یہی چیز اورنگزیب کے دل میں آگ کی طرح جلتی رہتی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اگر دارا بادشاہ بن گیا تو باقی بھائیوں کے لیے زندہ رہنا مشکل ہو جائے گا۔ مغل خاندان میں ایک خطرناک روایت تھی کہ تخت ہمیشہ تلوار سے حاصل کیا جاتا تھا۔ جو جیت جاتا وہی بادشاہ بنتا اور باقی بھائی اکثر قتل کر دیے جاتے تھے۔

سن سولہ سو ستاون میں اچانک شاہ جہاں شدید بیمار پڑ گیا۔ پورے ہندوستان میں خبر پھیل گئی کہ بادشاہ مرنے والا ہے۔ بس یہی وہ لمحہ تھا جب چاروں بھائی ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔ دارا شکوہ نے فوراً دہلی اور شاہی خزانے پر قبضہ مضبوط کر لیا۔ شاہ شجاع نے بنگال میں خود کو بادشاہ قرار دے دیا۔ مراد بخش نے گجرات میں تاج پہن لیا۔ مگر اورنگزیب خاموش رہا۔ وہ جانتا تھا کہ جلد بازی کرنے والے اکثر ہار جاتے ہیں۔

اورنگزیب نے سب سے پہلے اپنے چھوٹے بھائی مراد بخش کو دھوکے سے اپنے ساتھ ملا لیا۔ اس نے مراد سے وعدہ کیا کہ اگر وہ اس کا ساتھ دے تو سلطنت دونوں بھائی آپس میں تقسیم کر لیں گے۔ مراد اس کی باتوں میں آ گیا۔ پھر دونوں نے مل کر دارا شکوہ کے خلاف لشکر تیار کیا۔ سولہ سو اٹھاون میں جنگ ہوئی جسے تاریخ میں ساموگڑھ کی جنگ کہا جاتا ہے۔ ہزاروں سپاہی، توپیں، ہاتھی اور گھڑ سوار میدان میں اترے۔ دارا شکوہ کے پاس بڑی فوج تھی مگر وہ اچھا سپہ سالار نہیں تھا جبکہ اورنگزیب نہایت چالاک جنگی ذہن رکھتا تھا۔ کئی گھنٹوں کی خونریز لڑائی کے بعد دارا کی فوج ٹوٹ گئی اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگ گیا۔

اس شکست کے بعد اورنگزیب سیدھا آگرہ پہنچا جہاں اس کا باپ شاہ جہاں موجود تھا۔ اس نے اپنے ہی باپ کو قلعے میں قید کر دیا تاکہ کوئی شخص شاہ جہاں کے نام پر بغاوت نہ کر سکے۔ کہا جاتا ہے کہ شاہ جہاں اپنی زندگی کے آخری آٹھ سال اسی قید میں گزارتا رہا اور روز دور سے تاج محل کو دیکھتا رہتا تھا جہاں اس کی محبوب بیوی دفن تھی۔

دوسری طرف دارا شکوہ مسلسل ایک شہر سے دوسرے شہر بھاگتا رہا۔ آخرکار ایک افغان سردار نے لالچ میں آ کر اسے گرفتار کر لیا اور اورنگزیب کے حوالے کر دیا۔ پھر دہلی نے ایک ایسا منظر دیکھا جسے لوگ برسوں بھول نہ سکے۔ دارا شکوہ کو زنجیروں میں جکڑ کر، میلے کپڑے پہنا کر اور ہاتھی پر بٹھا کر دہلی کی گلیوں میں گھمایا گیا تاکہ عوام کو دکھایا جا سکے کہ اب سلطنت کا اصل مالک اورنگزیب ہے۔ بعد میں دربار کے علماء سے فتویٰ لیا گیا کہ دارا شکوہ گمراہ ہو چکا ہے۔ پھر سولہ سو انسٹھ میں اسے قتل کر دیا گیا۔ روایت ہے کہ اس کا سر کاٹ کر ایک صندوق میں بند کیا گیا اور بوڑھے شاہ جہاں کے پاس بھیجا گیا۔ جب شاہ جہاں نے صندوق کھولا تو اندر اپنے پسندیدہ بیٹے کا کٹا ہوا سر پڑا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس لمحے بوڑھا بادشاہ ٹوٹ کر رہ گیا۔

