آج سے صدیوں پہلے مصر کے ایک قدیم اور مصروف بازار میں ایک بوڑھا درویش روزانہ مٹی کی چٹائی بچھائے بیٹھا کرتا تھا۔ اس کے پاس نہ دولت تھی، نہ جاہ و منصب، لیکن اس کے سامنے ایک پرانا لکڑی کا ترازو رکھا رہتا تھا۔ لوگ دور دور سے اس کے پاس آتے، کیونکہ مشہور تھا کہ وہ ترازو انصاف اور سچائی کا فیصلہ کرتا ہے۔
درویش خاموش مزاج تھا، مگر جب کوئی شخص تول میں کمی یا ناانصافی کی شکایت لے کر آتا تو وہ اپنے عجیب ترازو سے حقیقت واضح کر دیتا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس کے پاس کوئی لوہے کے باٹ نہیں تھے۔ وہ صرف مٹی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ترازو میں رکھتا، اور ترازو درست وزن بتا دیتا۔
ایک دن دوپہر کی شدید گرمی میں بازار کا سب سے دولت مند مگر انتہائی لالچی تاجر وہاں آیا۔ وہ غریبوں کا حق مار کر امیر بنا تھا اور اپنی دولت پر بے حد مغرور تھا۔ اس نے اپنے نوکر کو اشارہ کیا، جس نے سونے سے بنا ایک بھاری ہاتھی درویش کے سامنے رکھ دیا۔
تاجر تکبر سے بولا:
“اے درویش! سنا ہے تمہارا ترازو ہر چیز کا صحیح وزن بتاتا ہے۔ ذرا یہ بھی بتاؤ کہ میرے اس سونے کے ہاتھی کے برابر دنیا میں کون سی قیمتی چیز ہے؟”
درویش نے خاموشی سے سونے کا ہاتھی ترازو کے ایک پلے میں رکھا۔ فوراً وہ پلہ بھاری ہو کر نیچے جھک گیا۔ پھر اس نے زمین سے ایک مٹھی مٹی اٹھائی اور دوسرے پلے میں ڈال دی۔
جیسے ہی مٹی ترازو میں گری، حیران کن طور پر مٹی والا پلہ نیچے چلا گیا اور سونے کا بھاری ہاتھی اوپر اٹھ گیا۔
یہ منظر دیکھ کر تاجر غصے سے کانپ اٹھا۔
“یہ ناممکن ہے! مٹی سونے سے بھاری کیسے ہو سکتی ہے؟”
درویش نے گہری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا:
“اے نادان انسان! یہ مٹی انسان کے لالچ کا وزن ہے، جسے دنیا کا سارا سونا بھی نہیں بھر سکتا۔ یاد رکھ، ایک دن تو بھی اسی مٹی میں جا ملے گا، اور تب تیرے خزانے تیرے کسی کام نہیں آئیں گے۔”
یہ الفاظ سن کر تاجر پر ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور وہ وہیں زمین پر گر پڑا۔
✨ سبق یہ ہے کہ انسان کی خواہشات اور لالچ کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ دنیا کی ہر دولت حاصل کرنے کے بعد بھی دل خالی رہتا ہے، اور آخرکار قبر کی مٹی ہی اس لالچ کا خاتمہ کرتی ہے۔
