ایک گاؤں میں ایک غریب گدھا رہتا تھا۔ صبح سے شام تک بوجھ اٹھاتا، ڈانٹ کھاتا، کبھی سوکھی گھاس ملتی تو کبھی وہ بھی نصیب نہ ہوتی۔ ایک دن اس نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا۔
“بس! اب نہیں، ایسی زندگی سے تو جنگل اچھا ہے۔”
رات کے اندھیرے میں وہ رسی تڑوا کر بھاگا اور کئی میل چلنے کے بعد ایک بڑے جنگل میں پہنچ گیا۔
بھوک سے اس کا برا حال تھا۔
چلتے چلتے اسے ایک خوبصورت دکان جنگل میں نظر آئی۔
دکان پر ایک بندر بیٹھا تھا۔
گدھا ڈرتے ڈرتے آگے بڑھا۔
بندر نے سر اٹھائے بغیر پوچھا، “فرمائیے، کیا چاہیے؟”
گدھا تو کئی دن کا بھوکا تھا۔
وہ ایک ایک کر کے بولنے لگا،
“گاجریں دے دو، کچھ گھاس بھی، تھوڑے سیب، وہ سامنے والی مولیاں بھی اور اگر ممکن ہو تو وہ گنے بھی رکھ دو”
دکاندار بندر خاموشی سے سب چیزیں تھیلے میں بھرتا گیا۔
جب تھیلا بھر گیا تو اس نے معمول کے مطابق پوچھا،
“حضور، پیسے لو گے یا دو گے؟”
گدھا چونک گیا۔
“کیا کہا؟”
بندر نے دوبارہ پوچھا،
“پیسے لو گے یا دو گے؟”
گدھے نے دل ہی دل میں کہا، “یہ بندر شاید میری طرح زیادہ بوجھ اٹھا اٹھا کر پاگل ہو گیا ہے”
اس نے فوراً جواب دیا، “بھئی اگر لینے کو مل رہے ہیں تو لے لیتا ہوں”
بندر نے مسکرا کر تھیلے کے ساتھ ایک تھیلی سکوں کی بھی اس کے ہاتھ میں رکھ دی۔
گدھے کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
وہ باہر نکلا اور خوشی سے اچھلنے لگا۔
“واہ رے جنگل”
“کھانا بھی مفت اوپر سے جیب خرچ بھی”
اب تو گدھے کی عید ہو گئی۔
وہ دن میں چار چار، پانچ پانچ مرتبہ مختلف دکانوں پر جاتا۔
کھانا کھاتا، تھیلے بھرواتا اور ہر بار پوچھا جاتا،
“پیسے لو گے یا دو گے؟”
اور ہر بار وہ سینہ تان کر کہتا، “لوں گا”
چند ہی مہینوں میں اس کی حالت بدل گئی۔
جو گدھا پہلے پسلیاں گنتا پھرتا تھا،
اب اس کی گردن میں چربی کے حلقے پڑ گئے تھے۔
پیٹ اتنا نکل آیا تھا کہ چلتے وقت پہلے وہ آتا تھا، پھر گدھا۔
وہ جنگل کے دوسرے جانوروں سے کہتا پھرتا،
“لوگ کہتے تھے انسان اشرف المخلوقات ہے، ارے بھائی! اصل انسان تو یہ بندر ہیں۔ کھانا بھی دیتے ہیں، پیسے بھی دیتے ہیں، اور اوپر سے مسکرا کر رخصت بھی کرتے ہیں”
ایک سال گزر گیا۔
ایک صبح وہ مزے سے ایک درخت کے نیچے خراٹے لے رہا تھا کہ اچانک دو گینڈے وردی پہنے ہوئے آئے۔
“چلیے حضور!” گدھا ہڑبڑا کر اٹھا۔
“کہاں؟”
“سرکاری دفتر”
گدھا کانپ گیا۔
“میں نے کیا جرم کیا ہے؟”
“وہی جا کر معلوم ہو جائے گا۔”
کچھ دیر بعد وہ جنگل کی عدالت میں کھڑا تھا۔
سامنے شیر بادشاہ بیٹھا تھا۔
گدھا گھبرا کر بولا، “حضور! میں بے قصور ہوں!”
شیر نے رجسٹر کھولا اور مسکرا کر کہا،
“ہمیں معلوم ہے۔”
“بلکہ تم تو ہمارے بہترین شہری ثابت ہوئے ہو”
گدھا حیران۔
“پھر بلایا کیوں ہے؟”
شیر نے کہا، “کیا تمہیں معلوم نہیں تھا کہ ہماری حکومت کا قانون کیا ہے؟”
گدھے نے نفی میں سر ہلایا۔
شیر بولا، “جو جانور بے روزگار، بے سہارا یا بھوکا ہو، حکومت اسے مفت کھانا دیتی ہے، خرچ دیتی ہے، اور خوب کھلاتی پلاتی ہے۔
گدھے نے خوش ہو کر کہا،
“ماشاءاللہ! بہت اچھی حکومت ہے”
شیر نے رجسٹر بند کیا اور مسکرا کر بولا،
“بالکل”
“لیکن شرط بھی ہے۔”
گدھے کی خوشی آدھی رہ گئی۔
“کون سی شرط؟”
شیر نے کہا، “جب تم صحت مند اور طاقتور ہو جاؤ گے”
“تو پھر حکومت جتنا کھلاتی ہے، اس سے دوگنا کام بھی لیتی ہے۔”
اسی وقت ایک ہاتھی آگے آیا۔
اس نے گدھے کے سامنے اتنی بڑی گاڑی لا کھڑی کی کہ گدھے کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
ہاتھی ہنس کر بولا،
“مبارک ہو!”
“آج سے تم بغیر تنخوہ سرکاری ملازم ہو”
گدھے نے گاڑی کی طرف دیکھا، پھر اپنے موٹے پیٹ کی طرف،پھر آسمان کی طرف اور لمبی آہ بھر کر بولا،
“ہائے رے میری عقل”
“مجھے لگا تھا مفت کی روٹیاں نصیب ہو گئی ہیں”
“یہ تو پتہ ہی نہیں تھا کہ حکومت پہلے موٹا کرتی ہے، پھر کہتی ہے، اب اٹھاؤ بوجھ”
پوری عدالت قہقہوں سے گونج اٹھی۔
شیر بھی اپنی ہنسی نہ روک سکا۔
اور بندر دکاندار دور کھڑا زیرِ لب مسکراتے ہوئے کہا، جناب “دنیا میں مفت صرف مشورہ ملتا ہے باقی ہر مفت چیز کا بل، کسی نہ کسی دن ضرور آتا ہے”
حاصلِ سبق:
“اس دنیا میں کوئی بھی چیز واقعی مفت نہیں ملتی۔ ہر نعمت، ہر آسائش اور ہر فائدے کی ایک قیمت ضرور ہوتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بعض قیمتیں ہم فوراً ادا کر دیتے ہیں، اور بعض کا حساب وقت ہم سے بعد میں لیتا ہے۔”