اب مراد بخش باقی تھا، وہی بھائی جس نے اورنگزیب کو تخت تک پہنچانے میں مدد دی تھی۔ مراد کو یقین تھا کہ اب وہ سلطنت میں شریک حکمران بنے گا۔ ایک رات اورنگزیب نے اسے دعوت پر بلایا۔ مراد نے خوب شراب پی۔ جب وہ نشے میں بے ہوش ہوا تو اورنگزیب کے سپاہیوں نے اسے گرفتار کر لیا۔ بعد میں اس پر ایک پرانے قتل کا مقدمہ کھولا گیا اور سولہ سو اکسٹھ میں اسے سزائے موت دے دی گئی۔ اس طرح اورنگزیب نے اپنے سب سے قریبی اتحادی بھائی کو بھی راستے سے ہٹا دیا۔

اب صرف شاہ شجاع باقی رہ گیا تھا۔ وہ بنگال سے بھاگ کر پہلے مشرقی علاقوں میں چھپا، پھر خاندان سمیت برما کی طرف نکل گیا۔ ابتدا میں وہاں کے بادشاہ نے اسے پناہ دی مگر بعد میں اس کے خزانے کے لالچ میں اس پر حملہ کر دیا۔ مختلف روایات کے مطابق شاہ شجاع اور اس کے خاندان کو قتل کر دیا گیا یا ہمیشہ کے لیے غائب کر دیا گیا۔ یوں شاہ جہاں کے چاروں بیٹوں میں سے صرف اورنگزیب زندہ بچا۔

اب پورے ہندوستان پر اورنگزیب کی حکومت قائم ہو چکی تھی۔ اس نے تقریباً پچاس سال حکومت کی۔ سلطنت کو جنوب تک پھیلا دیا، بے شمار جنگیں لڑیں، سخت قوانین نافذ کیے اور مسلسل بغاوتیں کچلتا رہا۔ مگر انہی جنگوں نے سلطنت کو اندر سے کھوکھلا کرنا شروع کر دیا۔ مرہٹے، سکھ اور کئی راجپوت حکمران اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ خزانہ خالی ہونے لگا اور سلطنت تھکن کا شکار ہونے لگی۔

زندگی کے آخری برسوں میں اورنگزیب بوڑھا ہو چکا تھا۔ اس کی داڑھی سفید ہو گئی تھی، جسم کمزور ہو چکا تھا اور وہ مسلسل جنگوں میں گھرا رہتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ بڑھاپے میں وہ اکثر خاموش رہنے لگا تھا۔ وہ اپنے خیمے میں بیٹھ کر قرآن لکھتا، ٹوپیاں سیتا اور انہی سے اپنا ذاتی خرچ پورا کرتا تھا۔ اس کے دل میں شاید یہ احساس پیدا ہو چکا تھا کہ تخت کے لیے بہایا گیا خون اب اسے اندر سے کھا رہا ہے۔

سن سترہ سو سات میں جب وہ دکن کی مہمات کے دوران شدید کمزور ہو چکا تھا تو بیماری نے اسے بستر پر گرا دیا۔ آخری دنوں میں اس نے اپنے بیٹوں کو خط لکھے جن میں عجیب مایوسی نظر آتی تھی۔ اس نے لکھا کہ وہ دنیا میں خالی ہاتھ آیا تھا اور اب گناہوں کا بوجھ اٹھا کر جا رہا ہے۔ روایت ہے کہ موت سے پہلے وہ بہت خاموش ہو گیا تھا اور بار بار اپنی زندگی کے فیصلوں پر غور کرتا رہتا تھا۔ پھر ایک دن ہندوستان کا سب سے طاقتور بادشاہ خاموشی سے مر گیا۔

حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جس شخص نے اتنی بڑی سلطنت پر حکومت کی، اس کی قبر نہایت سادہ بنائی گئی۔ نہ کوئی عظیم مقبرہ، نہ سونے کے گنبد، نہ تاج محل جیسی شان و شوکت… صرف مٹی کی ایک سادہ قبر۔

اورنگزیب تخت تو جیت گیا تھا… مگر اس جنگ میں اس نے اپنے بھائی، اپنے باپ کی محبت، اپنے خاندان کا سکون اور شاید اپنی اندرونی خوشی سب کچھ کھو دیا تھا۔

Leave a Reply

NZ's Corner