ایک شخص ایئرپورٹ کے لاؤنج میں بیٹھا سگریٹ کے کش لگا رہا تھا۔ ایک دوسرا شخص کافی دیر سے اسے مسلسل دیکھے جا رہا تھا۔ بالآخر وہ اٹھا اور سگریٹ پینے والے کے پاس جا کر بولا:
’’بھائی! برا نہ منائیں تو ایک بات پوچھوں؟‘‘
سگریٹ نوش نے کہا: ’’جی، فرمائیے۔‘‘
وہ شخص بولا: ’’میں کافی دیر سے دیکھ رہا ہوں کہ آپ ایک کے بعد ایک سگریٹ پی رہے ہیں۔ دن میں کتنے پیکٹ پی لیتے ہیں؟‘‘
سگریٹ نوش نے جواب دیا: ’’یہی کوئی تین پیکٹ۔‘‘
یہ سن کر ارسطو صاحب نے سگریٹ کے ایک پیکٹ کی قیمت اور اس شخص کی عمر کا اندازہ لگایا، فوراً حساب کتاب کیا اور بولے:
’’ذرا سوچیے! اگر آپ سگریٹ نہ پیتے تو اب تک اتنے لاکھ روپے بچا چکے ہوتے۔‘‘
سگریٹ نوش مسکرایا اور بولا: ’’جناب! ایک بات میں بھی پوچھ لوں؟‘‘
ارسطو صاحب نے کہا: ’’جی ضرور!‘‘
اس نے سامنے کھڑے جہاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا: ’’یہ جہاز تو یقیناً آپ ہی کا ہوگا، کیونکہ آپ تو خاصے سمجھ دار اور بچت کرنے والے انسان معلوم ہوتے ہیں!‘‘
ارسطو صاحب بولے: ’’نہیں جناب! میں تو محض ایک مسافر ہوں۔‘‘
سگریٹ نوش نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: ’’جناب! وہ جہاز میرا ہے۔‘‘
یہ حکایت بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ بعض لوگ خود کو ارسطو سمجھ کر دوسروں کو ایسے مشورے دینے لگتے ہیں، گویا وہ خود دنیا کے کامیاب ترین انسان ہوں اور دوسروں کو زندگی گزارنے کا سلیقہ ہی نہ ہو۔
یاد رکھیے! ہر انسان کے حالات، ترجیحات اور زندگی کے تجربات مختلف ہوتے ہیں۔ کسی کی زندگی کو چند لمحوں میں دیکھ کر اس کے فیصلوں پر رائے قائم کرنا دانش مندی نہیں۔
کوشش کریں کہ مشورہ تبھی دیں جب کوئی آپ سے مانگے یا واقعی اس کی ضرورت ہو۔ بلاوجہ دوسروں کی زندگی میں مداخلت کو اپنی عادت نہ بنائیں، کیونکہ بعض اوقات خود کو عقلِ کل سمجھنے کا یہی رویہ انسان کے لیے شرمندگی کا باعث بن جاتا ہے۔


