موت کے فرشتے سے سودا…..

موت کے فرشتے سے سودا…..

وہ شخص شہر کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس کی کئی فیکٹریاں تھیں، عالی شان بنگلے تھے، قیمتی گاڑیاں تھیں، اور بینک اکاؤنٹس میں اتنا سرمایہ تھا کہ آنے والی کئی نسلیں بھی آرام سے زندگی گزار سکتیں۔

اب وہ ریٹائرمنٹ کے قریب تھا۔

وہ اکثر اپنے دوستوں سے کہتا:

“بس چند ماہ اور… پھر میں سکون سے زندگی گزاروں گا۔ دنیا گھوموں گا، اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ وقت گزاروں گا، پرانے دوستوں سے ملوں گا، اور زندگی کے اصل مزے لوں گا۔”

مگر زندگی کے اپنے منصوبے ہوتے ہیں…

ایک رات، جب وہ اپنے خوابوں کے مستقبل کے بارے میں سوچ رہا تھا، اچانک کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔

اس نے سر اٹھایا تو سامنے موت کا فرشتہ کھڑا تھا۔

اس کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔

“ک… کون ہو تم؟”

فرشتے نے پرسکون لہجے میں جواب دیا:

“میں تمہاری روح لینے آیا ہوں۔ تمہارا وقت ختم ہو چکا ہے۔”

یہ سن کر اس کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔

“نہیں! یہ نہیں ہو سکتا! میں نے ابھی جینا شروع ہی کہاں کیا ہے؟ میری ریٹائرمنٹ تو ابھی آئی بھی نہیں!”

اس نے جلدی سے خود کو سنبھالا اور کہا:

“میں بہت امیر ہوں۔ تم جتنی رقم مانگو، میں دوں گا۔ بس مجھے کچھ وقت دے دو۔”

موت کا فرشتہ خاموش رہا۔

اس نے اپنی پیشکش بڑھا دی۔

“میں تمہیں کروڑوں دوں گا…”

کوئی جواب نہیں۔

“میں تمہیں اربوں دوں گا…”

خاموشی برقرار رہی۔

اب اس کی آواز کانپنے لگی۔

“میری آدھی دولت لے لو… بس ایک سال دے دو!”

لیکن موت کے فرشتے کے چہرے پر کوئی تبدیلی نہ آئی۔

اب وہ گھٹنوں کے بل گر چکا تھا۔

اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

“خدا کے لیے… صرف ایک دن دے دو۔ میں اپنے بچوں کو گلے لگانا چاہتا ہوں۔ اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھنا چاہتا ہوں۔ سورج کو ڈوبتے ہوئے آخری بار دیکھنا چاہتا ہوں۔”

مگر جواب پھر بھی وہی تھا۔

“نہیں۔”

اب اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اس دنیا میں ایک چیز ایسی بھی ہے جو دولت سے نہیں خریدی جا سکتی۔

وقت…

مایوسی کے عالم میں اس نے آخری کوشش کی۔

“میری ساری دولت لے لو… سب کچھ لے لو! میرے محلات، میری گاڑیاں، میرے بینک اکاؤنٹس… صرف ایک گھنٹہ دے دو۔ صرف ایک گھنٹہ!”

موت کے فرشتے نے نفی میں سر ہلا دیا۔

اس لمحے اسے سمجھ آ گیا کہ وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی جنگ ہار چکا ہے۔

وہ جنگ جس میں دنیا کا ہر انسان آخرکار ہار جاتا ہے۔

پھر اس نے دھیمی آواز میں کہا:

“اگر ایک گھنٹہ نہیں… تو کیا ایک منٹ مل سکتا ہے؟ صرف ایک منٹ، تاکہ میں دنیا والوں کے لیے ایک پیغام لکھ سکوں؟”

فرشتے نے اجازت دے دی۔

کپکپاتے ہاتھوں سے اس نے کاغذ اٹھایا اور اپنی زندگی کے آخری الفاظ لکھے:

اگر تم یہ پیغام پڑھ رہے ہو تو یاد رکھو:
وقت، دولت سے زیادہ قیمتی ہے۔
اپنے پیاروں کے لیے وقت نکالو، اپنے خوابوں کو مت ٹالو، اور زندگی کے ہر لمحے کی قدر کرو۔
ایک دن تمہارے پاس سب کچھ ہو سکتا ہے… مگر وقت نہیں۔”

خط مکمل ہوا…

اور اگلے ہی لمحے اس کی زندگی کی گھڑی ہمیشہ کے لیے رک گئی۔

دولت دوبارہ کمائی جا سکتی ہے، کھوئی ہوئی چیزیں واپس مل سکتی ہیں، لیکن گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ اس لیے زندگی کے ہر لمحے کو قیمتی سمجھیں، کیونکہ وقت ہی انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner